Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے اور فرمایا : ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے ، ۲- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے ، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ، ۴- بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے جن میں سے ابن سیرین بھی ہیں ، ابن سیرین سے کہا گیا : کہا جاتا ہے کہ اکثر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، بشرطیکہ اس میں سے پانی بہ جاتا ہو
حدثنا علي بن حجر، واحمد بن محمد بن موسى، مردويه قالا اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن اشعث بن عبد الله، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يبول الرجل في مستحمه . وقال " ان عامة الوسواس منه " . قال وفي الباب عن رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث اشعث بن عبد الله ويقال له اشعث الاعمى . وقد كره قوم من اهل العلم البول في المغتسل وقالوا عامة الوسواس منه . ورخص فيه بعض اهل العلم منهم ابن سيرين وقيل له انه يقال ان عامة الوسواس منه فقال ربنا الله لا شريك له . وقال ابن المبارك قد وسع في البول في المغتسل اذا جرى فيه الماء . قال ابو عيسى حدثنا بذلك احمد بن عبدة الاملي عن حبان عن عبد الله بن المبارك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کو حرج اور مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بروایت ابوسلمہ، ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی الله عنہما کی مروی دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کا خیال ہے کہ ابوسلمہ کی زید بن خالد رضی الله عنہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، علی، عائشہ، ابن عباس، حذیفہ، زید بن خالد، انس، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، ام حبیبہ، ابوامامہ، ابوایوب، تمام بن عباس، عبداللہ بن حنظلہ، ام سلمہ، واثلہ بن الاسقع اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان اشق على امتي لامرتهم بالسواك عند كل صلاة " . قال ابو عيسى وقد روى هذا الحديث محمد بن اسحاق عن محمد بن ابراهيم عن ابي سلمة عن زيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث ابي سلمة عن ابي هريرة وزيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم كلاهما عندي صحيح لانه قد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث . وحديث ابي هريرة انما صح لانه قد روي من غير وجه . واما محمد بن اسماعيل فزعم ان حديث ابي سلمة عن زيد بن خالد اصح . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكر الصديق وعلي وعايشة وابن عباس وحذيفة وزيد بن خالد وانس وعبد الله بن عمرو وابن عمر وام حبيبة وابي امامة وابي ايوب وتمام بن عباس وعبد الله بن حنظلة وام سلمة وواثلة بن الاسقع وابي موسى
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر صلاۃ کے وقت ( وجوباً ) مسواک کرنے کا حکم دیتا، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ( راوی حدیث ) ابوسلمہ کہتے ہیں: اس لیے زید بن خالد رضی الله عنہ نماز کے لیے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پر بالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پر واپس رکھ لیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن زيد بن خالد الجهني، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لولا ان اشق على امتي لامرتهم بالسواك عند كل صلاة ولاخرت صلاة العشاء الى ثلث الليل " . قال فكان زيد بن خالد يشهد الصلوات في المسجد وسواكه على اذنه موضع القلم من اذن الكاتب لا يقوم الى الصلاة الا استن ثم رده الى موضعه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو نیند سے اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن ۱؎ میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر دو یا تین بار پانی نہ ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، جابر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: میں ہر سو کر اٹھنے والے کے لیے – چاہے وہ دوپہر میں قیلولہ کر کے اٹھا ہو یا کسی اور وقت میں – پسند کرتا ہوں کہ وہ جب تک اپنا ہاتھ نہ دھوئے اسے وضو کے پانی میں نہ ڈالے اور اگر اس نے دھونے سے پہلے ہاتھ ڈال دیا تو میں اس کے اس فعل کو مکروہ سمجھتا ہوں لیکن اس سے پانی فاسد نہیں ہو گا بشرطیکہ اس کے ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو ۲؎، احمد بن حنبل کہتے ہیں: جب کوئی رات کو جاگے اور دھونے سے پہلے پانی میں ہاتھ ڈال دے تو اس پانی کو میرے نزدیک بہا دینا بہتر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب وہ رات یا دن کسی بھی وقت نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے۔
