احادیث
#21
سنن ترمذی - Purification
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے اور فرمایا : ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے ، ۲- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے ، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ، ۴- بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے جن میں سے ابن سیرین بھی ہیں ، ابن سیرین سے کہا گیا : کہا جاتا ہے کہ اکثر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، بشرطیکہ اس میں سے پانی بہ جاتا ہو
حدثنا علي بن حجر، واحمد بن محمد بن موسى، مردويه قالا اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن اشعث بن عبد الله، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يبول الرجل في مستحمه . وقال " ان عامة الوسواس منه " . قال وفي الباب عن رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث اشعث بن عبد الله ويقال له اشعث الاعمى . وقد كره قوم من اهل العلم البول في المغتسل وقالوا عامة الوسواس منه . ورخص فيه بعض اهل العلم منهم ابن سيرين وقيل له انه يقال ان عامة الوسواس منه فقال ربنا الله لا شريك له . وقال ابن المبارك قد وسع في البول في المغتسل اذا جرى فيه الماء . قال ابو عيسى حدثنا بذلك احمد بن عبدة الاملي عن حبان عن عبد الله بن المبارك
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #21
- Book Index
- 21
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiDaif
