Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے ( راوی کو شک ہے ) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں ”یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا“، ۴- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا حميد الطويل، عن بكر بن عبد الله المزني، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لقيه وهو جنب قال فانبجست اى فانخنست فاغتسلت ثم جيت فقال " اين كنت او اين ذهبت " . قلت اني كنت جنبا . قال " ان المسلم لا ينجس " . قال وفي الباب عن حذيفة وابن عباس . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة انه لقي النبي صلى الله عليه وسلم وهو جنب حديث حسن صحيح . وقد رخص غير واحد من اهل العلم في مصافحة الجنب ولم يروا بعرق الجنب والحايض باسا . ومعنى قوله فانخنست يعني تنحيت عنه
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے“ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت جاءت ام سليم بنت ملحان الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان الله لا يستحيي من الحق فهل على المراة تعني غسلا اذا هي رات في المنام مثل ما يرى الرجل قال " نعم اذا هي رات الماء فلتغتسل " . قالت ام سلمة قلت لها فضحت النساء يا ام سليم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول عامة الفقهاء ان المراة اذا رات في المنام مثل ما يرى الرجل فانزلت ان عليها الغسل . وبه يقول سفيان الثوري والشافعي . قال وفي الباب عن ام سليم وخولة وعايشة وانس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جنابت کا غسل فرماتے پھر آ کر مجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی، اور میں بغیر غسل کے ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کر لے تو اپنی بیوی سے چمٹ کر گرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں، وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ( چمٹ کر ) سو سکتا ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن حريث، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت ربما اغتسل النبي صلى الله عليه وسلم من الجنابة ثم جاء فاستدفا بي فضممته الى ولم اغتسل " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس باسناده باس . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ان الرجل اذا اغتسل فلا باس بان يستدفي بامراته وينام معها قبل ان تغتسل المراة . وبه يقول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال ( یعنی جسم ) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے“۔ محمود ( محمود بن غیلان ) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن عمرو بن بجدان، عن ابي ذر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الصعيد الطيب طهور المسلم وان لم يجد الماء عشر سنين فاذا وجد الماء فليمسه بشرته فان ذلك خير " . وقال محمود في حديثه " ان الصعيد الطيب وضوء المسلم " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عمرو وعمران بن حصين . قال ابو عيسى وهكذا روى غير واحد عن خالد الحذاء عن ابي قلابة عن عمرو بن بجدان عن ابي ذر . وقد روى هذا الحديث ايوب عن ابي قلابة عن رجل من بني عامر عن ابي ذر ولم يسمه . قال وهذا حديث حسن صحيح . وهو قول عامة الفقهاء ان الجنب والحايض اذا لم يجدا الماء تيمما وصليا . ويروى عن ابن مسعود انه كان لا يرى التيمم للجنب وان لم يجد الماء . ويروى عنه انه رجع عن قوله فقال يتيمم اذا لم يجد الماء . وبه يقول سفيان الثوري ومالك والشافعي واحمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کا خون ۱؎ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ اور جب وہ چلا جائے ( یعنی حیض کے دن پورے ہو جائیں ) تو خون دھو کر ( غسل کر کے ) نماز پڑھو“، ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت ( حیض کا وقت ) آ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے، اور یہی سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے ( تازہ ) وضو کرے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، وعبدة، وابو معاوية عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي " . قال ابو معاوية في حديثه وقال " توضيي لكل صلاة حتى يجيء ذلك الوقت " . قال وفي الباب عن ام سلمة . قال ابو عيسى حديث عايشة جاءت فاطمة حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . وبه يقول سفيان الثوري ومالك وابن المبارك والشافعي ان المستحاضة اذا جاوزت ايام اقرايها اغتسلت وتوضات لكل صلاة
عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور ( استحاضہ کا خون آنے پر ) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا شريك، عن ابي اليقظان، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال في المستحاضة " تدع الصلاة ايام اقرايها التي كانت تحيض فيها ثم تغتسل وتتوضا عند كل صلاة وتصوم وتصلي
اس سند سے بھی شریک نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، ۲- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث قد تفرد به شريك عن ابي اليقظان . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فقلت عدي بن ثابت عن ابيه عن جده جد عدي ما اسمه فلم يعرف محمد اسمه وذكرت لمحمد قول يحيى بن معين ان اسمه دينار فلم يعبا به . وقال احمد واسحاق في المستحاضة ان اغتسلت لكل صلاة هو احوط لها وان توضات لكل صلاة اجزاها وان جمعت بين الصلاتين بغسل واحد اجزاها
حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہو جائے گا“، انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے زیادہ ہے ( روئی رکھنے سے نہیں رکے گا ) آپ نے فرمایا: ”تو لنگوٹ باندھ لیا کرو“، کہا: خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو“، کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ تو صرف شیطان کی چوٹ ( مار ) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کر لے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہو جا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو“، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں باتوں ۱؎ میں سے یہ دوسری صورت ۲؎ مجھے زیادہ پسند ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۳؎ اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے ( حیض کے ) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور ( حیض کے ) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۴؎ اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہو جاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، ۴- حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو“، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی الله عنہا کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، ۲- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها قالت استفتت ام حبيبة ابنة جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني استحاض فلا اطهر افادع الصلاة فقال " لا انما ذلك عرق فاغتسلي ثم صلي " . فكانت تغتسل لكل صلاة . قال قتيبة قال الليث لم يذكر ابن شهاب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر ام حبيبة ان تغتسل عند كل صلاة ولكنه شيء فعلته هي . قال ابو عيسى ويروى هذا الحديث عن الزهري عن عمرة عن عايشة قالت استفتت ام حبيبة بنت جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقد قال بعض اهل العلم المستحاضة تغتسل عند كل صلاة . وروى الاوزاعي عن الزهري عن عروة وعمرة عن عايشة
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ۳- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن معاذة، ان امراة، سالت عايشة قالت اتقضي احدانا صلاتها ايام محيضها فقالت احرورية انت قد كانت احدانا تحيض فلا تومر بقضاء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن عايشة من غير وجه ان الحايض لا تقضي الصلاة . وهو قول عامة الفقهاء لا اختلاف بينهم في ان الحايض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ ( قرآن ) نہ پڑھیں“، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، والحسن بن عرفة، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقرا الحايض ولا الجنب شييا من القران " . قال وفي الباب عن علي . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث لا نعرفه الا من حديث اسماعيل بن عياش عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقرا الجنب ولا الحايض " . وهو قول اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم مثل سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق قالوا لا تقرا الحايض ولا الجنب من القران شييا الا طرف الاية والحرف ونحو ذلك ورخصوا للجنب والحايض في التسبيح والتهليل . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول ان اسماعيل بن عياش يروي عن اهل الحجاز واهل العراق احاديث مناكير . كانه ضعف روايته عنهم فيما ينفرد به . وقال انما حديث اسماعيل بن عياش عن اهل الشام . وقال احمد بن حنبل اسماعيل بن عياش اصلح من بقية ولبقية احاديث مناكير عن الثقات . قال ابو عيسى حدثني احمد بن الحسن قال سمعت احمد بن حنبل يقول ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا حضت يامرني ان اتزر ثم يباشرني . قال وفي الباب عن ام سلمة وميمونة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سعد رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔
حدثنا عباس العنبري، ومحمد بن عبد الاعلى، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن حرام بن معاوية، عن عمه عبد الله بن سعد، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن مواكلة الحايض فقال " واكلها " . قال وفي الباب عن عايشة وانس . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن سعد حديث حسن غريب . وهو قول عامة اهل العلم لم يروا بمواكلة الحايض باسا . واختلفوا في فضل وضويها فرخص في ذلك بعضهم وكره بعضهم فضل طهورها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ ”حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں“ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبيدة بن حميد، عن الاعمش، عن ثابت بن عبيد، عن القاسم بن محمد، قال قالت لي عايشة قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناوليني الخمرة من المسجد " . قالت قلت اني حايض . قال " ان حيضتك ليست في يدك " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وهو قول عامة اهل العلم لا نعلم بينهم اختلافا في ذلك بان لا باس ان تتناول الحايض شييا من المسجد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی حائضہ کے پاس آیا یعنی اس سے جماع کیا یا کسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یا کسی کاہن نجومی کے پاس ( غیب کا حال جاننے کے لیے ) آیا تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) پر نازل کی گئی ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اہل علم کے نزدیک نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب تغلیظ ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی حائضہ سے صحبت کی تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر حائضہ سے صحبت کا ارتکاب کفر ہوتا تو اس میں کفارے کا حکم نہ دیا جاتا“، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، وبهز بن اسد، قالوا حدثنا حماد بن سلمة، عن حكيم الاثرم، عن ابي تميمة الهجيمي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتى حايضا او امراة في دبرها او كاهنا فقد كفر بما انزل على محمد صلى الله عليه وسلم " . قال ابو عيسى لا نعرف هذا الحديث الا من حديث حكيم الاثرم عن ابي تميمة الهجيمي عن ابي هريرة . وانما معنى هذا عند اهل العلم على التغليظ . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتى حايضا فليتصدق بدينار " . فلو كان اتيان الحايض كفرا لم يومر فيه بالكفارة . وضعف محمد هذا الحديث من قبل اسناده . وابو تميمة الهجيمي اسمه طريف بن مجالد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا: ”وہ آدھا دینار صدقہ کرے“۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن خصيف، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل يقع على امراته وهي حايض قال " يتصدق بنصف دينار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خون سرخ ہو ( اور جماع کر لے تو ) ایک دینار اور جب زرد ہو تو آدھا دینار ( صدقہ کرے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حائضہ سے جماع کے کفارے کی حدیث ابن عباس سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح سے مروی ہے، ۲- اور بعض اہل علم کا یہی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اپنے رب سے استغفار کرے گا، اس پر کوئی کفارہ نہیں، ابن مبارک کے قول کی طرح بعض تابعین سے بھی مروی ہے جن میں سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی بھی شامل ہیں۔ اور اکثر علماء امصار کا یہی قول ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، اخبرنا الفضل بن موسى، عن ابي حمزة السكري، عن عبد الكريم، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان دما احمر فدينار واذا كان دما اصفر فنصف دينار " . قال ابو عيسى حديث الكفارة في اتيان الحايض قد روي عن ابن عباس موقوفا ومرفوعا . وهو قول بعض اهل العلم . وبه يقول احمد واسحاق . وقال ابن المبارك يستغفر ربه ولا كفارة عليه . وقد روي نحو قول ابن المبارك عن بعض التابعين منهم سعيد بن جبير وابراهيم النخعي وهو قول عامة علماء الامصار
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس کپڑے کے بارے میں پوچھا جس میں حیض کا خون لگ جائے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھرچ دو، پھر اسے پانی سے مل دو، پھر اس پر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- خون کے دھونے کے سلسلے میں اسماء رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کپڑے میں جو خون لگ جائے اور اسے دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لے … اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ؛ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار میں ہو اور دھوے بغیر نماز پڑھ لے تو نماز دہرائے ۱؎، اور بعض کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز دہرائے ورنہ نہیں، یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے ۲؎ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے نماز کے دہرانے کو واجب نہیں کہا ہے گرچہ خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ۳؎، جب کہ شافعی کہتے ہیں کہ اس پر دھونا واجب ہے گو درہم کی مقدار سے کم ہو، اس سلسلے میں انہوں نے سختی برتی ہے ۴؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، ان امراة، سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن الثوب يصيبه الدم من الحيضة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حتيه ثم اقرصيه بالماء ثم رشيه وصلي فيه " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وام قيس بنت محصن . قال ابو عيسى حديث اسماء في غسل الدم حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في الدم يكون على الثوب فيصلي فيه قبل ان يغسله قال بعض اهل العلم من التابعين اذا كان الدم مقدار الدرهم فلم يغسله وصلى فيه اعاد الصلاة . وقال بعضهم اذا كان الدم اكثر من قدر الدرهم اعاد الصلاة . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك . ولم يوجب بعض اهل العلم من التابعين وغيرهم عليه الاعادة وان كان اكثر من قدر الدرهم . وبه يقول احمد واسحاق . وقال الشافعي يجب عليه الغسل وان كان اقل من قدر الدرهم وشدد في ذلك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں، اور جھائیوں کے سبب ہم اپنے چہروں پر ورس ( نامی گھاس ہے ) ملتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف ابوسہل ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے تمام اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز نہیں پڑھیں گی۔ البتہ اگر وہ اس سے پہلے پاک ہو لیں تو غسل کر کے نماز پڑھنے لگ جائیں، اگر چالیس دن کے بعد بھی وہ خون دیکھیں تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ چالیس دن کے بعد وہ نماز نہ چھوڑیں، یہی اکثر فقہاء کا قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ پچاس دن تک نماز چھوڑے رہے جب وہ پاکی نہ دیکھے، عطاء بن ابی رباح اور شعبی سے ساٹھ دن تک مروی ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا شجاع بن الوليد ابو بدر، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابي سهل، عن مسة الازدية، عن ام سلمة، قالت كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعين يوما فكنا نطلي وجوهنا بالورس من الكلف . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابي سهل عن مسة الازدية عن ام سلمة . واسم ابي سهل كثير بن زياد . قال محمد بن اسماعيل علي بن عبد الاعلى ثقة وابو سهل ثقة . ولم يعرف محمد هذا الحديث الا من حديث ابي سهل . وقد اجمع اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم على ان النفساء تدع الصلاة اربعين يوما الا ان ترى الطهر قبل ذلك فانها تغتسل وتصلي . فاذا رات الدم بعد الاربعين فان اكثر اهل العلم قالوا لا تدع الصلاة بعد الاربعين وهو قول اكثر الفقهاء . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . ويروى عن الحسن البصري انه قال انها تدع الصلاة خمسين يوما اذا لم تر الطهر . ويروى عن عطاء بن ابي رباح والشعبي ستين يوما
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ ۳- بہت سے اہل علم کا جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں یہی قول ہے کہ وضو کرنے سے پہلے دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن معمر، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في غسل واحد . قال وفي الباب عن ابي رافع . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه بغسل واحد . وهو قول غير واحد من اهل العلم منهم الحسن البصري ان لا باس ان يعود قبل ان يتوضا . وقد روى محمد بن يوسف هذا عن سفيان فقال عن ابي عروة عن ابي الخطاب عن انس . وابو عروة هو معمر بن راشد . وابو الخطاب قتادة بن دعامة . قال ابو عيسى ورواه بعضهم عن محمد بن يوسف عن سفيان عن ابن ابي عروة عن ابي الخطاب . وهو خطا والصحيح عن ابي عروة
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابراهيم بن محمد بن طلحة، عن عمه، عمران بن طلحة عن امه، حمنة بنت جحش قالت كنت استحاض حيضة كثيرة شديدة فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم استفتيه واخبره فوجدته في بيت اختي زينب بنت جحش فقلت يا رسول الله اني استحاض حيضة كثيرة شديدة فما تامرني فيها قد منعتني الصيام والصلاة قال " انعت لك الكرسف فانه يذهب الدم " . قالت هو اكثر من ذلك قال " فتلجمي " . قالت هو اكثر من ذلك قال " فاتخذي ثوبا " . قالت هو اكثر من ذلك انما اثج ثجا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سامرك بامرين ايهما صنعت اجزا عنك فان قويت عليهما فانت اعلم " . فقال " انما هي ركضة من الشيطان فتحيضي ستة ايام او سبعة ايام في علم الله ثم اغتسلي فاذا رايت انك قد طهرت واستنقات فصلي اربعا وعشرين ليلة او ثلاثا وعشرين ليلة وايامها وصومي وصلي فان ذلك يجزيك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء وكما يطهرن لميقات حيضهن وطهرهن فان قويت على ان توخري الظهر وتعجلي العصر ثم تغتسلين حين تطهرين وتصلين الظهر والعصر جميعا ثم توخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي وتغتسلين مع الصبح وتصلين وكذلك فافعلي وصومي ان قويت على ذلك " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وهو اعجب الامرين الى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ورواه عبيد الله بن عمرو الرقي وابن جريج وشريك عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابراهيم بن محمد بن طلحة عن عمه عمران عن امه حمنة الا ان ابن جريج يقول عمر بن طلحة والصحيح عمران بن طلحة . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال هو حديث حسن صحيح . وهكذا قال احمد بن حنبل هو حديث حسن صحيح . وقال احمد واسحاق في المستحاضة اذا كانت تعرف حيضها باقبال الدم وادباره واقباله ان يكون اسود . وادباره ان يتغير الى الصفرة فالحكم لها على حديث فاطمة بنت ابي حبيش وان كانت المستحاضة لها ايام معروفة قبل ان تستحاض فانها تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتتوضا لكل صلاة وتصلي واذا استمر بها الدم ولم يكن لها ايام معروفة ولم تعرف الحيض باقبال الدم وادباره فالحكم لها على حديث حمنة بنت جحش . وكذلك قال ابو عبيد . وقال الشافعي المستحاضة اذا استمر بها الدم في اول ما رات فدامت على ذلك فانها تدع الصلاة ما بينها وبين خمسة عشر يوما فاذا طهرت في خمسة عشر يوما او قبل ذلك فانها ايام حيض فاذا رات الدم اكثر من خمسة عشر يوما فانها تقضي صلاة اربعة عشر يوما ثم تدع الصلاة بعد ذلك اقل ما تحيض النساء وهو يوم وليلة . قال ابو عيسى واختلف اهل العلم في اقل الحيض واكثره فقال بعض اهل العلم اقل الحيض ثلاثة واكثره عشرة . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وبه ياخذ ابن المبارك وروي عنه خلاف هذا . وقال بعض اهل العلم منهم عطاء بن ابي رباح اقل الحيض يوم وليلة واكثره خمسة عشر يوما . وهو قول مالك والاوزاعي والشافعي واحمد واسحاق وابي عبيد