Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔
حدثنا هناد، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن بلال، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين والخمار
ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! ( یہ ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بالوں کو چھوؤ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الرحمن بن اسحاق، هو القرشي عن ابي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر، قال سالت جابر بن عبد الله عن المسح، على الخفين فقال السنة يا ابن اخي . قال وسالته عن المسح، على العمامة فقال امس الشعر الماء
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن خالته، ميمونة قالت وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا فاغتسل من الجنابة فاكفا الاناء بشماله على يمينه فغسل كفيه ثم ادخل يده في الاناء فافاض على فرجه ثم دلك بيده الحايط او الارض ثم مضمض واستنشق وغسل وجهه وذراعيه ثم افاض على راسه ثلاثا ثم افاض على ساير جسده ثم تنحى فغسل رجليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ام سلمة وجابر وابي سعيد وجبير بن مطعم وابي هريرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہو گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يغتسل من الجنابة بدا فغسل يديه قبل ان يدخلهما الاناء ثم غسل فرجه ويتوضا وضوءه للصلاة ثم يشرب شعره الماء ثم يحثي على راسه ثلاث حثيات " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره اهل العلم في الغسل من الجنابة انه يتوضا وضوءه للصلاة ثم يفرغ على راسه ثلاث مرات ثم يفيض الماء على ساير جسده ثم يغسل قدميه . والعمل على هذا عند اهل العلم وقالوا ان انغمس الجنب في الماء ولم يتوضا اجزاه وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہو گئی، یا فرمایا: جب تم ایسا کر لے تو پاک ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہو جائے گا ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن سعيد المقبري، عن عبد الله بن رافع، عن ام سلمة، قالت قلت يا رسول الله اني امراة اشد ضفر راسي افانقضه لغسل الجنابة قال " لا انما يكفيك ان تحثين على راسك ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضين على ساير جسدك الماء فتطهرين " . او قال " فاذا انت قد تطهرت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم ان المراة اذا اغتسلت من الجنابة فلم تنقض شعرها ان ذلك يجزيها بعد ان تفيض الماء على راسها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا الحارث بن وجيه، قال حدثنا مالك بن دينار، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر " . قال وفي الباب عن علي وانس . قال ابو عيسى حديث الحارث بن وجيه حديث غريب لا نعرفه الا من حديثه وهو شيخ ليس بذاك وقد روى عنه غير واحد من الايمة . وقد تفرد بهذا الحديث عن مالك بن دينار ويقال الحارث بن وجيه ويقال ابن وجبة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا قول ہے کہ غسل کے بعد وضو نہ کرے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتوضا بعد الغسل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى وهذا قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ان لا يتوضا بعد الغسل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فعلته انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم فاغتسلنا . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عمرو ورافع بن خديج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مرفوع حدیث مروی ہے کہ ”جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے“ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا جاوز الختان الختان وجب الغسل " . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . قال وقد روي هذا الحديث عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه " اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل " . وهو قول اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وعايشة والفقهاء من التابعين ومن بعدهم مثل سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق قالوا اذا التقى الختانان وجب الغسل
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صرف منی ( نکلنے ) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا يونس بن يزيد، عن الزهري، عن سهل بن سعد، عن ابى بن كعب، قال انما كان الماء من الماء رخصة في اول الاسلام ثم نهي عنها
اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، ۳- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما بھی شامل ہیں، مروی ہے، ۴- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی ( شرمگاہ ) میں جماع کرے تو دونوں ( میاں بیوی ) پر غسل واجب ہو جائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، عن الزهري، بهذا الاسناد مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وانما كان الماء من الماء في اول الاسلام ثم نسخ بعد ذلك . وهكذا روى غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابى بن كعب ورافع بن خديج . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم على انه اذا جامع الرجل امراته في الفرج وجب عليهما الغسل وان لم ينزلا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے“ کا تعلق احتلام سے ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن ابي الجحاف، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال انما الماء من الماء في الاحتلام . قال ابو عيسى سمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لم نجد هذا الحديث الا عند شريك . قال ابو عيسى وابو الجحاف اسمه داود بن ابي عوف . ويروى عن سفيان الثوري قال حدثنا ابو الجحاف وكان مرضيا . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان بن عفان وعلي بن ابي طالب والزبير وطلحة وابي ايوب وابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " الماء من الماء
