Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن عبد الله الرازي، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوضوء من لحوم الابل فقال " توضيوا منها " . وسيل عن الوضوء من لحوم الغنم فقال " لا تتوضيوا منها " . قال وفي الباب عن جابر بن سمرة واسيد بن حضير . قال ابو عيسى وقد روى الحجاج بن ارطاة هذا الحديث عن عبد الله بن عبد الله عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن اسيد بن حضير . والصحيح حديث عبد الرحمن بن ابي ليلى عن البراء بن عازب . وهو قول احمد واسحاق . وهو قول احمد واسحاق وقد روي عن بعض اهل العلم من التابعين وغيرهم انهم لم يروا الوضوء من لحوم الابل وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
بسرہ بنت صفوان رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ ( عضو تناسل ) چھوئے تو جب تک وضو نہ کر لے نماز نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن هشام بن عروة، قال اخبرني ابي، عن بسرة بنت صفوان، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مس ذكره فلا يصل حتى يتوضا " . قال وفي الباب عن ام حبيبة وابي ايوب وابي هريرة واروى ابنة انيس وعايشة وجابر وزيد بن خالد وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال هكذا رواه غير واحد مثل هذا عن هشام بن عروة عن ابيه عن بسرة
ابواسامہ اور کئی اور لوگوں نے اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔
وروى ابو اسامة، وغير، واحد، هذا الحديث عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن مروان، عن بسرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا بذلك، اسحاق بن منصور حدثنا ابو اسامة، بهذا
نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی الله عنہا کی حدیث ۱؎ ( بھی ) اس باب میں صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔
وروى هذا الحديث ابو الزناد، عن عروة، عن بسرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك، علي بن حجر قال حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن عروة، عن بسرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وهو قول غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وبه يقول الاوزاعي والشافعي واحمد واسحاق . قال محمد واصح شيء في هذا الباب حديث بسرة . وقال ابو زرعة حديث ام حبيبة في هذا الباب صحيح وهو حديث العلاء بن الحارث عن مكحول عن عنبسة بن ابي سفيان عن ام حبيبة . وقال محمد لم يسمع مكحول من عنبسة بن ابي سفيان وروى مكحول عن رجل عن عنبسة غير هذا الحديث . وكانه لم ير هذا الحديث صحيحا
طلق بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ( عضو تناسل کے سلسلے میں ) فرمایا: ”یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوامامہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے، ۳- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے، ۴- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۵- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے ۲؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق بن علي، هو الحنفي عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " وهل هو الا مضغة منه او بضعة منه " . قال وفي الباب عن ابي امامة . قال ابو عيسى وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وبعض التابعين انهم لم يروا الوضوء من مس الذكر وهو قول اهل الكوفة وابن المبارك . وهذا الحديث احسن شيء روي في هذا الباب . وقد روى هذا الحديث ايوب بن عتبة ومحمد بن جابر عن قيس بن طلق عن ابيه . وقد تكلم بعض اهل الحديث في محمد بن جابر وايوب بن عتبة . وحديث ملازم بن عمرو عن عبد الله بن بدر اصح واحسن
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے ) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تو وہ ہنس پڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے، ۲- ہمارے اصحاب نے عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ۲؎، ۳- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے ۳؎، ۴- نیز میں نے محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے، ۵- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، وهناد، وابو كريب واحمد بن منيع ومحمود بن غيلان وابو عمار الحسين بن حريث قالوا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قبل بعض نسايه ثم خرج الى الصلاة ولم يتوضا . قال قلت من هي الا انت قال فضحكت . قال ابو عيسى وقد روي نحو هذا عن غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة قالوا ليس في القبلة وضوء . وقال مالك بن انس والاوزاعي والشافعي واحمد واسحاق في القبلة وضوء . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . وانما ترك اصحابنا حديث عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا لانه لا يصح عندهم لحال الاسناد . قال وسمعت ابا بكر العطار البصري يذكر عن علي بن المديني قال ضعف يحيى بن سعيد القطان هذا الحديث جدا . وقال هو شبه لا شىء . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يضعف هذا الحديث وقال حبيب بن ابي ثابت لم يسمع من عروة . وقد روي عن ابراهيم التيمي عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم قبلها ولم يتوضا . وهذا لا يصح ايضا . ولا نعرف لابراهيم التيمي سماعا من عايشة . وليس يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب شيء
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم پر پانی ڈالا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو ( ٹوٹ جاتا ) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ۲؎، ۲- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔
حدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر، - وهو احمد بن عبد الله الهمداني الكوفي واسحاق بن منصور قال ابو عبيدة حدثنا وقال، اسحاق اخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني ابي، عن حسين المعلم، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعي، عن يعيش بن الوليد المخزومي، عن ابيه، عن معدان بن ابي طلحة، عن ابي الدرداء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قاء فافطر فتوضا . فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فذكرت ذلك له فقال صدق انا صببت له وضوءه . قال ابو عيسى وقال اسحاق بن منصور معدان بن طلحة . قال ابو عيسى وابن ابي طلحة اصح . قال ابو عيسى وقد راى غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم من التابعين الوضوء من القىء والرعاف . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم ليس في القىء والرعاف وضوء . وهو قول مالك والشافعي . وقد جود حسين المعلم هذا الحديث . وحديث حسين اصح شيء في هذا الباب . وروى معمر هذا الحديث عن يحيى بن ابي كثير فاخطا فيه فقال عن يعيش بن الوليد عن خالد بن معدان عن ابي الدرداء ولم يذكر فيه الاوزاعي وقال عن خالد بن معدان وانما هو معدان بن ابي طلحة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے“ تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ۲؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑ جائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کر لے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ۳- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» ”جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“ ( النساء: 43 ) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن الله كان عفوا غفورا»
حدثنا هناد، حدثنا شريك، عن ابي فزارة، عن ابي زيد، عن عبد الله بن مسعود، قال سالني النبي صلى الله عليه وسلم " ما في اداوتك " . فقلت نبيذ . فقال " تمرة طيبة وماء طهور " . قال فتوضا منه . قال ابو عيسى وانما روي هذا الحديث عن ابي زيد عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو زيد رجل مجهول عند اهل الحديث لا يعرف له رواية غير هذا الحديث . وقد راى بعض اهل العلم الوضوء بالنبيذ منهم سفيان الثوري وغيره . وقال بعض اهل العلم لا يتوضا بالنبيذ وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال اسحاق ان ابتلي رجل بهذا فتوضا بالنبيذ وتيمم احب الى . قال ابو عيسى وقول من يقول لا يتوضا بالنبيذ اقرب الى الكتاب واشبه لان الله تعالى قال: "فان لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ۱؎ ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم شرب لبنا فدعا بماء فمضمض وقال " ان له دسما " . قال وفي الباب عن سهل بن سعد الساعدي وام سلمة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وقد راى بعض اهل العلم المضمضة من اللبن وهذا عندنا على الاستحباب ولم ير بعضهم المضمضة من اللبن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ۱؎، ۲- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ۳- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن علي، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا ابو احمد، محمد بن عبد الله الزبيري عن سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فلم يرد عليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وانما يكره هذا عندنا اذا كان على الغايط والبول . وقد فسر بعض اهل العلم ذلك . وهذا احسن شيء روي في هذا الباب . قال ابو عيسى وفي الباب عن المهاجر بن قنفذ وعبد الله بن حنظلة وعلقمة بن الفغواء وجابر والبراء
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سوار بن عبد الله العنبري، حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ايوب، يحدث عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " يغسل الاناء اذا ولغ فيه الكلب سبع مرات اولاهن او اخراهن بالتراب واذا ولغت فيه الهرة غسل مرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا ولم يذكر فيه " اذا ولغت فيه الهرة غسل مرة " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مغفل
کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے ( ایک برتن ) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ ( آسانی سے ) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ( بلی ) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك، وكانت، عند ابن ابي قتادة ان ابا قتادة، دخل عليها . قالت فسكبت له وضوءا قالت فجاءت هرة تشرب فاصغى لها الاناء حتى شربت قالت كبشة فراني انظر اليه فقال اتعجبين يا بنت اخي فقلت نعم . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انما هي من الطوافين عليكم او الطوافات " . وهو قول اكثر العلماء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم مثل الشافعي واحمد واسحاق لم يروا بسور الهرة باسا . وهذا احسن شيء روي في هذا الباب . وقد جود مالك هذا الحديث عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ولم يات به احد اتم من مالك
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر رضی الله عنہ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جریر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، قال بال جرير بن عبد الله ثم توضا ومسح على خفيه فقيل له اتفعل هذا قال وما يمنعني وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله . قال ابراهيم وكان يعجبهم حديث جرير لان اسلامه كان بعد نزول المايدة . هذا قول ابراهيم يعني كان يعجبهم . قال وفي الباب عن عمر وعلي وحذيفة والمغيرة وبلال وسعد وابي ايوب وسلمان وبريدة وعمرو بن امية وانس وسهل بن سعد ويعلى بن مرة وعبادة بن الصامت واسامة بن شريك وابي امامة وجابر واسامة بن زيد وابن عبادة ويقال ابن عمارة وابى بن عمارة . قال ابو عيسى وحديث جرير حديث حسن صحيح
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا: آپ کا یہ عمل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا؟ تو کہا: میں تو سورۃ المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر رضی الله عنہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ويروى عن شهر بن حوشب، قال رايت جرير بن عبد الله توضا ومسح على خفيه فقلت له في ذلك فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على خفيه . فقلت له اقبل المايدة ام بعد المايدة فقال ما اسلمت الا بعد المايدة . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا خالد بن زياد الترمذي عن مقاتل بن حيان عن شهر بن حوشب عن جرير . قال وروى بقية عن ابراهيم بن ادهم عن مقاتل بن حيان عن شهر بن حوشب عن جرير . وهذا حديث مفسر لان بعض من انكر المسح على الخفين تاول ان مسح النبي صلى الله عليه وسلم على الخفين كان قبل نزول المايدة وذكر جرير في حديثه انه راى النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين بعد نزول المايدة
خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سعيد بن مسروق، عن ابراهيم التيمي، عن عمرو بن ميمون، عن ابي عبد الله الجدلي، عن خزيمة بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سيل عن المسح على الخفين فقال " للمسافر ثلاثة وللمقيم يوم " . وذكر عن يحيى بن معين انه صحح حديث خزيمة بن ثابت في المسح . وابو عبد الله الجدلي اسمه عبد بن عبد ويقال عبد الرحمن بن عبد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن علي وابي بكرة وابي هريرة وصفوان بن عسال وعوف بن مالك وابن عمر وجرير
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر بن حبيش، عن صفوان بن عسال، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا اذا كنا سفرا ان لا ننزع خفافنا ثلاثة ايام ولياليهن الا من جنابة ولكن من غايط وبول ونوم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى الحكم بن عتيبة وحماد عن ابراهيم النخعي عن ابي عبد الله الجدلي عن خزيمة بن ثابت ولا يصح . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد قال شعبة لم يسمع ابراهيم النخعي من ابي عبد الله الجدلي حديث المسح . وقال زايدة عن منصور كنا في حجرة ابراهيم التيمي ومعنا ابراهيم النخعي فحدثنا ابراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون عن ابي عبد الله الجدلي عن خزيمة بن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم في المسح على الخفين . قال محمد بن اسماعيل احسن شيء في هذا الباب حديث صفوان بن عسال المرادي . قال ابو عيسى وهو قول اكثر العلماء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم من الفقهاء مثل سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق قالوا يمسح المقيم يوما وليلة والمسافر ثلاثة ايام ولياليهن . قال ابو عيسى وقد روي عن بعض اهل العلم انهم لم يوقتوا في المسح على الخفين وهو قول مالك بن انس . قال ابو عيسى والتوقيت اصح . وقد روي هذا الحديث عن صفوان بن عسال ايضا من غير حديث عاصم
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۲- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل ( بخاری ) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔
حدثنا ابو الوليد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، اخبرني ثور بن يزيد، عن رجاء بن حيوة، عن كاتب المغيرة، عن المغيرة بن شعبة، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح اعلى الخف واسفله . قال ابو عيسى وهذا قول غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم من الفقهاء وبه يقول مالك والشافعي واسحاق . وهذا حديث معلول لم يسنده عن ثور بن يزيد غير الوليد بن مسلم . قال ابو عيسى وسالت ابا زرعة ومحمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فقالا ليس بصحيح لان ابن المبارك روى هذا عن ثور عن رجاء بن حيوة قال حدثت عن كاتب المغيرة مرسل عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه المغيرة
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن عروة بن الزبير، عن المغيرة بن شعبة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين على ظاهرهما . قال ابو عيسى حديث المغيرة حديث حسن وهو حديث عبد الرحمن بن ابي الزناد عن ابيه عن عروة عن المغيرة ولا نعلم احدا يذكر عن عروة عن المغيرة " على ظاهرهما " . غيره . وهو قول غير واحد من اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري واحمد . قال محمد وكان مالك بن انس يشير بعبد الرحمن بن ابي الزناد
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بے موٹے ہوں، ۳- اس باب میں ابوموسیٰ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے، ۴- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بے پہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا: آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔
حدثنا هناد، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي قيس، عن هزيل بن شرحبيل، عن المغيرة بن شعبة، قال توضا النبي صلى الله عليه وسلم ومسح على الجوربين والنعلين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق قالوا يمسح على الجوربين وان لم تكن نعلين اذا كانا ثخينين . قال وفي الباب عن ابي موسى . قال ابو عيسى سمعت صالح بن محمد الترمذي قال سمعت ابا مقاتل السمرقندي يقول دخلت على ابي حنيفة في مرضه الذي مات فيه فدعا بماء فتوضا وعليه جوربان فمسح عليهما ثم قال فعلت اليوم شييا لم اكن افعله مسحت على الجوربين وهما غير منعلين
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ”آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا“، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس رضی الله عنہم ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ ( کچھ ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن سليمان التيمي، عن بكر بن عبد الله المزني، عن الحسن، عن ابن المغيرة بن شعبة، عن ابيه، قال توضا النبي صلى الله عليه وسلم ومسح على الخفين والعمامة . قال بكر وقد سمعت من ابن المغيرة . قال وذكر محمد بن بشار في هذا الحديث في موضع اخر انه مسح على ناصيته وعمامته . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن المغيرة بن شعبة ذكر بعضهم المسح على الناصية والعمامة ولم يذكر بعضهم الناصية . وسمعت احمد بن الحسن يقول سمعت احمد بن حنبل يقول ما رايت بعيني مثل يحيى بن سعيد القطان . قال وفي الباب عن عمرو بن امية وسلمان وثوبان وابي امامة . قال ابو عيسى حديث المغيرة بن شعبة حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وانس . وبه يقول الاوزاعي واحمد واسحاق قالوا يمسح على العمامة . وقال غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين لا يمسح على العمامة الا ان يمسح براسه مع العمامة . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس وابن المبارك والشافعي . قال ابو عيسى وسمعت الجارود بن معاذ يقول سمعت وكيع بن الجراح يقول ان مسح على العمامة يجزيه للاثر