Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی ۲؎ اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ۳؎۔ ۲- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، ح وحدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن سماك، عن مصعب بن سعد، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقبل صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول " . قال هناد في حديثه " الا بطهور " . قال ابو عيسى هذا الحديث اصح شيء في هذا الباب واحسن . وفي الباب عن ابي المليح عن ابيه وابي هريرة وانس . وابو المليح بن اسامة اسمه عامر ويقال زيد بن اسامة بن عمير الهذلي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن بن عيسى القزاز، حدثنا مالك بن انس، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضا العبد المسلم او المومن فغسل وجهه خرجت من وجهه كل خطيية نظر اليها بعينيه مع الماء او مع اخر قطر الماء او نحو هذا واذا غسل يديه خرجت من يديه كل خطيية بطشتها يداه مع الماء او مع اخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهو حديث مالك عن سهيل عن ابيه عن ابي هريرة . وابو صالح والد سهيل هو ابو صالح السمان واسمه ذكوان . وابو هريرة اختلف في اسمه فقالوا عبد شمس وقالوا عبد الله بن عمرو وهكذا قال محمد بن اسماعيل وهو الاصح . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان بن عفان وثوبان والصنابحي وعمرو بن عبسة وسلمان وعبد الله بن عمرو . والصنابحي الذي روى عن ابي بكر الصديق ليس له سماع من رسول الله صلى الله عليه وسلم واسمه عبد الرحمن بن عسيلة ويكنى ابا عبد الله رحل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقبض النبي صلى الله عليه وسلم وهو في الطريق وقد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم احاديث . والصنابح بن الاعسر الاحمسي صاحب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له الصنابحي ايضا وانما حديثه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اني مكاثر بكم الامم فلا تقتتلن بعدي
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وهناد، ومحمود بن غيلان، قالوا حدثنا وكيع، عن سفيان، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن محمد ابن الحنفية، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم " . قال ابو عيسى هذا الحديث اصح شيء في هذا الباب واحسن . وعبد الله بن محمد بن عقيل هو صدوق وقد تكلم فيه بعض اهل العلم من قبل حفظه . قال ابو عيسى وسمعت محمد بن اسماعيل يقول كان احمد بن حنبل واسحاق بن ابراهيم والحميدي يحتجون بحديث عبد الله بن محمد بن عقيل . قال محمد وهو مقارب الحديث . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر وابي سعيد
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز جنت کی کنجی ہے، اور نماز کی کنجی وضو ہے“۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن زنجويه البغدادي وغير واحد قال حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا سليمان بن قرم، عن ابي يحيى القتات، عن مجاهد، عن جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الجنة الصلاة ومفتاح الصلاة الوضوء
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے، ۳- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں: کہ ہو سکتا ہے قتادہ نے اسے ( زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا وكيع، عن شعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء قال " اللهم اني اعوذ بك قال شعبة وقد قال مرة اخرى اعوذ بك من الخبث والخبيث او الخبث والخبايث " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وزيد بن ارقم وجابر وابن مسعود . قال ابو عيسى حديث انس اصح شيء في هذا الباب واحسن . وحديث زيد بن ارقم في اسناده اضطراب روى هشام الدستوايي وسعيد بن ابي عروبة عن قتادة فقال سعيد عن القاسم بن عوف الشيباني عن زيد بن ارقم . وقال هشام الدستوايي عن قتادة عن زيد بن ارقم . ورواه شعبة ومعمر عن قتادة عن النضر بن انس فقال شعبة عن زيد بن ارقم . وقال معمر عن النضر بن انس عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى سالت محمدا عن هذا فقال يحتمل ان يكون قتادة روى عنهما جميعا
انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اخبرنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل الخلاء قال " اللهم اني اعوذ بك من الخبث والخبايث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «غفرانك» یعنی ”اے اللہ: میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲؎، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا ہی کی حدیث معروف ہے ۳؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا مالك بن اسماعيل، عن اسراييل بن يونس، عن يوسف بن ابي بردة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا خرج من الخلاء قال " غفرانك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث اسراييل عن يوسف بن ابي بردة . وابو بردة بن ابي موسى اسمه عامر بن عبد الله بن قيس الاشعري . ولا نعرف في هذا الباب الا حديث عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتيتم الغايط فلا تستقبلوا القبلة بغايط ولا بول ولا تستدبروها ولكن شرقوا او غربوا " . فقال ابو ايوب فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت مستقبل القبلة فننحرف عنها ونستغفر الله . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي ومعقل بن ابي الهيثم ويقال معقل بن ابي معقل وابي امامة وابي هريرة وسهل بن حنيف . قال ابو عيسى حديث ابي ايوب احسن شيء في هذا الباب واصح . وابو ايوب اسمه خالد بن زيد . والزهري اسمه محمد بن مسلم بن عبيد الله بن شهاب الزهري وكنيته ابو بكر . قال ابو الوليد المكي قال ابو عبد الله محمد بن ادريس الشافعي انما معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " لا تستقبلوا القبلة بغايط ولا ببول ولا تستدبروها " . انما هذا في الفيافي واما في الكنف المبنية له رخصة في ان يستقبلها . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم . وقال احمد بن حنبل رحمه الله انما الرخصة من النبي صلى الله عليه وسلم في استدبار القبلة بغايط او بول واما استقبال القبلة فلا يستقبلها . كانه لم ير في الصحراء ولا في الكنف ان يستقبل القبلة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ، عائشہ، اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، عن ابان بن صالح، عن مجاهد، عن جابر بن عبد الله، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة ببول فرايته قبل ان يقبض بعام يستقبلها . وفي الباب عن ابي قتادة وعايشة وعمار بن ياسر . قال ابو عيسى حديث جابر في هذا الباب حديث حسن غريب
عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے کہ ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر رضی الله عنہ کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث ( جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ رضی الله عنہ کا واسطہ ہے ) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔
وقد روى هذا الحديث ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، عن ابي قتادة، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يبول مستقبل القبلة . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا ابن لهيعة . وحديث جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم اصح من حديث ابن لهيعة . وابن لهيعة ضعيف عند اهل الحديث ضعفه يحيى بن سعيد القطان وغيره من قبل حفظه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک روز میں ( اپنی بہن ) حفصہ رضی الله عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن ابن عمر، قال رقيت يوما على بيت حفصة فرايت النبي صلى الله عليه وسلم على حاجته مستقبل الشام مستدبر الكعبة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، بریدہ، عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی یہ حدیث سب سے زیادہ عمدہ اور صحیح ہے، ۳- عمر رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو“، چنانچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو عبدالکریم ابن ابی المخارق نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ایوب سختیانی نے ان کی تضعیف کی ہے اور ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ حدیث عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ یہ حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی حدیث سے ( روایت کے اعتبار سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۴- اس باب میں بریدۃ رضی الله عنہ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ۵- کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت ادب کے اعتبار سے ہے حرام نہیں ہے ۳؎، ۶- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے منقول ہے کہ تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو یہ پھوہڑ پن ہے ۴؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قالت من حدثكم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قايما فلا تصدقوه ما كان يبول الا قاعدا . قال وفي الباب عن عمر وبريدة وعبد الرحمن بن حسنة . قال ابو عيسى حديث عايشة احسن شيء في هذا الباب واصح . وحديث عمر انما روي من حديث عبد الكريم بن ابي المخارق عن نافع عن ابن عمر عن عمر قال راني النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابول قايما فقال " يا عمر لا تبل قايما " . فما بلت قايما بعد . قال ابو عيسى وانما رفع هذا الحديث عبد الكريم بن ابي المخارق وهو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه ايوب السختياني وتكلم فيه . وروى عبيد الله عن نافع عن ابن عمر قال قال عمر رضى الله عنه ما بلت قايما منذ اسلمت . وهذا اصح من حديث عبد الكريم وحديث بريدة في هذا غير محفوظ . ومعنى النهى عن البول قايما على التاديب لا على التحريم . وقد روي عن عبد الله بن مسعود قال ان من الجفاء ان تبول وانت قايم
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں ( آ کر ) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وکیع کہتے ہیں: یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے ۱؎ ابووائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے روایت کیا ( مغیرہ کی روایت سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۳- محدثین میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت دی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى سباطة قوم فبال عليها قايما فاتيته بوضوء فذهبت لاتاخر عنه فدعاني حتى كنت عند عقبيه فتوضا ومسح على خفيه . قال ابو عيسى وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يحدث بهذا الحديث عن الاعمش . ثم قال وكيع هذا اصح حديث روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في المسح . وسمعت ابا عمار الحسين بن حريث يقول سمعت وكيعا فذكر نحوه . قال ابو عيسى وهكذا روى منصور وعبيدة الضبي عن ابي وايل عن حذيفة مثل رواية الاعمش . وروى حماد بن ابي سليمان وعاصم بن بهدلة عن ابي وايل عن المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه وسلم وحديث ابي وايل عن حذيفة اصح . وقد رخص قوم من اهل العلم في البول قايما . قال ابو عيسى وعبيدة بن عمرو السلماني روى عنه ابراهيم النخعي . وعبيدة من كبار التابعين يروى عن عبيدة انه قال اسلمت قبل وفاة النبي صلى الله عليه وسلم بسنتين . وعبيدة الضبي صاحب ابراهيم هو عبيدة بن معتب الضبي ويكنى ابا عبد الكريم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہو جاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہو جاتے نہیں اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے: دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک رضی الله عنہ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد السلام بن حرب الملايي، عن الاعمش، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد الحاجة لم يرفع ثوبه حتى يدنو من الارض . قال ابو عيسى هكذا روى محمد بن ربيعة عن الاعمش عن انس هذا الحديث . وروى وكيع وابو يحيى الحماني عن الاعمش قال قال ابن عمر كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد الحاجة لم يرفع ثوبه حتى يدنو من الارض . وكلا الحديثين مرسل . ويقال لم يسمع الاعمش من انس ولا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وقد نظر الى انس بن مالك قال رايته يصلي . فذكر عنه حكاية في الصلاة . والاعمش اسمه سليمان بن مهران ابو محمد الكاهلي وهو مولى لهم . قال الاعمش كان ابي حميلا فورثه مسروق
ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے ۱؎۔ اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔
حدثنا محمد بن ابي عمر المكي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يمس الرجل ذكره بيمينه . وفي هذا الباب عن عايشة وسلمان وابي هريرة وسهل بن حنيف . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو قتادة الانصاري اسمه الحارث بن ربعي . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم كرهوا الاستنجاء باليمين
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال قيل لسلمان قد علمكم نبيكم صلى الله عليه وسلم كل شيء حتى الخراءة فقال سلمان اجل نهانا ان نستقبل القبلة بغايط او بول وان نستنجي باليمين او ان يستنجي احدنا باقل من ثلاثة احجار او ان نستنجي برجيع او بعظم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وخزيمة بن ثابت وجابر وخلاد بن السايب عن ابيه . قال ابو عيسى وحديث سلمان في هذا الباب حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم راوا ان الاستنجاء بالحجارة يجزي وان لم يستنج بالماء اذا انقى اثر الغايط والبول وبه يقول الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کر دیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ۳؎۔
حدثنا هناد، وقتيبة، قالا حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته فقال " التمس لي ثلاثة احجار " . قال فاتيته بحجرين وروثة فاخذ الحجرين والقى الروثة وقال " انها ركس " . قال ابو عيسى وهكذا روى قيس بن الربيع هذا الحديث عن ابي اسحاق عن ابي عبيدة عن عبد الله نحو حديث اسراييل . وروى معمر وعمار بن رزيق عن ابي اسحاق عن علقمة عن عبد الله . وروى زهير عن ابي اسحاق عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه الاسود بن يزيد عن عبد الله . وروى زكريا بن ابي زايدة عن ابي اسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد عن الاسود بن يزيد عن عبد الله . وهذا حديث فيه اضطراب . حدثنا محمد بن بشار العبدي حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سالت ابا عبيدة بن عبد الله هل تذكر من عبد الله شييا قال لا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ، سلمان، جابر، ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں۔ ۲- اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے بسند «داود ابن ابی ہند عن شعبی عن علقمہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ «لیلة الجن» میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۲؎ آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جو لمبی ہے، شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں ( جنوں ) کی خوراک ہے، ۳- گویا اسماعیل بن ابراہیم کی روایت حفص بن غیاث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎، ۴- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۵- اور اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا حفص بن غياث، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تستنجوا بالروث ولا بالعظام فانه زاد اخوانكم من الجن " . وفي الباب عن ابي هريرة وسلمان وجابر وابن عمر . قال ابو عيسى وقد روى هذا الحديث اسماعيل بن ابراهيم وغيره عن داود بن ابي هند عن الشعبي عن علقمة عن عبد الله انه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن - الحديث بطوله - فقال الشعبي ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تستنجوا بالروث ولا بالعظام فانه زاد اخوانكم من الجن " . وكان رواية اسماعيل اصح من رواية حفص بن غياث . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم . وفي الباب عن جابر وابن عمر رضى الله عنهما
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے ( یہ بات کہتے ) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی، انس، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۱؎، وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا قتيبة، ومحمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب البصري، قالا حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن معاذة، عن عايشة، قالت مرن ازواجكن ان يستطيبوا، بالماء فاني استحييهم فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعله " . وفي الباب عن جرير بن عبد الله البجلي وانس وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعليه العمل عند اهل العلم يختارون الاستنجاء بالماء وان كان الاستنجاء بالحجارة يجزي عندهم فانهم استحبوا الاستنجاء بالماء وراوه افضل . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن ابی قراد، ابوقتادہ، جابر، یحییٰ بن عبید عن أبیہ، ابو موسیٰ، ابن عباس اور بلال بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- روایت کی جاتی ہے کہ نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پیشاب کے لیے اس طرح جگہ ڈھونڈتے تھے جس طرح مسافر اترنے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے۔ ۴- ابوسلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن المغيرة بن شعبة، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم حاجته فابعد في المذهب . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن ابي قراد وابي قتادة وجابر ويحيى بن عبيد عن ابيه وابي موسى وابن عباس وبلال بن الحارث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يرتاد لبوله مكانا كما يرتاد منزلا . وابو سلمة اسمه عبد الله بن عبد الرحمن بن عوف الزهري