Loading...

Loading...
کتب
۱۴۸ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے، ۲- ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کا قول ہے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو جماع سے پہلے دوبارہ وضو کرے۔
حدثنا هناد، حدثنا حفص بن غياث، عن عاصم الاحول، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتى احدكم اهله ثم اراد ان يعود فليتوضا بينهما وضوءا " . قال وفي الباب عن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح . وهو قول عمر بن الخطاب وقال به غير واحد من اهل العلم قالوا اذا جامع الرجل امراته ثم اراد ان يعود فليتوضا قبل ان يعود . وابو المتوكل اسمه علي بن داود . وابو سعيد الخدري اسمه سعد بن مالك بن سنان
عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم رضی الله عنہ اپنی قوم کے امام تھے، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو چکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے“۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الارقم، قال اقيمت الصلاة فاخذ بيد رجل فقدمه وكان امام قومه وقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اقيمت الصلاة ووجد احدكم الخلاء فليبدا بالخلاء " . قال وفي الباب عن عايشة وابي هريرة وثوبان وابي امامة . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن الارقم حديث حسن صحيح . هكذا روى مالك بن انس ويحيى بن سعيد القطان وغير واحد من الحفاظ عن هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الارقم . وروى وهيب وغيره عن هشام بن عروة عن ابيه عن رجل عن عبد الله بن الارقم . وهو قول غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . وبه يقول احمد واسحاق قالا لا يقوم الى الصلاة وهو يجد شييا من الغايط والبول . وقالا ان دخل في الصلاة فوجد شييا من ذلك فلا ينصرف ما لم يشغله . وقال بعض اهل العلم لا باس ان يصلي وبه غايط او بول ما لم يشغله ذلك عن الصلاة
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کے بعد کی ( پاک ) زمین اسے پاک کر دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ۲- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔
حدثنا ابو رجاء، قتيبة حدثنا مالك بن انس، عن محمد بن عمارة، عن محمد بن ابراهيم، عن ام ولد، لعبد الرحمن بن عوف قالت قلت لام سلمة اني امراة اطيل ذيلي وامشي في المكان القذر فقالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يطهره ما بعده " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نتوضا من الموطا . قال ابو عيسى وهو قول غير واحد من اهل العلم قالوا اذا وطي الرجل على المكان القذر انه لا يجب عليه غسل القدم الا ان يكون رطبا فيغسل ما اصابه . قال ابو عيسى وروى عبد الله بن المبارك هذا الحديث عن مالك بن انس عن محمد بن عمارة عن محمد بن ابراهيم عن ام ولد لهود بن عبد الرحمن بن عوف عن ام سلمة . وهو وهم وليس لعبد الرحمن بن عوف ابن يقال له هود وانما هو عن ام ولد لابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن ام سلمة . وهذا الصحيح
عمار بن یاسر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس رضی الله عنہم شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، ۴- بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر رضی الله عنہم، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، ۵- تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۶- عمار رضی الله عنہ سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ ۷- بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، ۸- اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی ( ابن راہویہ ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۹- عمار رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار رضی الله عنہ نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار رضی الله عنہ کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی ۱؎ اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن عمار بن ياسر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امره بالتيمم للوجه والكفين . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عمار حديث حسن صحيح . وقد روي عن عمار من غير وجه . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم علي وعمار وابن عباس وغير واحد من التابعين منهم الشعبي وعطاء ومكحول قالوا التيمم ضربة للوجه والكفين . وبه يقول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم منهم ابن عمر وجابر وابراهيم والحسن قالوا التيمم ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين . وبه يقول سفيان الثوري ومالك وابن المبارك والشافعي . وقد روي هذا الحديث عن عمار في التيمم انه قال للوجه والكفين من غير وجه . وقد روي عن عمار انه قال تيممنا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى المناكب والاباط . فضعف بعض اهل العلم حديث عمار عن النبي صلى الله عليه وسلم في التيمم للوجه والكفين لما روي عنه حديث المناكب والاباط . قال اسحاق بن ابراهيم بن مخلد الحنظلي حديث عمار في التيمم للوجه والكفين هو حديث حسن صحيح . وحديث عمار تيممنا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى المناكب والاباط ليس هو بمخالف لحديث الوجه والكفين لان عمارا لم يذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم امرهم بذلك وانما قال فعلنا كذا وكذا فلما سال النبي صلى الله عليه وسلم امره بالوجه والكفين فانتهى الى ما علمه رسول الله صلى الله عليه وسلم الوجه والكفين والدليل على ذلك ما افتى به عمار بعد النبي صلى الله عليه وسلم في التيمم انه قال الوجه والكفين ففي هذا دلالة انه انتهى الى ما علمه النبي صلى الله عليه وسلم فعلمه الى الوجه والكفين . قال وسمعت ابا زرعة عبيد الله بن عبد الكريم يقول لم ار بالبصرة احفظ من هولاء الثلاثة علي بن المديني وابن الشاذكوني وعمرو بن علي الفلاس . قال ابو زرعة وروى عفان بن مسلم عن عمرو بن علي حديثا
عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا ”اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ“، اور تیمم کے بارے میں فرمایا: ”اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو“، اور فرمایا: ”چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو“ تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ ( پہنچے تک ) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هشيم، عن محمد بن خالد القرشي، عن داود بن حصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، انه سيل عن التيمم، فقال ان الله قال في كتابه حين ذكر الوضوء: (فاغسلوا وجوهكم وايديكم الى المرافق)، وقال في التيمم: (فامسحوا بوجوهكم وايديكم) وقال: (والسارق والسارقة فاقطعوا ايديهما) فكانت السنة في القطع الكفين، انما هو الوجه والكفان، يعني التيمم
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎، ۲- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا ابو سعيد عبد الله بن سعيد الاشج، حدثنا حفص بن غياث، وعقبة بن خالد، قالا حدثنا الاعمش، وابن ابي ليلى، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن علي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرينا القران على كل حال ما لم يكن جنبا . قال ابو عيسى حديث علي هذا حديث حسن صحيح . وبه قال غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . قالوا يقرا الرجل القران على غير وضوء ولا يقرا في المصحف الا وهو طاهر . وبه يقول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی رحمت الٰہی ) کو تنگ کر دیا“، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھر آپ نے فرمایا: ”تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے“ ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال دخل اعرابي المسجد والنبي صلى الله عليه وسلم جالس فصلى فلما فرغ قال اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا احدا . فالتفت اليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لقد تحجرت واسعا " . فلم يلبث ان بال في المسجد فاسرع اليه الناس فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اهريقوا علي�� سجلا من ماء او دلوا من ماء " . ثم قال " انما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين
اس سند سے انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
قال سعيد قال سفيان وحدثني يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، نحو هذا . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود، وابن، عباس وواثلة بن الاسقع . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وقد روى يونس هذا الحديث عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابي هريرة