Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۷ ) یہی وہ چیز تھی جس کا فائدہ اللہ نے لوگوں کو دیا اور جس کی انہیں رخصت اور آسانی دی۔
حدثنا احمد بن محمد بن شبوية، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { يا ايها الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم } فكان الناس على عهد النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلوا العتمة حرم عليهم الطعام والشراب والنساء وصاموا الى القابلة فاختان رجل نفسه فجامع امراته وقد صلى العشاء ولم يفطر فاراد الله عز وجل ان يجعل ذلك يسرا لمن بقي ورخصة ومنفعة فقال سبحانه { علم الله انكم كنتم تختانون انفسكم } . وكان هذا مما نفع الله به الناس ورخص لهم ويسر
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ابتداء اسلام میں ) آدمی جب روزہ رکھتا تھا تو سونے کے بعد آئندہ رات تک کھانا نہیں کھاتا تھا، صرمۃ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ ( کھانا ) ہے؟ وہ بولی: کچھ نہیں ہے لیکن جاتی ہوں ہو سکتا ہے ڈھونڈنے سے کچھ مل جائے، تو وہ چلی گئی لیکن حرمہ کو نیند آ گئی وہ آئی تو ( دیکھ کر ) کہنے لگی کہ اب تو تم ( کھانے سے ) محروم رہ گئے دوپہر کا وقت ہوا بھی نہیں کہ ( بھوک کے مارے ) ان پر غشی طاری ہو گئی اور وہ دن بھر اپنے زمین میں کام کرتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے جماع حلال کر دیا گیا ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «من الفجر» تک پوری آیت پڑھی۔
حدثنا نصر بن علي بن نصر الجهضمي، اخبرنا ابو احمد، اخبرنا اسراييل، عن اسحاق، عن البراء، قال كان الرجل اذا صام فنام لم ياكل الى مثلها وان صرمة بن قيس الانصاري اتى امراته وكان صايما فقال عندك شىء قالت لا لعلي اذهب فاطلب لك شييا . فذهبت وغلبته عينه فجاءت فقالت خيبة لك . فلم ينتصف النهار حتى غشي عليه وكان يعمل يومه في ارضه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت { احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم } قرا الى قوله { من الفجر}
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بكر، - يعني ابن مضر - عن عمرو بن الحارث، عن بكير، عن يزيد، مولى سلمة عن سلمة بن الاكوع، قال لما نزلت هذه الاية { وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين } كان من اراد منا ان يفطر ويفتدي فعل حتى نزلت الاية التي بعدها فنسختها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص ایک مسکین کا کھانا فدیہ دینا چاہتا دے دیتا اور اس کا روزہ مکمل ہو جاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم» ( سورۃ البقرہ: ۱۸۴ ) پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے ، پھر فرمایا: «فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر» ( سورۃ البقرہ: ۱۸۵ ) تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے ۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين } فكان من شاء منهم ان يفتدي بطعام مسكين افتدى وتم له صومه فقال { فمن تطوع خيرا فهو خير له وان تصوموا خير لكم } وقال { فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا او على سفر فعدة من ايام اخر}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اس آیت کا حکم حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے حق میں باقی رکھا گیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، ان عكرمة، حدثه ان ابن عباس قال اثبتت للحبلى والمرضع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» زیادہ بوڑھے مرد و عورت ( جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، { وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين } قال كانت رخصة للشيخ الكبير والمراة الكبيرة وهما يطيقان الصيام ان يفطرا ويطعما مكان كل يوم مسكينا والحبلى والمرضع اذا خافتا - قال ابو داود يعني على اولادهما - افطرتا واطعمتا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب و کتاب، مہینہ ایسا، ایسا اور ایسا ہوتا ہے، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا ) ، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الاسود بن قيس، عن سعيد بن عمرو، - يعني ابن سعيد بن العاص - عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا امة امية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا و هكذا وهكذا " . وخنس سليمان اصبعه في الثالثة يعني تسعا وعشرين وثلاثين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون فلا تصوموا حتى تروه ولا تفطروا حتى تروه فان غم عليكم فاقدروا له ثلاثين " . قال فكان ابن عمر اذا كان شعبان تسعا وعشرين نظر له فان روي فذاك وان لم ير ولم يحل دون منظره سحاب ولا قترة اصبح مفطرا فان حال دون منظره سحاب او قترة اصبح صايما . قال فكان ابن عمر يفطر مع الناس ولا ياخذ بهذا الحساب
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے۔ ۔ ۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں ( تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں ) ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا عبد الوهاب، حدثني ايوب، قال كتب عمر بن عبد العزيز الى اهل البصرة بلغنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . نحو حديث ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم زاد وان احسن ما يقدر له اذا راينا هلال شعبان لكذا وكذا فالصوم ان شاء الله لكذا وكذا الا ان تروا الهلال قبل ذلك