حدثنا ابو الوليد، احمد بن بكار الدمشقي - يقال هو من ولد بسر بن ارطاة صاحب النبي صلى الله عليه وسلم حدثنا الوليد بن مسلم عن الاوزاعي عن الزهري عن سعيد بن المسيب وابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ احدكم من الليل فلا يدخل يده في الاناء حتى يفرغ عليها مرتين او ثلاثا فانه لا يدري اين باتت يده " . وفي الباب عن ابن عمر وجابر وعايشة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . قال الشافعي واحب لكل من استيقظ من النوم قايلة كانت او غيرها ان لا يدخل يده في وضويه حتى يغسلها فان ادخل يده قبل ان يغسلها كرهت ذلك له ولم يفسد ذلك الماء اذا لم يكن على يده نجاسة . وقال احمد بن حنبل اذا استيقظ من النوم من الليل فادخل يده في وضويه قبل ان يغسلها فاعجب الى ان يهريق الماء . وقال اسحاق اذا استيقظ من النوم بالليل او بالنهار فلا يدخل يده في وضويه حتى يغسلها
سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو «بسم اللہ» کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس باب میں کوئی ایسی حدیث نہیں معلوم جس کی سند عمدہ ہو، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر کوئی قصداً «بسم اللہ» کہنا چھوڑ دے تو وہ دوبارہ وضو کرے اور اگر بھول کر چھوڑے یا وہ اس حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو یہ اسے کافی ہو جائے گا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے اچھی یہی مذکورہ بالا حدیث رباح بن عبدالرحمٰن کی ہے، یعنی سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، وبشر بن معاذ العقدي، قالا حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن ابي ثفال المري، عن رباح بن عبد الرحمن بن ابي سفيان بن حويطب، عن جدته، عن ابيها، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه " . قال وفي الباب عن عايشة وابي سعيد وابي هريرة وسهل بن سعد وانس . قال ابو عيسى قال احمد بن حنبل لا اعلم في هذا الباب حديثا له اسناد جيد . وقال اسحاق ان ترك التسمية عامدا اعاد الوضوء وان كان ناسيا او متاولا اجزاه . قال محمد بن اسماعيل احسن شيء في هذا الباب حديث رباح بن عبد الرحمن . قال ابو عيسى ورباح بن عبد الرحمن عن جدته عن ابيها . وابوها سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل . وابو ثفال المري اسمه ثمامة بن حصين . ورباح بن عبد الرحمن هو ابو بكر بن حويطب . منهم من روى هذا الحديث فقال عن ابي بكر بن حويطب فنسبه الى جده
اس سند سے بھی سعید بن زید رضی الله عنہ سے اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني، حدثنا يزيد بن هارون، عن يزيد بن عياض، عن ابي ثفال المري، عن رباح بن عبد الرحمن بن ابي سفيان بن حويطب، عن جدته بنت سعيد بن زيد، عن ابيها، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
سلمہ بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، لقیط بن صبرہ، ابن عباس، مقدام بن معدیکرب، وائل بن حجر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمہ بن قیس والی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- جو کلی نہ کرے اور ناک میں پانی نہ چڑھائے اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے: ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی ان دونوں چیزوں کو وضو میں چھوڑ دے اور نماز پڑھ لے تو وہ نماز کو لوٹائے ۱؎ ان لوگوں کی رائے ہے کہ وضو اور جنابت دونوں میں یہ حکم یکساں ہے، ابن ابی لیلیٰ، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں، امام احمد ( مزید ) کہتے ہیں کہ ناک میں پانی چڑھانا کلی کرنے سے زیادہ تاکیدی حکم ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جنابت میں کلی نہ کرنے اور ناک نہ جھاڑنے کی صورت میں نماز لوٹائے اور وضو میں نہ لوٹائے ۲؎ یہ سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا قول ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ نہ وضو میں لوٹائے اور نہ جنابت میں کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں، تو جو انہیں وضو اور جنابت میں چھوڑ دے اس پر نماز لوٹانا واجب نہیں، یہ مالک اور شافعی کا آخری قول ہے ۳؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد بن زيد، وجرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سلمة بن قيس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضات فانتثر واذا استجمرت فاوتر " . قال وفي الباب عن عثمان ولقيط بن صبرة وابن عباس والمقدام بن معديكرب ووايل بن حجر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث سلمة بن قيس حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم فيمن ترك المضمضة والاستنشاق فقالت طايفة منهم اذا تركهما في الوضوء حتى صلى اعاد الصلاة وراوا ذلك في الوضوء والجنابة سواء . وبه يقول ابن ابي ليلى وعبد الله بن المبارك واحمد واسحاق . وقال احمد الاستنشاق اوكد من المضمضة . قال ابو عيسى وقالت طايفة من اهل العلم يعيد في الجنابة ولا يعيد في الوضوء وهو قول سفيان الثوري وبعض اهل الكوفة . وقالت طايفة لا يعيد في الوضوء ولا في الجنابة لانهما سنة من النبي صلى الله عليه وسلم فلا تجب الاعادة على من تركهما في الوضوء ولا في الجنابة . وهو قول مالك والشافعي في اخرة
