احادیث
#8
سنن ترمذی - Purification
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتيتم الغايط فلا تستقبلوا القبلة بغايط ولا بول ولا تستدبروها ولكن شرقوا او غربوا " . فقال ابو ايوب فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت مستقبل القبلة فننحرف عنها ونستغفر الله . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي ومعقل بن ابي الهيثم ويقال معقل بن ابي معقل وابي امامة وابي هريرة وسهل بن حنيف . قال ابو عيسى حديث ابي ايوب احسن شيء في هذا الباب واصح . وابو ايوب اسمه خالد بن زيد . والزهري اسمه محمد بن مسلم بن عبيد الله بن شهاب الزهري وكنيته ابو بكر . قال ابو الوليد المكي قال ابو عبد الله محمد بن ادريس الشافعي انما معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " لا تستقبلوا القبلة بغايط ولا ببول ولا تستدبروها " . انما هذا في الفيافي واما في الكنف المبنية له رخصة في ان يستقبلها . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم . وقال احمد بن حنبل رحمه الله انما الرخصة من النبي صلى الله عليه وسلم في استدبار القبلة بغايط او بول واما استقبال القبلة فلا يستقبلها . كانه لم ير في الصحراء ولا في الكنف ان يستقبل القبلة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #8
- Book Index
- 8
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
