احادیث
#3512
سنن ترمذی - Supplication
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا سلمة بن وردان، عن انس بن مالك، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل قال " سل ربك العافية والمعافاة في الدنيا والاخرة " . ثم اتاه في اليوم الثاني فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل فقال له مثل ذلك ثم اتاه في اليوم الثالث فقال له مثل ذلك . قال " فاذا اعطيت العافية في الدنيا واعطيتها في الاخرة فقد افلحت " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه انما نعرفه من حديث سلمة بن وردان
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3512
- Book Index
- 143
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
