احادیث
#144
سنن ترمذی - Purification
عمار بن یاسر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس رضی الله عنہم شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، ۴- بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر رضی الله عنہم، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، ۵- تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۶- عمار رضی الله عنہ سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ ۷- بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، ۸- اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی ( ابن راہویہ ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۹- عمار رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار رضی الله عنہ نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار رضی الله عنہ کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دی ۱؎ اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن عمار بن ياسر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امره بالتيمم للوجه والكفين . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عمار حديث حسن صحيح . وقد روي عن عمار من غير وجه . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم علي وعمار وابن عباس وغير واحد من التابعين منهم الشعبي وعطاء ومكحول قالوا التيمم ضربة للوجه والكفين . وبه يقول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم منهم ابن عمر وجابر وابراهيم والحسن قالوا التيمم ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين . وبه يقول سفيان الثوري ومالك وابن المبارك والشافعي . وقد روي هذا الحديث عن عمار في التيمم انه قال للوجه والكفين من غير وجه . وقد روي عن عمار انه قال تيممنا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى المناكب والاباط . فضعف بعض اهل العلم حديث عمار عن النبي صلى الله عليه وسلم في التيمم للوجه والكفين لما روي عنه حديث المناكب والاباط . قال اسحاق بن ابراهيم بن مخلد الحنظلي حديث عمار في التيمم للوجه والكفين هو حديث حسن صحيح . وحديث عمار تيممنا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى المناكب والاباط ليس هو بمخالف لحديث الوجه والكفين لان عمارا لم يذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم امرهم بذلك وانما قال فعلنا كذا وكذا فلما سال النبي صلى الله عليه وسلم امره بالوجه والكفين فانتهى الى ما علمه رسول الله صلى الله عليه وسلم الوجه والكفين والدليل على ذلك ما افتى به عمار بعد النبي صلى الله عليه وسلم في التيمم انه قال الوجه والكفين ففي هذا دلالة انه انتهى الى ما علمه النبي صلى الله عليه وسلم فعلمه الى الوجه والكفين . قال وسمعت ابا زرعة عبيد الله بن عبد الكريم يقول لم ار بالبصرة احفظ من هولاء الثلاثة علي بن المديني وابن الشاذكوني وعمرو بن علي الفلاس . قال ابو زرعة وروى عفان بن مسلم عن عمرو بن علي حديثا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #144
- Book Index
- 144
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiHasan
