Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا هشام بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم افطر في رمضان بهذا الحديث . قال فاتي بعرق فيه تمر قدر خمسة عشر صاعا وقال فيه " كله انت واهل بيتك وصم يوما واستغفر الله
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو ، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھا لو ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه ان محمد بن جعفر بن الزبير حدثه ان عباد بن عبد الله بن الزبير حدثه انه، سمع عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول اتى رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد في رمضان فقال يا رسول الله احترقت . فساله النبي صلى الله عليه وسلم ما شانه قال اصبت اهلي . قال " تصدق " . قال والله ما لي شىء ولا اقدر عليه . قال " اجلس " . فجلس فبينما هو على ذلك اقبل رجل يسوق حمارا عليه طعام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اين المحترق انفا " . فقام الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تصدق بهذا " . فقال يا رسول الله اعلى غيرنا فوالله انا لجياع ما لنا شىء . قال " كلوه
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابن ابي الزناد، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عباد بن عبد الله، عن عايشة، بهذه القصة قال فاتي بعرق فيه عشرون صاعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے ۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا شعبة، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عمارة بن عمير، عن ابن مطوس، عن ابيه، - قال ابن كثير عن ابي المطوس، عن ابيه، - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افطر يوما من رمضان من غير رخصة رخصها الله له لم يقض عنه صيام الدهر
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر ( ۲۳۹۶ ) کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني حبيب، عن عمارة، عن ابن المطوس، - قال فلقيت ابن المطوس فحدثني - عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم مثل حديث ابن كثير وسليمان . قال ابو داود واختلف على سفيان وشعبة عنهما ابن المطوس وابو المطوس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، وحبيب، وهشام، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اكلت وشربت ناسيا وانا صايم . فقال " اطعمك الله وسقاك
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه سمع عايشة، - رضى الله عنها - تقول ان كان ليكون على الصوم من رمضان فما استطيع ان اقضيه حتى ياتي شعبان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مات وعليه صيام صام عنه وليه " . قال ابو داود هذا في النذر وهو قول احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي حصين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اذا مرض الرجل في رمضان ثم مات ولم يصم اطعم عنه ولم يكن عليه قضاء وان كان عليه نذر قضى عنه وليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان حمزة الاسلمي، سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني رجل اسرد الصوم افاصوم في السفر قال " صم ان شيت وافطر ان شيت
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! جیسا بھی تم چاہو ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن عبد المجيد المدني، قال سمعت حمزة بن محمد بن حمزة الاسلمي، يذكر ان اباه، اخبره عن جده، قال قلت يا رسول الله اني صاحب ظهر اعالجه اسافر عليه واكريه وانه ربما صادفني هذا الشهر - يعني رمضان - وانا اجد القوة وانا شاب واجد بان اصوم يا رسول الله اهون على من ان اوخره فيكون دينا افاصوم يا رسول الله اعظم لاجري او افطر قال " اى ذلك شيت يا حمزة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی وغیرہ کا ) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں ( کہ میں روزے سے نہیں ہوں ) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة حتى بلغ عسفان ثم دعا باناء فرفعه الى فيه ليريه الناس وذلك في رمضان . فكان ابن عباس يقول قد صام النبي صلى الله عليه وسلم وافطر فمن شاء صام ومن شاء افطر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، عن حميد الطويل، عن انس، قال سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فصام بعضنا وافطر بعضنا فلم يعب الصايم على المفطر ولا المفطر على الصايم
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا ، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔
حدثنا احمد بن صالح، ووهب بن بيان، - المعنى - قالا حدثنا ابن وهب، حدثني معاوية، عن ربيعة بن يزيد، انه حدثه عن قزعة، قال اتيت ابا سعيد الخدري وهو يفتي الناس وهم مكبون عليه فانتظرت خلوته فلما خلا سالته عن صيام رمضان في السفر فقال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في رمضان عام الفتح فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ونصوم حتى بلغ منزلا من المنازل فقال " انكم قد دنوتم من عدوكم والفطر اقوى لكم " . فاصبحنا منا الصايم ومنا المفطر - قال - ثم سرنا فنزلنا منزلا فقال " انكم تصبحون عدوكم والفطر اقوى لكم فافطروا " . فكانت عزيمة من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو سعيد ثم لقد رايتني اصوم مع النبي صلى الله عليه وسلم قبل ذلك وبعد ذلك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن محمد بن عبد الرحمن، - يعني ابن سعد بن زرارة - عن محمد بن عمرو بن حسن، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يظلل عليه والزحام عليه فقال " ليس من البر الصيام في السفر
انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے ( سفر میں ) نماز آدھی کر دی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔
حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا ابو هلال الراسبي، حدثنا ابن سوادة القشيري، عن انس بن مالك، - رجل من بني عبد الله بن كعب اخوة بني قشير - قال اغارت علينا خيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم فانتهيت - او قال فانطلقت - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ياكل فقال " اجلس فاصب من طعامنا هذا " . فقلت اني صايم . قال " اجلس احدثك عن الصلاة وعن الصيام ان الله تعالى وضع شطر الصلاة او نصف الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع او الحبلى " . والله لقد قالهما جميعا او احدهما قال فتلهفت نفسي ان لا اكون اكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، حدثني اسماعيل بن عبيد الله، حدثتني ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته في حر شديد حتى ان احدنا ليضع يده على راسه او كفه على راسه من شدة الحر ما فينا صايم الا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعبد الله بن رواحة
سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پا لے روزے رکھے ۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا هاشم بن القاسم، ح وحدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا ابو قتيبة، - المعنى - قالا حدثنا عبد الصمد بن حبيب بن عبد الله الازدي، حدثني حبيب بن عبد الله، قال سمعت سنان بن سلمة بن المحبق الهذلي، يحدث عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له حمولة تاوي الى شبع فليصم رمضان حيث ادركه
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حالت سفر میں رمضان جسے پا لے … ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا نصر بن المهاجر، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الصمد بن حبيب، قال حدثني ابي، عن سنان بن سلمة، عن سلمة بن المحبق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادركه رمضان في السفر " . فذكر معناه
عبید بن جبر کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آ گیا، ( جعفر کی روایت میں ہے کہ ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے: نزدیک آ جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ( شہر کے ) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ ( ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں ) کہنے لگے: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ ( جعفر کی روایت میں ہے ) تو انہوں نے کھانا کھایا۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثني عبد الله بن يزيد، ح وحدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا عبد الله بن يحيى، - المعنى - حدثني سعيد بن ابي ايوب، وزاد، جعفر والليث حدثني يزيد بن ابي حبيب، ان كليب بن ذهل الحضرمي، اخبره عن عبيد، - قال جعفر ابن جبر - قال كنت مع ابي بصرة الغفاري صاحب النبي صلى الله عليه وسلم في سفينة من الفسطاط في رمضان فرفع ثم قرب غداه - قال جعفر في حديثه - فلم يجاوز البيوت حتى دعا بالسفرة قال اقترب . قلت الست ترى البيوت قال ابو بصرة اترغب عن سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال جعفر في حديثه فاكل