احادیث
#3420
سنن ترمذی - Supplication
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! جس چیز میں بھی اختلاف ہوا ہے اس میں حق کو اپنانے، حق کو قبول کرنے کی اپنے اذن و حکم سے مجھے ہدایت فرما، ( توفیق دے ) کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وغير، واحد، قالوا اخبرنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثنا ابو سلمة، قال سالت عايشة رضى الله عنها باى شيء كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح صلاته اذا قام من الليل قالت كان اذا قام من الليل افتتح صلاته فقال " اللهم رب جبريل وميكاييل واسرافيل فاطر السموات والارض وعالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق باذنك انك تهدي من تشاء الى صراط مستقيم " . قال هذا حديث حسن غريب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3420
- Book Index
- 51
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