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- عبداللہ بن زید رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- مالک، سفیان، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اسے صرف خالد ہی نے ذکر کیا ہے اور خالد محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہو گا، اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینا ہمیں زیادہ پسند ہے، شافعی کہتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو ایک ہی چلو میں جمع کرے تو جائز ہے لیکن اگر الگ الگ چلّو سے کرے تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے ۲؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم مضمض واستنشق من كف واحد فعل ذلك ثلاثا . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن عباس . قال ابو عيسى وحديث عبد الله بن زيد حسن غريب . وقد روى مالك وابن عيينة وغير واحد هذا الحديث عن عمرو بن يحيى ولم يذكروا هذا الحرف ان النبي صلى الله عليه وسلم مضمض واستنشق من كف واحد . وانما ذكره خالد بن عبد الله . وخالد بن عبد الله ثقة حافظ عند اهل الحديث . وقال بعض اهل العلم المضمضة والاستنشاق من كف واحد يجزي وقال بعضهم تفريقهما احب الينا . وقال الشافعي ان جمعهما في كف واحد فهو جايز وان فرقهما فهو احب الينا
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ۱؎ ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الكريم بن ابي المخارق ابي امية، عن حسان بن بلال، قال رايت عمار بن ياسر توضا فخلل لحيته فقيل له او قال فقلت له اتخلل لحيتك قال وما يمنعني ولقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخلل لحيته
اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عثمان رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۳- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال ( مسنون ) ہے اور اسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہو گا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہو جائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے ( وضو کو ) لوٹائے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن حسان بن بلال، عن عمار، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان وعايشة وام سلمة وانس وابن ابي اوفى وابي ايوب . قال ابو عيسى وسمعت اسحاق بن منصور يقول قال احمد بن حنبل قال ابن عيينة لم يسمع عبد الكريم من حسان بن بلال حديث التخليل . وقال محمد بن اسماعيل اصح شيء في هذا الباب حديث عامر بن شقيق عن ابي وايل عن عثمان . قال ابو عيسى وقال بهذا اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم راوا تخليل اللحية . وبه يقول الشافعي . وقال احمد ان سها عن تخليل اللحية فهو جايز . وقال اسحاق ان تركه ناسيا او متاولا اجزاه وان تركه عامدا اعاد
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، عن اسراييل، عن عامر بن شقيق، عن ابي وايل، عن عثمان بن عفان، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخلل لحيته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن بن عيسى القزاز، حدثنا مالك بن انس، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح راسه بيديه فاقبل بهما وادبر بدا بمقدم راسه ثم ذهب بهما الى قفاه ثم ردهما حتى رجع الى المكان الذي بدا منه ثم غسل رجليه . قال ابو عيسى وفي الباب عن معاوية والمقدام بن معديكرب وعايشة . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن زيد اصح شيء في هذا الباب واحسن وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے ( پہلے ) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر ( دوسری بار ) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے، ۲- اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں ۳؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ بن عفراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح براسه مرتين بدا بموخر راسه ثم بمقدمه وباذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وحديث عبد الله بن زيد اصح من هذا واجود اسنادا . وقد ذهب بعض اهل الكوفة الى هذا الحديث منهم وكيع بن الجراح
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ربیع رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا ( عمرو بن کعب یامی ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور بھی سندوں سے یہ بات مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور جعفر بن محمد، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ۲؎ احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۵- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا: کیا ایک مرتبہ سر کا مسح کر لینا کافی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اللہ کی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بكر بن مضر، عن ابن عجلان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ بن عفراء، انها رات النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا قالت مسح راسه ومسح ما اقبل منه وما ادبر وصدغيه واذنيه مرة واحدة " . قال وفي الباب عن علي وجد طلحة بن مصرف بن عمرو . قال ابو عيسى وحديث الربيع حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه مسح براسه مرة . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم . وبه يقول جعفر بن محمد وسفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق راوا مسح الراس مرة واحدة . حدثنا محمد بن منصور المكي قال سمعت سفيان بن عيينة يقول سالت جعفر بن محمد عن مسح الراس ايجزي مرة فقال اي والله
