Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ويل للاعقاب من النار " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعايشة وجابر وعبد الله بن الحارث هو ابن جزء الزبيدي ومعيقيب وخالد بن الوليد وشرحبيل بن حسنة وعمرو بن العاص ويزيد بن ابي سفيان . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ويل للاعقاب وبطون الاقدام من النار " . قال وفقه هذا الحديث انه لا يجوز المسح على القدمين اذا لم يكن عليهما خفان او جوربان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، جابر، بریدۃ، ابورافع، اور ابن الفاکہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عباس کی یہ حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- رشدین بن سعد وغیرہ بسند «ضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم عن أبیہ» سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، یہ ( روایت ) کچھ بھی نہیں ہے صحیح وہی روایت ہے جسے ابن عجلان، ہشام بن سعد، سفیان ثوری اور عبدالعزیز بن محمد نے بسند «زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس عن النبی کریم صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، وهناد، وقتيبة، قالوا حدثنا وكيع، عن سفيان، ح قال وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرة مرة . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وجابر وبريدة وابي رافع وابن الفاكه . قال ابو عيسى وحديث ابن عباس احسن شيء في هذا الباب واصح . وروى رشدين بن سعد وغيره هذا الحديث عن الضحاك بن شرحبيل عن زيد بن اسلم عن ابيه عن عمر بن الخطاب ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرة مرة . قال وليس هذا بشيء والصحيح ما روى ابن عجلان وهشام بن سعد وسفيان الثوري وعبد العزيز بن محمد عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے، ۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، ومحمد بن رافع، قالا حدثنا زيد بن حباب، عن عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، قال حدثني عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن بن هرمز، هو الاعرج عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرتين مرتين . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ثوبان عن عبد الله بن الفضل وهو اسناد حسن صحيح . قال ابو عيسى وقد روى همام عن عامر الاحول عن عطاء عن ابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا ثلاثا ثلاثا
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو ( دیوانگی اور وسوسہ ) میں مبتلا ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا ثلاثا ثلاثا . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان وعايشة والربيع وابن عمر وابي امامة وابي رافع وعبد الله بن عمرو ومعاوية وابي هريرة وجابر وعبد الله بن زيد وابى بن كعب . قال ابو عيسى حديث علي احسن شيء في هذا الباب واصح لانه قد روي من غير وجه عن علي رضوان الله عليه . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم ان الوضوء يجزي مرة مرة ومرتين افضل وافضله ثلاث وليس بعده شيء . وقال ابن المبارك لا امن اذا زاد في الوضوء على الثلاث ان ياثم . وقال احمد واسحاق لا يزيد على الثلاث الا رجل مبتلى
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں ( بیان کیا ہے ) ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا شريك، عن ثابت بن ابي صفية، قال قلت لابي جعفر حدثك جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرة مرة ومرتين مرتين وثلاثا ثلاثا قال نعم
یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔
قال ابو عيسى وروى وكيع، هذا الحديث عن ثابت بن ابي صفية، قال قلت لابي جعفر حدثك جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرة مرة قال نعم . حدثنا بذلك هناد وقتيبة قالا حدثنا وكيع عن ثابت بن ابي صفية . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث شريك لانه قد روي من غير وجه هذا عن ثابت نحو رواية وكيع . وشريك كثير الغلط وثابت بن ابي صفية هو ابو حمزة الثمالي
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پیر دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کے علاوہ اور بھی حدیثوں میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بعض اعضائے وضو کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا، ۳- بعض اہل علم نے اس بات کی اجازت دی ہے، ان کی رائے میں وضو میں بعض اعضاء کو تین بار، بعض کو دو بار اور بعض کو ایک بار دھونے میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا محمد بن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فغسل وجهه ثلاثا وغسل يديه مرتين مرتين ومسح براسه وغسل رجليه مرتين . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وقد ذكر في غير حديث ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا بعض وضويه مرة وبعضه ثلاثا . وقد رخص بعض اهل العلم في ذلك لم يروا باسا ان يتوضا الرجل بعض وضويه ثلاثا وبعضه مرتين او مرة
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا پھر تین دفعہ بازو دھوئے اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، وقتيبة، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، قال رايت عليا توضا فغسل كفيه حتى انقاهما ثم مضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ومسح براسه مرة ثم غسل قدميه الى الكعبين ثم قام فاخذ فضل طهوره فشربه وهو قايم ثم قال احببت ان اريكم كيف كان طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان وعبد الله بن زيد وابن عباس وعبد الله بن عمرو والربيع وعبد الله بن انيس وعايشة رضوان الله عليهم
عبد خیر نے بھی علی رضی الله عنہ سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عبد خير، ذكر عن علي، مثل حديث ابي حية الا ان عبد خير، قال كان اذا فرغ من طهوره اخذ من فضل طهوره بكفه فشربه . قال ابو عيسى حديث علي رواه ابو اسحاق الهمداني عن ابي حية وعبد خير والحارث عن علي وقد روى زايدة بن قدامة وغير واحد عن خالد بن علقمة عن عبد خير عن علي رضى الله عنه حديث الوضوء بطوله . وهذا حديث حسن صحيح . قال وروى شعبة هذا الحديث عن خالد بن علقمة فاخطا في اسمه واسم ابيه فقال مالك بن عرفطة عن عبد خير عن علي . قال وروي عن ابي عوانة عن خالد بن علقمة عن عبد خير عن علي . قال وروي عنه عن مالك بن عرفطة مثل رواية شعبة والصحيح خالد بن علقمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا: اے محمد! جب آپ وضو کریں تو ( شرمگاہ پر ) پانی چھڑک لیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں ۲؎، ۳- اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں، ۴- اس باب میں ابوالحکم بن سفیان، ابن عباس، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، واحمد بن ابي عبيد الله السليمي البصري، قالا حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة عن الحسن بن علي الهاشمي، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " جاءني جبريل فقال يا محمد اذا توضات فانتضح " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . قال وسمعت محمدا يقول الحسن بن علي الهاشمي منكر الحديث . قال وفي الباب عن ابي الحكم بن سفيان وابن عباس وزيد بن حارثة وابي سعيد الخدري . وقال بعضهم سفيان بن الحكم او الحكم بن سفيان واضطربوا في هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎ اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا ۲؎ اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے“ ۳؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا ادلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " اسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا الى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں «فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط» تین بار کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ – یا۔ ۔ ۔ عبیدہ بن عمرو – عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وحدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء، نحوه . وقال قتيبة في حديثه " فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط " . ثلاثا . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وعبد الله بن عمرو وابن عباس وعبيدة ويقال عبيدة بن عمرو وعايشة وعبد الرحمن بن عايش الحضرمي وانس . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة في هذا الباب حديث حسن صحيح . والعلاء بن عبد الرحمن هو ابن يعقوب الجهني الحرقي وهو ثقة عند اهل الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع بن الجراح، حدثنا عبد الله بن وهب، عن زيد بن حباب، عن ابي معاذ، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوء . قال ابو عيسى حديث عايشة ليس بالقايم ولا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب شيء . وابو معاذ يقولون هو سليمان بن ارقم وهو ضعيف عند اهل الحديث . قال وفي الباب عن معاذ بن جبل
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے: وضو کو ( قیامت کے دن ) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے، ۳- زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی ( قیامت کے روز ) تولا جائے گا ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا رشدين بن سعد، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عتبة بن حميد، عن عبادة بن نسى، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا توضا مسح وجهه بطرف ثوبه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب واسناده ضعيف . ورشدين بن سعد وعبد الرحمن بن زياد بن انعم الافريقي يضعفان في الحديث . وقد رخص قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم في التمندل بعد الوضوء ومن كرهه انما كرهه من قبل انه قيل ان الوضوء يوزن . وروي ذلك عن سعيد بن المسيب والزهري . حدثنا محمد بن حميد الرازي حدثنا جرير قال حدثنيه علي بن مجاهد عني وهو عندي ثقة عن ثعلبة عن الزهري قال انما كره المنديل بعد الوضوء لان الوضوء يوزن
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔
حدثنا جعفر بن محمد بن عمران الثعلبي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، عن معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيد الدمشقي، عن ابي ادريس الخولاني، وابي، عثمان عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء ثم قال اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين فتحت له ثمانية ابواب الجنة يدخل من ايها شاء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس وعقبة بن عامر . قال ابو عيسى حديث عمر قد خولف زيد بن حباب في هذا الحديث . قال وروى عبد الله بن صالح وغيره عن معاوية بن صالح عن ربيعة بن يزيد عن ابي ادريس عن عقبة بن عامر عن عمر . وعن ربيعة عن ابي عثمان عن جبير بن نفير عن عمر . وهذا حديث في اسناده اضطراب ولا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب كبير شيء . قال محمد وابو ادريس لم يسمع من عمر شييا
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، وعلي بن حجر، قالا حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابي ريحانة، عن سفينة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتوضا بالمد ويغتسل بالصاع . قال وفي الباب عن عايشة وجابر وانس بن مالك . قال ابو عيسى حديث سفينة حديث حسن صحيح . وابو ريحانة اسمه عبد الله بن مطر . وهكذا راى بعض اهل العلم الوضوء بالمد والغسل بالصاع . وقال الشافعي واحمد واسحاق ليس معنى هذا الحديث على التوقيت انه لا يجوز اكثر منه ولا اقل منه وهو قدر ما يكفي
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے، ۳- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن ( بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے ( یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے ) اور اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ۱؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا خارجة بن مصعب، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عتى بن ضمرة السعدي، عن ابى بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان للوضوء شيطانا يقال له الولهان فاتقوا وسواس الماء " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعبد الله بن مغفل . قال ابو عيسى حديث ابى بن كعب حديث غريب وليس اسناده بالقوي والصحيح عند اهل الحديث لانا لا نعلم احدا اسنده غير خارجة . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن الحسن قوله ولا يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء . وخارجة ليس بالقوي عند اصحابنا وضعفه ابن المبارك
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن اسحاق، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتوضا لكل صلاة طاهرا او غير طاهر . قال قلت لانس فكيف كنتم تصنعون انتم قال كنا نتوضا وضوءا واحدا . قال ابو عيسى وحديث حميد عن انس حديث حسن غريب من هذا الوجه والمشهور عند اهل الحديث حديث عمرو بن عامر الانصاري عن انس . وقد كان بعض اهل العلم يرى الوضوء لكل صلاة استحبابا لا على الوجوب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ۱؎، ۳- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔
وقد روي في، حديث عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من توضا على طهر كتب الله له به عشر حسنات " . قال وروى هذا الحديث الافريقي عن ابي غطيف عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك الحسين بن حريث المروزي حدثنا محمد بن يزيد الواسطي عن الافريقي . وهو اسناد ضعيف . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد القطان ذكر لهشام بن عروة هذا الحديث فقال هذا اسناد مشرقي . قال سمعت احمد بن الحسن يقول سمعت احمد بن حنبل يقول ما رايت بعيني مثل يحيى بن سعيد القطان
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے ( انس سے ) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن، هو ابن مهدي قالا حدثنا سفيان بن سعيد، عن عمرو بن عامر الانصاري، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا عند كل صلاة . قلت فانتم ما كنتم تصنعون قال كنا نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم نحدث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح