احادیث
#88
سنن ترمذی - Purification
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے“ تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ۲؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑ جائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کر لے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ۳- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» ”جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“ ( النساء: 43 ) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن الله كان عفوا غفورا»
حدثنا هناد، حدثنا شريك، عن ابي فزارة، عن ابي زيد، عن عبد الله بن مسعود، قال سالني النبي صلى الله عليه وسلم " ما في اداوتك " . فقلت نبيذ . فقال " تمرة طيبة وماء طهور " . قال فتوضا منه . قال ابو عيسى وانما روي هذا الحديث عن ابي زيد عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو زيد رجل مجهول عند اهل الحديث لا يعرف له رواية غير هذا الحديث . وقد راى بعض اهل العلم الوضوء بالنبيذ منهم سفيان الثوري وغيره . وقال بعض اهل العلم لا يتوضا بالنبيذ وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال اسحاق ان ابتلي رجل بهذا فتوضا بالنبيذ وتيمم احب الى . قال ابو عيسى وقول من يقول لا يتوضا بالنبيذ اقرب الى الكتاب واشبه لان الله تعالى قال: "فان لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #88
- Book Index
- 88
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