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، عن ابن ابي زايدة، عن عيسى بن دينار، عن ابيه، عن عمرو بن الحارث بن ابي ضرار، عن ابن مسعود، قال لما صمنا مع النبي صلى الله عليه وسلم تسعا وعشرين اكثر مما صمنا معه ثلاثين
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، ان يزيد بن زريع، حدثهم حدثنا خالد الحذاء، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، - في حديث ايوب - عن محمد بن المنكدر، عن ابي هريرة، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم فيه قال " وفطركم يوم تفطرون واضحاكم يوم تضحون وكل عرفة موقف وكل منى منحر وكل فجاج مكة منحر وكل جمع موقف
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثني عبد الرحمن بن مهدي، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - تقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ من غيره ثم يصوم لروية رمضان فان غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا جرير بن عبد الحميد الضبي، عن منصور بن المعتمر، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا الشهر حتى تروا الهلال او تكملوا العدة ثم صوموا حتى تروا الهلال او تكملوا العدة " . قال ابو داود ورواه سفيان وغيره عن منصور عن ربعي عن رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لم يسم حذيفة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، ( جب تک کہ شوال کا ) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «فأتموا العدة ثلاثين» کے بعد «ثم أفطروا» نہیں کہا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا حسين، عن زايدة، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا الشهر بصيام يوم ولا يومين الا ان يكون شىء يصومه احدكم ولا تصوموا حتى تروه ثم صوموا حتى تروه فان حال دونه غمامة فاتموا العدة ثلاثين ثم افطروا و الشهر تسع وعشرون " . قال ابو داود رواه حاتم بن ابي صغيرة وشعبة والحسن بن صالح عن سماك بمعناه لم يقولوا " ثم افطروا " . قال ابو داود وهو حاتم بن مسلم بن ابي صغيرة وابو صغيرة زوج امه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ۱؎؟ ، جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ( رمضان کے ) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو ، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: دو روزے رکھ لیا کرو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن مطرف، عن عمران بن حصين، وسعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل " هل صمت من سرر شعبان شييا " . قال لا . قال " فاذا افطرت فصم يوما " . وقال احدهما " يومين
ابوازہر مغیرہ بن فروہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیر مسحل پر ( جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے ) ، کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے روزہ رکھ رہا ہوں، جو شخص روزہ رکھنا چاہے رکھ لے، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور آخر شعبان کے ۔
حدثنا ابراهيم بن العلاء الزبيدي، من كتابه حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، عن ابي الازهر المغيرة بن فروة، قال قام معاوية في الناس بدير مسحل الذي على باب حمص فقال يا ايها الناس انا قد راينا الهلال يوم كذا وكذا وانا متقدم بالصيام فمن احب ان يفعله فليفعله . قال فقام اليه مالك بن هبيرة السبيي فقال يا معاوية اشىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ام شىء من رايك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صوموا الشهر وسره
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں: میں نے ابوعمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ «سرہ»کے معنی اوائل ماہ کے ہیں۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، - في هذا الحديث - قال قال الوليد سمعت ابا عمرو - يعني الاوزاعي - يقول سره اوله
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه»کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے۔
حدثنا احمد بن عبد الواحد، حدثنا ابو مسهر، قال كان سعيد - يعني ابن عبد العزيز - يقول سره اوله . قال ابو داود وقال بعضهم سره وسطه وقالوا اخره
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے ( وہاں پہنچ کر ) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - اخبرني محمد بن ابي حرملة، اخبرني كريب، ان ام الفضل ابنة الحارث، بعثته الى معاوية بالشام قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها فاستهل رمضان وانا بالشام فراينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في اخر الشهر فسالني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رايتم الهلال قلت رايته ليلة الجمعة . قال انت رايته قلت نعم وراه الناس وصاموا وصام معاوية . قال لكنا رايناه ليلة السبت فلا نزال نصومه حتى نكمل الثلاثين او نراه . فقلت افلا تكتفي بروية معاوية وصيامه قال لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم