احادیث
#3564
سنن ترمذی - Supplication
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے رب! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے کہا“ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا: «اللهم عافه أو اشفه» ”اے اللہ! انہیں عافیت دے، یا شفاء دے“، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن علي، قال كنت شاكيا فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اقول اللهم ان كان اجلي قد حضر فارحني وان كان متاخرا فارفغني وان كان بلاء فصبرني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف قلت " . قال فاعاد عليه ما قال قال فضربه برجله فقال " اللهم عافه او اشفه " . شعبة الشاك . فما اشتكيت وجعي بعد . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3564
- Book Index
- 195
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
