Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن يزيد بن ابي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو صايم محرم
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حالت روزے میں ) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، حدثني رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الحجامة والمواصلة ولم يحرمهما ابقاء على اصحابه فقيل له يا رسول الله انك تواصل الى السحر . فقال " اني اواصل الى السحر وربي يطعمني ويسقيني
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن ثابت، قال قال انس ما كنا ندع الحجامة للصايم الا كراهية الجهد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن زيد بن اسلم، عن رجل، من اصحابه عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يفطر من قاء ولا من احتلم ولا من احتجم
معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا علي بن ثابت، حدثني عبد الرحمن بن النعمان بن معبد بن هوذة، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه امر بالاثمد المروح عند النوم وقال " ليتقه الصايم " . قال ابو داود قال لي يحيى بن معين هو حديث منكر يعني حديث الكحل
عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا ابو معاوية، عن عتبة، عن ابي معاذ، عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس بن مالك، انه كان يكتحل وهو صايم
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الله المخرمي، ويحيى بن موسى البلخي، قالا حدثنا يحيى بن عيسى، عن الاعمش، قال ما رايت احدا من اصحابنا يكره الكحل للصايم وكان ابراهيم يرخص ان يكتحل الصايم بالصبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ذرعه قىء وهو صايم فليس عليه قضاء وان استقاء فليقض " . قال ابو داود رواه ايضا حفص بن غياث عن هشام مثله
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين، عن يحيى، حدثني عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعي، عن يعيش بن الوليد بن هشام، ان اباه، حدثه حدثني معدان بن طلحة، ان ابا الدرداء، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قاء فافطر فلقيت ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد دمشق فقلت ان ابا الدرداء حدثني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قاء فافطر . قال صدق وانا صببت له وضوءه صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، وعلقمة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل وهو صايم ويباشر وهو صايم ولكنه كان املك لاربه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے مہینے میں بوسہ لیتے ( لے لیا کرتے ) تھے۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا ابو الاحوص، عن زياد بن علاقة، عن عمرو بن ميمون، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل في شهر الصوم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی روزے سے ہوتی
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن طلحة بن عبد الله، - يعني ابن عثمان القرشي - عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلني وهو صايم وانا صايمة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو ( تو کیا ہوا ) ، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بس کوئی بات نہیں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا الليث، ح وحدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث بن سعد، عن بكير بن عبد الله، عن عبد الملك بن سعيد، عن جابر بن عبد الله، قال قال عمر بن الخطاب هششت فقبلت وانا صايم، فقلت يا رسول الله صنعت اليوم امرا عظيما قبلت وانا صايم . قال " ارايت لو مضمضت من الماء وانت صايم " . قال عيسى بن حماد في حديثه قلت لا باس به . ثم اتفقا قال " فمه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے اور ان کی زبان چوستے تھے۔ ابن اعرابی کہتے ہیں: یہ سند صحیح نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا محمد بن دينار، حدثنا سعد بن اوس العبدي، عن مصدع ابي يحيى، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبلها وهو صايم ويمص لسانها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، - يعني الزبيري - اخبرنا اسراييل، عن ابي العنبس، عن الاغر، عن ابي هريرة، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن المباشرة للصايم فرخص له واتاه اخر فساله فنهاه . فاذا الذي رخص له شيخ والذي نهاه شاب
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو ( جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے ) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا عبد الله بن محمد بن اسحاق الاذرمي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك، عن عبد ربه بن سعيد، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن عايشة، وام سلمة زوجى النبي صلى الله عليه وسلم انهما قالتا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا . قال عبد الله الاذرمي في حديثه في رمضان من جماع غير احتلام ثم يصوم . قال ابو داود وما اقل من يقول هذه الكلمة - يعني يصبح جنبا في رمضان - وانما الحديث ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصبح جنبا وهو صايم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، - يعني القعنبي - عن مالك، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الانصاري، عن ابي يونس، مولى عايشة عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم وهو واقف على الباب يا رسول الله اني اصبح جنبا وانا اريد الصيام . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وانا اصبح جنبا وانا اريد الصيام فاغتسل واصوم " . فقال الرجل يا رسول الله انك لست مثلنا قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " والله اني لارجو ان اكون اخشاكم لله واعلمكم بما اتبع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔
حدثنا مسدد، ومحمد بن عيسى، - المعنى - قالا حدثنا سفيان، - قال مسدد - حدثنا الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت . فقال " ما شانك " . قال وقعت على امراتي في رمضان . قال " فهل تجد ما تعتق رقبة " . قال لا . قال " فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين " . قال لا . قال " فهل تستطيع ان تطعم ستين مسكينا " . قال لا . قال " اجلس " . فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر فقال " تصدق به " . فقال يا رسول الله ما بين لابتيها اهل بيت افقر منا فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت ثناياه قال " فاطعمه اياهم " . وقال مسدد في موضع اخر انيابه
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، بهذا الحديث بمعناه . زاد الزهري وانما كان هذا رخصة له خاصة فلو ان رجلا فعل ذلك اليوم لم يكن له بد من التكفير . قال ابو داود رواه الليث بن سعد والاوزاعي ومنصور بن المعتمر وعراك بن مالك على معنى ابن عيينة . زاد الاوزاعي واستغفر الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو ( ان میں سے ) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رجلا، افطر في رمضان فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعتق رقبة او يصوم شهرين متتابعين او يطعم ستين مسكينا . قال لا اجد . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجلس " . فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر فقال " خذ هذا فتصدق به " . فقال يا رسول الله ما احد احوج مني . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه وقال له " كله " . قال ابو داود رواه ابن جريج عن الزهري على لفظ مالك ان رجلا افطر وقال فيه " او تعتق رقبة او تصوم شهرين او تطعم ستين مسكينا