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن لھیعہ نے یہ حدیث بسند «حبان بن واسع عن أبیہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن زید رضی الله عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کا مسح اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے کیا، ۳- عمرو بن حارث کی روایت جسے انہوں نے حبان سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے ۱؎ کیونکہ اور بھی کئی سندوں سے عبداللہ بن زید وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان کی رائے ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عبد الله بن وهب، حدثنا عمرو بن الحارث، عن حبان بن واسع، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم توضا وانه مسح راسه بماء غير فضل يديه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى ابن لهيعة هذا الحديث عن حبان بن واسع عن ابيه عن عبد الله بن زيد ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا وانه مسح راسه بماء غبر من فضل يديه " . ورواية عمرو بن الحارث عن حبان اصح لانه قد روي من غير وجه هذا الحديث عن عبد الله بن زيد وغيره ان النبي صلى الله عليه وسلم اخذ لراسه ماء جديدا . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم راوا ان ياخذ لراسه ماء جديدا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ربیع رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی دونوں حصوں کا مسح کیا جائے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح براسه واذنيه ظاهرهما وباطنهما . قال ابو عيسى وفي الباب عن الربيع . قال ابو عيسى وحديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم يرون مسح الاذنين ظهورهما وبطونهما
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: ”دونوں کان سر میں داخل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قتیبہ کا کہنا ہے کہ حماد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے یا ابوامامہ کا، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ ہیں ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کان کے سامنے کا حصہ چہرہ میں سے ہے ( اس لیے اسے دھویا جائے ) اور پیچھے کا حصہ سر میں سے ہے ۲؎۔ ( اس لیے مسح کیا جائے ) اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کان کے سامنے کے حصہ کا مسح چہرہ کے ساتھ کرے ( یعنی چہرہ کے ساتھ دھوئے ) اور پچھلے حصہ کا سر کے ساتھ ۳؎، شافعی کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنت ہیں ( اس لیے ) دونوں کا مسح نئے پانی سے کرے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن سنان بن ربيعة، عن شهر بن حوشب، عن ابي امامة، قال توضا النبي صلى الله عليه وسلم فغسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ومسح براسه وقال " الاذنان من الراس " . قال ابو عيسى قال قتيبة قال حماد لا ادري هذا من قول النبي صلى الله عليه وسلم او من قول ابي امامة . قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن ليس اسناده بذاك القايم . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم ان الاذنين من الراس . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم ما اقبل من الاذنين فمن الوجه وما ادبر فمن الراس . قال اسحاق واختار ان يمسح مقدمهما مع الوجه وموخرهما مع راسه . وقال الشافعي هما سنة على حيالهما يمسحهما بماء جديد
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي هاشم، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا توضات فخلل الاصابع " . قال وفي الباب عن ابن عباس والمستورد وهو ابن شداد الفهري وابي ايوب الانصاري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم انه يخلل اصابع رجليه في الوضوء . وبه يقول احمد واسحاق . وقال اسحاق يخلل اصابع يديه ورجليه في الوضوء . وابو هاشم اسمه اسماعيل بن كثير المكي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد، هو الجوهري حدثنا سعد بن عبد الحميد بن جعفر، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن صالح، مولى التوامة عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضات فخلل بين اصابع يديك ورجليك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» ( ہاتھ کی چھوٹی انگلی ) سے ملتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ابن لھیعہ کے طریق ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن عمرو، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن المستورد بن شداد الفهري، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا توضا دلك اصابع رجليه بخنصره . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن لهيعة