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا: ”وہ غسل کرے“ اور اس شخص کے بارے میں ( پوچھا گیا ) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا: ”اس پر غسل نہیں“ ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی ( شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ آئے صرف عبداللہ ابن عمر عمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر عمری کی یحییٰ بن سعید نے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے تو غسل کرے، یہی سفیان ثوری اور احمد کا بھی قول ہے۔ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہو گا جب وہ تری نطفے کی تری ہو، یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور جب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا حماد بن خالد الخياط، عن عبد الله بن عمر، هو العمري عن عبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يجد البلل ولا يذكر احتلاما قال " يغتسل " . وعن الرجل يرى انه قد احتلم ولم يجد بللا قال " لا غسل عليه " . قالت ام سلمة يا رسول الله هل على المراة ترى ذلك غسل قال " نعم ان النساء شقايق الرجال " . قال ابو عيسى وانما روى هذا الحديث عبد الله بن عمر عن عبيد الله بن عمر حديث عايشة في الرجل يجد البلل ولا يذكر احتلاما . وعبد الله بن عمر ضعفه يحيى بن سعيد من قبل حفظه في الحديث . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين اذا استيقظ الرجل فراى بلة انه يغتسل . وهو قول سفيان الثوري واحمد . وقال بعض اهل العلم من التابعين انما يجب عليه الغسل اذا كانت البلة بلة نطفة . وهو قول الشافعي واسحاق . واذا راى احتلاما ولم ير بلة فلا غسل عليه عند عامة اهل العلم
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل“، ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق البلخي، حدثنا هشيم، عن يزيد بن ابي زياد، ح قال وحدثنا محمود بن غيلان، حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن المذى فقال " من المذى الوضوء ومن المني الغسل " . قال وفي الباب عن المقداد بن الاسود وابى بن كعب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن علي بن ابي طالب عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه " من المذى الوضوء ومن المني الغسل " . وهو قول عامة اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم وبه يقول سفيان والشافعي واحمد واسحاق
سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں، ۳- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا۔ امام احمد کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن عبيد، هو ابن السباق عن ابيه، عن سهل بن حنيف، قال كنت القى من المذى شدة وعناء فكنت اكثر منه الغسل فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم وسالته عنه فقال " انما يجزيك من ذلك الوضوء " . فقلت يا رسول الله كيف بما يصيب ثوبي منه قال " يكفيك ان تاخذ كفا من ماء فتنضح به ثوبك حيث ترى انه اصاب منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح ولا نعرفه الا من حديث محمد بن اسحاق في المذى مثل هذا . وقد اختلف اهل العلم في المذى يصيب الثوب فقال بعضهم لا يجزي الا الغسل وهو قول الشافعي واسحاق . وقال بعضهم يجزيه النضح . وقال احمد ارجو ان يجزيه النضح بالماء
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے ( اوڑھنے کے لیے ) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہو گیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ۱؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، قال ضاف عايشة ضيف فامرت له بملحفة صفراء فنام فيها فاحتلم فاستحيا ان يرسل بها وبها اثر الاحتلام فغمسها في الماء ثم ارسل بها فقالت عايشة لم افسد علينا ثوبنا انما كان يكفيه ان يفركه باصابعه وربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم باصابعي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم من الفقهاء مثل سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق قالوا في المني يصيب الثوب يجزيه الفرك وان لم يغسل . وهكذا روي عن منصور عن ابراهيم عن همام بن الحارث عن عايشة مثل رواية الاعمش . وروى ابو معشر هذا الحديث عن ابراهيم عن الاسود عن عايشة وحديث الاعمش اصح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ”کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی“ ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ۱؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ ( کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے ) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کر لو چاہے اذخر ( گھاس ) ہی سے ہو۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا ابو معاوية، عن عمرو بن ميمون بن مهران، عن سليمان بن يسار، عن عايشة، انها غسلت منيا من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عباس . وحديث عايشة انها غسلت منيا من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم - ليس بمخالف لحديث الفرك لانه وان كان الفرك يجزي فقد يستحب للرجل ان لا يرى على ثوبه اثره . قال ابن عباس المني بمنزلة المخاط فامطه عنك ولو باذخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب ولا يمس ماء
اس سند سے بھی ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، نحوه . قال ابو عيسى وهذا قول سعيد بن المسيب وغيره . وقد روى غير، واحد، عن الاسود، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يتوضا قبل ان ينام . وهذا اصح من حديث ابي اسحاق عن الاسود . وقد روى عن ابي اسحاق هذا الحديث شعبة والثوري وغير واحد . ويرون ان هذا غلط من ابي اسحاق
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ وضو کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عمر رضی الله عنہ والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- یہی قول نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کر لے ۲؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم اينام احدنا وهو جنب قال " نعم اذا توضا " . قال وفي الباب عن عمار وعايشة وجابر وابي سعيد وام سلمة . قال ابو عيسى حديث عمر احسن شيء في هذا الباب واصح . وهو قول غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق قالوا اذا اراد الجنب ان ينام توضا قبل ان ينام