Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ ( پیر ) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے ( اور اتوار کو روزہ رکھا ہے ) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثني ابي، حدثنا الاشعث، عن الحسنفي رجل كان بمصر من الامصار فصام يوم الاثنين وشهد رجلان انهما رايا الهلال ليلة الاحد فقال لا يقضي ذلك اليوم الرجل ولا اهل مصره الا ان يعلموا ان اهل مصر من امصار المسلمين قد صاموا يوم الاحد فيقضونه
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک ( بھنی ہوئی ) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی ( کھانے سے احتراز کرتے ہوئے ) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے ( شک والے ) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس، عن ابي اسحاق، عن صلة، قال كنا عند عمار في اليوم الذي يشك فيه فاتي بشاة فتنحى بعض القوم فقال عمار من صام هذا اليوم فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقدموا صوم رمضان بيوم ولا يومين الا ان يكون صوما يصومه رجل فليصم ذلك الصوم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن توبة العنبري، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه لم يكن يصوم من السنة شهرا تاما الا شعبان يصله برمضان
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور ( جا کر ) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن ابن مہدی ) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو ( روزہ رکھ کر ) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ۱؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، قال قدم عباد بن كثير المدينة فمال الى مجلس العلاء فاخذ بيده فاقامه ثم قال اللهم ان هذا يحدث عن ابيه عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا انتصف شعبان فلا تصوموا " . فقال العلاء اللهم ان ابي حدثني عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم بذلك . قال ابو داود رواه الثوري وشبل بن العلاء وابو عميس وزهير بن محمد عن العلاء . قال ابو داود وكان عبد الرحمن لا يحدث به قلت لاحمد لم قال لانه كان عنده ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصل شعبان برمضان وقال عن النبي صلى الله عليه وسلم خلافه . قال ابو داود وليس هذا عندي خلافه ولم يجي به غير العلاء عن ابيه
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے ( جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں ) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم ابو يحيى البزاز، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد، عن ابي مالك الاشجعي، حدثنا حسين بن الحارث الجدلي، - من جديلة قيس ان امير مكة خطب ثم قال عهد الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ننسك للروية فان لم نره وشهد شاهدا عدل نسكنا بشهادتهما فسالت الحسين بن الحارث من امير مكة قال لا ادري . ثم لقيني بعد فقال هو الحارث بن حاطب اخو محمد بن حاطب ثم قال الامير ان فيكم من هو اعلم بالله ورسوله مني وشهد هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم . واوما بيده الى رجل قال الحسين فقلت لشيخ الى جنبي من هذا الذي اوما اليه الامير قال هذا عبد الله بن عمر . وصدق كان اعلم بالله منه فقال بذلك امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں ( چاند کی رویت پر ) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
حدثنا مسدد، وخلف بن هشام المقري، قالا حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال اختلف الناس في اخر يوم من رمضان فقدم اعرابيان فشهدا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بالله لاهلا الهلال امس عشية فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس ان يفطروا زاد خلف في حديثه وان يغدوا الى مصلاهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔
حدثنا محمد بن بكار بن الريان، حدثنا الوليد، - يعني ابن ابي ثور ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا الحسين، - يعني الجعفي - عن زايدة، - المعنى - عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني رايت الهلال - قال الحسن في حديثه يعني رمضان - فقال " اتشهد ان لا اله الا الله " . قال نعم . قال " اتشهد ان محمدا رسول الله " . قال نعم . قال " يا بلال اذن في الناس فليصوموا غدا
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند ( کی روئیت ) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثني موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، انهم شكوا في هلال رمضان مرة فارادوا ان لا يقوموا ولا يصوموا فجاء اعرابي من الحرة فشهد انه راى الهلال فاتي به النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله " . قال نعم . وشهد انه راى الهلال فامر بلالا فنادى في الناس ان يقوموا وان يصوموا . قال ابو داود رواه جماعة عن سماك عن عكرمة مرسلا ولم يذكر القيام احد الا حماد بن سلمة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
حدثنا محمود بن خالد، وعبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي، - وانا لحديثه، اتقن - قالا حدثنا مروان، - هو ابن محمد - عن عبد الله بن وهب، عن يحيى بن عبد الله بن سالم، عن ابي بكر بن نافع، عن ابيه، عن ابن عمر، قال تراءى الناس الهلال فاخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم اني رايته فصامه وامر الناس بصيامه
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن موسى بن على بن رباح، عن ابيه، عن ابي قيس، مولى عمرو بن العاص عن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان فصل ما بين صيامنا وصيام اهل الكتاب اكلة السحر
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت «غداء» پر آؤ ۔
حدثنا عمرو بن محمد الناقد، حدثنا حماد بن خالد الخياط، حدثنا معاوية بن صالح، عن يونس بن سيف، عن الحارث بن زياد، عن ابي رهم، عن العرباض بن سارية، قال دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى السحور في رمضان فقال " هلم الى الغداء المبارك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے ۔
حدثنا عمر بن الحسن بن ابراهيم، حدثنا محمد بن ابي الوزير ابو المطرف، حدثنا محمد بن موسى، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نعم سحور المومن التمر
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی ( صبح کاذب ) ہی باز رکھے، جو اس طرح ( لمبائی میں ) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عبد الله بن سوادة القشيري، عن ابيه، قال سمعت سمرة بن جندب، يخطب وهو يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنعن من سحوركم اذان بلال ولا بياض الافق الذي هكذا حتى يستطير
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے ) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے ( یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن التيمي، ح وحدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنعن احدكم اذان بلال من سحوره فانه يوذن - او قال ينادي - ليرجع قايمكم وينتبه نايمكم وليس الفجر ان يقول هكذا " . قال مسدد وجمع يحيى كفيه حتى يقول هكذا ومد يحيى باصبعيه السبابتين
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن النعمان، حدثني قيس بن طلق، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا واشربوا ولا يهيدنكم الساطع المصعد فكلوا واشربوا حتى يعترض لكم الاحمر " . قال ابو داود هذا مما تفرد به اهل اليمامة
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۷ ) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے ( صبح صادق جاننے کی غرض سے ) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حصين بن نمير، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، - المعنى - عن حصين، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال لما نزلت هذه الاية { حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود } . قال اخذت عقالا ابيض وعقالا اسود فوضعتهما تحت وسادتي فنظرت فلم اتبين فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فضحك فقال " ان وسادك لعريض طويل انما هو الليل والنهار " . قال عثمان " انما هو سواد الليل وبياض النهار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور ( کھانے پینے کا ) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سمع احدكم النداء والاناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا هشام، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن هشام، - المعنى - قال هشام بن عروة عن ابيه، عن عاصم بن عمر، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا جاء الليل من ها هنا وذهب النهار من ها هنا " . زاد مسدد " وغابت الشمس فقد افطر الصايم
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! ( سواری سے ) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا سليمان الشيباني، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صايم فلما غربت الشمس قال " يا بلال انزل فاجدح لنا " . قال يا رسول الله لو امسيت . قال " انزل فاجدح لنا " . قال يا رسول الله ان عليك نهارا . قال " انزل فاجدح لنا " . فنزل فجدح فشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " اذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصايم " . واشار باصبعه قبل المشرق