Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، ۳- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» ( مرسلاً روایت کیا ہے ) کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے“، ۴- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ۵- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۶- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ۷- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ۸- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۹- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا لكل صلاة فلما كان عام الفتح صلى الصلوات كلها بوضوء واحد ومسح على خفيه . فقال عمر انك فعلت شييا لم تكن فعلته . قال " عمدا فعلته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى هذا الحديث علي بن قادم عن سفيان الثوري وزاد فيه " توضا مرة مرة " . قال وروى سفيان الثوري هذا الحديث ايضا عن محارب بن دثار عن سليمان بن بريدة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتوضا لكل صلاة . ورواه وكيع عن سفيان عن محارب بن دثار عن سليمان بن بريدة عن ابيه . قال ورواه عبد الرحمن بن مهدي وغيره عن سفيان عن محارب بن دثار عن سليمان بن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهذا اصح من حديث وكيع . والعمل على هذا عند اهل العلم انه يصلي الصلوات بوضوء واحد ما لم يحدث وكان بعضهم يتوضا لكل صلاة استحبابا وارادة الفضل . ويروى عن الافريقي عن ابي غطيف عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من توضا على طهر كتب الله له به عشر حسنات " . وهذا اسناد ضعيف . وفي الباب عن جابر بن عبد الله ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر بوضوء واحد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ رضی الله عنہا نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، ۳- اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال حدثتني ميمونة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من الجنابة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول عامة الفقهاء ان لا باس ان يغتسل الرجل والمراة من اناء واحد . قال وفي الباب عن علي وعايشة وانس وام هاني وام صبية الجهنية وام سلمة وابن عمر . قال ابو عيسى وابو الشعثاء اسمه جابر بن زيد
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے ( وضو کرنے سے ) منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سليمان التيمي، عن ابي حاجب، عن رجل، من بني غفار قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فضل طهور المراة . قال وفي الباب عن عبد الله بن سرجس . قال ابو عيسى وكره بعض الفقهاء الوضوء بفضل طهور المراة . وهو قول احمد واسحاق كرها فضل طهورها ولم يريا بفضل سورها باسا
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں – «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن عاصم، قال سمعت ابا حاجب، يحدث عن الحكم بن عمرو الغفاري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتوضا الرجل بفضل طهور المراة . او قال " بسورها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو حاجب اسمه سوادة بن عاصم . وقال محمد بن بشار في حديثه نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتوضا الرجل بفضل طهور المراة . ولم يشك فيه محمد بن بشار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن ( ٹب ) سے ( پانی لے کر ) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس ( بچے ہوئے پانی ) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اغتسل بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم في جفنة فاراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتوضا منه فقالت يا رسول الله اني كنت جنبا . فقال " ان الماء لا يجنب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول سفيان الثوري ومالك والشافعي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ۱؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں؟ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۳؎، ۳- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۴- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، والحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن كعب، عن عبيد الله بن عبد الله بن رافع بن خديج، عن ابي سعيد الخدري، قال قيل يا رسول الله انتوضا من بير بضاعة وهي بير يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الماء طهور لا ينجسه شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد جود ابو اسامة هذا الحديث فلم يرو احد حديث ابي سعيد في بير بضاعة احسن مما روى ابو اسامة . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي سعيد . وفي الباب عن ابن عباس وعايشة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا“ ۲؎۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ ( ڈول ) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يسال عن الماء يكون في الفلاة من الارض وما ينوبه من السباع والدواب قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث " . قال عبدة قال محمد بن اسحاق القلة هي الجرار والقلة التي يستقى فيها . قال ابو عيسى وهو قول الشافعي واحمد واسحاق قالوا اذا كان الماء قلتين لم ينجسه شيء ما لم يتغير ريحه او طعمه وقالوا يكون نحوا من خمس قرب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ۱؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في الماء الدايم ثم يتوضا منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن جابر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ۱؎ ہے، اور اس کا مردار حلال ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- اور یہی صحابہ کرام رضی الله عنہم میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، ح وحدثنا الانصاري، اسحاق بن موسى حدثنا معن، حدثنا مالك، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، من ال ابن الازرق ان المغيرة بن ابي بردة، وهو من بني عبد الدار اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء فان توضانا به عطشنا افنتوضا من ماء البحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو الطهور ماوه الحل ميتته " . قال وفي الباب عن جابر والفراسي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر الفقهاء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وابن عباس لم يروا باسا بماء البحر . وقد كره بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الوضوء بماء البحر منهم ابن عمر وعبد الله بن عمرو . وقال عبد الله بن عمرو هو نار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ( کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا ) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ۱؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، وقتيبة، وابو كريب قالوا حدثنا وكيع، عن الاعمش، قال سمعت مجاهدا، يحدث عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر على قبرين فقال " انهما يعذبان وما يعذبان في كبير اما هذا فكان لا يستتر من بوله واما هذا فكان يمشي بالنميمة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وابي موسى وعبد الرحمن ابن حسنة وزيد بن ثابت وابي بكرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى منصور هذا الحديث عن مجاهد عن ابن عباس ولم يذكر فيه عن طاوس . ورواية الاعمش اصح . قال وسمعت ابا بكر محمد بن ابان البلخي مستملي وكيع يقول سمعت وكيعا يقول الاعمش احفظ لاسناد ابراهيم من منصور
ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ۱؎، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ام قيس بنت محصن، قالت دخلت بابن لي على النبي صلى الله عليه وسلم لم ياكل الطعام فبال عليه فدعا بماء فرشه عليه . قال وفي الباب عن علي وعايشة وزينب ولبابة بنت الحارث وهي ام الفضل بن عباس بن عبد المطلب وابي السمح وعبد الله بن عمرو وابي ليلى وابن عباس . قال ابو عيسى وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم مثل احمد واسحاق قالوا ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية وهذا ما لم يطعما فاذا طعما غسلا جميعا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا: ”تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو“ ( وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہو گئے ) تو ان لوگوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے، انہیں ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ ( وہ پیاس بجھانے کے لیے ) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا حميد، وقتادة، وثابت، عن انس، ان ناسا، من عرينة قدموا المدينة فاجتووها فبعثهم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ابل الصدقة وقال " اشربوا من البانها وابوالها " . فقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستاقوا الابل وارتدوا عن الاسلام فاتي بهم النبي صلى الله عليه وسلم فقطع ايديهم وارجلهم من خلاف وسمر اعينهم والقاهم بالحرة . قال انس فكنت ارى احدهم يكد الارض بفيه حتى ماتوا . وربما قال حماد يكدم الارض بفيه حتى ماتوا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن انس . وهو قول اكثر اهل العلم قالوا لا باس ببول ما يوكل لحمه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود ( سزاؤں ) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔
حدثنا الفضل بن سهل الاعرج البغدادي، حدثنا يحيى بن غيلان، قال حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سليمان التيمي، عن انس بن مالك، قال انما سمل النبي صلى الله عليه وسلم اعينهم لانهم سملوا اعين الرعاة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعلم احدا ذكره غير هذا الشيخ عن يزيد بن زريع . وهو معنى قوله : ( والجروح قصاص ) . وقد روي عن محمد بن سيرين قال انما فعل بهم النبي صلى الله عليه وسلم هذا قبل ان تنزل الحدود
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا وكيع، عن شعبة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا وضوء الا من صوت او ريح " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ ( مسجد سے ) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کر لے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہو جائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہو جاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان احدكم في المسجد فوجد ريحا بين اليتيه فلا يخرج حتى يسمع صوتا او يجد ريحا " . قال وفي الباب عن عبد الله بن زيد وعلي بن طلق وعايشة وابن عباس وابن مسعود وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول العلماء ان لا يجب عليه الوضوء الا من حدث يسمع صوتا او يجد ريحا . وقال عبد الله بن المبارك اذا شك في الحدث فانه لا يجب عليه الوضوء حتى يستيقن استيقانا يقدر ان يحلف عليه . وقال اذا خرج من قبل المراة الريح وجب عليها الوضوء . وهو قول الشافعي واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کو «حدث» ہو جائے ( یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے ) ۱؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لا يقبل صلاة احدكم اذا احدث حتى يتوضا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، - كوفي - وهناد ومحمد بن عبيد المحاربي المعنى واحد قالوا حدثنا عبد السلام بن حرب الملايي، عن ابي خالد الدالاني، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم نام وهو ساجد حتى غط او نفخ ثم قام يصلي . فقلت يا رسول الله انك قد نمت قال " ان الوضوء لا يجب الا على من نام مضطجعا فانه اذا اضطجع استرخت مفاصله " . قال ابو عيسى وابو خالد اسمه يزيد بن عبد الرحمن . قال وفي الباب عن عايشة وابن مسعود وابي هريرة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ۳- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ينامون ثم يقومون فيصلون ولا يتوضيون . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وسمعت صالح بن عبد الله يقول سالت عبد الله بن المبارك عمن نام قاعدا معتمدا فقال لا وضوء عليه . قال ابو عيسى وقد روى حديث ابن عباس سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن ابن عباس قوله ولم يذكر فيه ابا العالية ولم يرفعه . واختلف العلماء في الوضوء من النوم فراى اكثرهم ان لا يجب عليه الوضوء اذا نام قاعدا او قايما حتى ينام مضطجعا . وبه يقول الثوري وابن المبارك واحمد . قال وقال بعضهم اذا نام حتى غلب على عقله وجب عليه الوضوء وبه يقول اسحاق . وقال الشافعي من نام قاعدا فراى رويا او زالت مقعدته لوسن النوم فعليه الوضوء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو“، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا: ابوہریرہ رضی الله عنہ ( بتائیے ) کیا ہم گھی اور گرم پانی ( کے استعمال ) سے بھی وضو کریں؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: بھتیجے! تم جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر ( عمل کرو ) باتیں نہ بناؤ۔ ( اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، ( دلیل اگلی حدیث ہے ) ۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوضوء مما مست النار ولو من ثور اقط " . قال فقال له ابن عباس يا ابا هريرة انتوضا من الدهن انتوضا من الحميم قال فقال ابو هريرة يا ابن اخي اذا سمعت حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تضرب له مثلا . قال وفي الباب عن ام حبيبة وام سلمة وزيد بن ثابت وابي طلحة وابي ايوب وابي موسى . قال ابو عيسى وقد راى بعض اهل العلم الوضوء مما غيرت النار واكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم على ترك الوضوء مما غيرت النار
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، قال حدثنا عبد الله بن محمد بن عقيل، سمع جابرا، . قال سفيان وحدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا معه فدخل على امراة من الانصار فذبحت له شاة فاكل واتته بقناع من رطب فاكل منه ثم توضا للظهر وصلى ثم انصرف فاتته بعلالة من علالة الشاة فاكل ثم صلى العصر ولم يتوضا . قال وفي الباب عن ابي بكر الصديق وابن عباس وابي هريرة وابن مسعود وابي رافع وام الحكم وعمرو بن امية وام عامر وسويد بن النعمان وام سلمة . قال ابو عيسى ولا يصح حديث ابي بكر في هذا الباب من قبل اسناده انما رواه حسام بن مصك عن ابن سيرين عن ابن عباس عن ابي بكر الصديق عن النبي صلى الله عليه وسلم . والصحيح انما هو عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . هكذا روى الحفاظ . قال ابو عيسى والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم مثل سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق راوا ترك الوضوء مما مست النار . وهذا اخر الامرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم . وكان هذا الحديث ناسخ للحديث الاول حديث الوضوء مما مست النار