Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن محمد، - يعني ابن عمرو - عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لان اليهود والنصارى يوخرون
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان میں ایک افطار بھی جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، اور دوسرا ان دونوں چیزوں میں تاخیر کرتا ہے، ( بتائیے ان میں کون درستگی پر ہے؟ ) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان دونوں میں افطار اور نماز میں جلدی کون کرتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي عطية، قال دخلت على عايشة - رضى الله عنها - انا ومسروق فقلنا يا ام المومنين رجلان من اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم احدهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة والاخر يوخر الافطار ويوخر الصلاة قالت ايهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة قلنا عبد الله . قالت كذلك كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عمها قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان احدكم صايما فليفطر على التمر فان لم يجد التمر فعلى الماء فان الماء طهور
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( مغرب ) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ مل پاتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا ثابت البناني، انه سمع انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر على رطبات قبل ان يصلي فان لم تكن رطبات فعلى تمرات فان لم تكن حسا حسوات من ماء
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله» پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن يحيى ابو محمد، حدثنا علي بن الحسن، اخبرني الحسين بن واقد، حدثنا مروان، - يعني ابن سالم - المقفع - قال رايت ابن عمر يقبض على لحيته فيقطع ما زاد على الكف وقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افطر قال " ذهب الظما وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء الله
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن حصين، عن معاذ بن زهرة، انه بلغه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا افطر قال " اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہو گیا۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟ کہنے لگے: کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے؟ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، ومحمد بن العلاء، - المعنى - قالا حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت افطرنا يوما في رمضان في غيم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم طلعت الشمس قال ابو اسامة قلت لهشام امروا بالقضاء قال وبد من ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال ( مسلسل روزے رکھنے ) سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله نهى عن الوصال، قالوا فانك تواصل يا رسول الله . قال " اني لست كهييتكم اني اطعم واسقى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم صوم وصال نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے ۔ لوگوں نے کہا: آپ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ان بكر بن مضر، حدثهم عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تواصلوا فايكم اراد ان يواصل فليواصل حتى السحر " . قالوا فانك تواصل . قال " اني لست كهييتكم ان لي مطعما يطعمني وساقيا يسقيني
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( روزے کی حالت میں ) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة ان يدع طعامه وشرابه " . قال احمد فهمت اسناده من ابن ابي ذيب وافهمني الحديث رجل الى جنبه اراه ابن اخيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ( برائیوں سے بچنے کے لیے ) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم ( روزے سے ہو ) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصيام جنة اذا كان احدكم صايما فلا يرفث ولا يجهل فان امرو قاتله او شاتمه فليقل اني صايم اني صايم
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کر سکتا ہوں
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا شريك، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبيد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاك وهو صايم . زاد مسدد ما لا اعد ولا احصي
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: اپنے دشمن ( سے لڑنے ) کے لیے طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم امر الناس في سفره عام الفتح بالفطر وقال " تقووا لعدوكم " . وصام رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو بكر قال الذي حدثني لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعرج يصب على راسه الماء وهو صايم من العطش او من الحر
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثني يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، لقيط بن صبرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، ح وحدثنا احمد بن حنبل، حدثنا حسن بن موسى، حدثنا شيبان، - جميعا - عن يحيى، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، - يعني الرحبي - عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " افطر الحاجم والمحجوم " . قال شيبان اخبرني ابو قلابة ان ابا اسماء الرحبي حدثه ان ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبره انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوقلابہ جرمی نے خبر دی ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اسی دوران ( آپ نے فرمایا ) ، آگے راوی نے اس سے پہلی والی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا حسن بن موسى، حدثنا شيبان، عن يحيى، قال حدثني ابو قلابة الجرمي، انه اخبره ان شداد بن اوس بينما هو يمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص کے پاس آئے جو کہ سینگی لگا رہا تھا، آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، یہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کا واقعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خالد الحذاء نے ابوقلابہ سے ایوب کی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن شداد بن اوس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى على رجل بالبقيع وهو يحتجم وهو اخذ بيدي لثمان عشرة خلت من رمضان فقال " افطر الحاجم والمحجوم " . قال ابو داود وروى خالد الحذاء عن ابي قلابة باسناد ايوب مثله
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن بكر، وعبد الرزاق، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن ابراهيم - عن ابن جريج، اخبرني مكحول، ان شيخا، من الحى - قال عثمان في حديثه مصدق - اخبره ان ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " افطر الحاجم والمحجوم
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ثوبان نے اپنے والد سے اور انہوں نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا مروان، حدثنا الهيثم بن حميد، اخبرنا العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " افطر الحاجم والمحجوم " . قال ابو داود ورواه ابن ثوبان عن ابيه عن مكحول باسناده مثله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا اور آپ روزے سے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب بن خالد نے ایوب سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، اور جعفر بن ربیعہ اور ہشام بن حسان نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو صايم . قال ابو داود رواه وهيب بن خالد عن ايوب باسناده مثله . وجعفر بن ربيعة وهشام بن حسان عن عكرمة عن ابن عباس مثله