Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے ( یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے ) ۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، - يعني ابن سعد - عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن منصور الكلبي، ان دحية بن خليفة، خرج من قرية من دمشق مرة الى قدر قرية عقبة من الفسطاط وذلك ثلاثة اميال في رمضان ثم انه افطر وافطر معه ناس وكره اخرون ان يفطروا فلما رجع الى قريته قال والله لقد رايت اليوم امرا ما كنت اظن اني اراه ان قوما رغبوا عن هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه . يقول ذلك للذين صاموا ثم قال عند ذلك اللهم اقبضني اليك
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، عن عبيد الله، عن نافع، ان ابن عمر، كان يخرج الى الغابة فلا يفطر ولا يقصر
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا ( اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن المهلب بن ابي حبيبة، حدثنا الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقولن احدكم اني صمت رمضان كله و قمته كله " . فلا ادري اكره التزكية او قال لا بد من نومة او رقدة
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وزهير بن حرب، - وهذا حديثه - قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي عبيد، قال شهدت العيد مع عمر فبدا بالصلاة قبل الخطبة ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام هذين اليومين اما يوم الاضحى فتاكلون من لحم نسككم واما يوم الفطر ففطركم من صيامكم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ۱؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ۲؎ کرنے سے ( جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے ) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيام يومين يوم الفطر ويوم الاضحى وعن لبستين الصماء وان يحتبي الرجل في الثوب الواحد وعن الصلاة في ساعتين بعد الصبح وبعد العصر
ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تو روزے سے ہوں ، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن يزيد بن الهاد، عن ابي مرة، مولى ام هاني انه دخل مع عبد الله بن عمرو على ابيه عمرو بن العاص فقرب اليهما طعاما فقال كل . فقال اني صايم . فقال عمرو كل فهذه الايام التي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا بافطارها وينهانا عن صيامها . قال مالك وهي ايام التشريق
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا وهب، حدثنا موسى بن على، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن موسى بن على، - والاخبار في حديث وهب - قال سمعت ابي انه، سمع عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم عرفة ويوم النحر وايام التشريق عيدنا اهل الاسلام وهي ايام اكل وشرب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصم احدكم يوم الجمعة الا ان يصوم قبله بيوم او بعده
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر ( ہفتے ) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو ( اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے ) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا سفيان بن حبيب، ح وحدثنا يزيد بن قبيس، - من اهل جبلة - حدثنا الوليد، جميعا عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن بسر السلمي، عن اخته، - وقال يزيد الصماء - ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصوموا يوم السبت الا فيما افترض عليكم وان لم يجد احدكم الا لحاء عنبة او عود شجرة فليمضغه " . قال ابو داود وهذا حديث منسوخ
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہا: نہیں، فرمایا: کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ بولیں: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو ۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن قتادة، ح وحدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن ابي ايوب، - قال حفص العتكي - عن جويرية بنت الحارث، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوم الجمعة وهي صايمة فقال " اصمت امس " . قالت لا . قال " تريدين ان تصومي غدا " . قالت لا . قال " فافطري
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر ( ہفتے ) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب، حدثنا ابن وهب، قال سمعت الليث، يحدث عن ابن شهاب، انه كان اذا ذكر له انه نهي عن صيام يوم السبت يقول ابن شهاب هذا حديث حمصي
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث ( یعنی سنیچر ( ہفتے ) کے روزے کی ممانعت والی حدیث ) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، قال ما زلت له كاتما حتى رايته انتشر . يعني حديث عبد الله بن بسر هذا في صوم يوم السبت . قال ابو داود قال مالك هذا كذب
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اس سوال پر غصہ آ گیا، عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا: «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر ( عمر رضی اللہ عنہ نے ) پوچھا: اللہ کے رسول! جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: نہ اس نے روزہ ہی رکھا اور نہ افطار ہی کیا ۔ پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کسی کے اندر طاقت ہے بھی؟ ۔ ( پھر ) انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ پوچھا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور دو دن افطار کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت ملے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں، یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ( دس محرم الحرام ) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف تصوم فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم من قوله فلما راى ذلك عمر قال رضينا بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله . فلم يزل عمر يرددها حتى سكن غضب رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر كله قال " لا صام ولا افطر " . قال مسدد " لم يصم ولم يفطر او ما صام ولا افطر " . شك غيلان . قال يا رسول الله كيف بمن يصوم يومين ويفطر يوما قال " اويطيق ذلك احد " . قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما ويفطر يوما قال " ذلك صوم داود " . قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما ويفطر يومين قال " وددت اني طوقت ذلك " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث من كل شهر ورمضان الى رمضان فهذا صيام الدهر كله وصيام عرفة اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده وصوم يوم عاشوراء اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا مهدي، حدثنا غيلان، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، بهذا الحديث زاد قال يا رسول الله ارايت صوم يوم الاثنين ويوم الخميس قال " فيه ولدت وفيه انزل على القران
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود علیہ السلام کا روزہ ہے میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، وابي، سلمة عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الم احدث انك تقول لاقومن الليل ولاصومن النهار " . قال - احسبه قال - نعم يا رسول الله قد قلت ذاك . قال " قم ونم وصم وافطر وصم من كل شهر ثلاثة ايام وذاك مثل صيام الدهر " . قال قلت يا رسول الله اني اطيق افضل من ذلك . قال " فصم يوما وافطر يومين " . قال فقلت اني اطيق افضل من ذلك قال " فصم يوما وافطر يوما وهو اعدل الصيام وهو صيام داود " . قلت اني اطيق افضل من ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا افضل من ذلك
مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہو؟ جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟ پھر فرمایا: صبر کے مہینہ ( رمضان ) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ ایک روزہ رکھو انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دن روزہ رکھو ، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لو ، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا ۲؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سعيد الجريري، عن ابي السليل، عن مجيبة الباهلية، عن ابيها، او عمها انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انطلق فاتاه بعد سنة وقد تغيرت حالته وهييته فقال يا رسول الله اما تعرفني قال " ومن انت " . قال انا الباهلي الذي جيتك عام الاول . قال " فما غيرك وقد كنت حسن الهيية " . قال ما اكلت طعاما الا بليل منذ فارقتك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لم عذبت نفسك " . ثم قال " صم شهر الصبر ويوما من كل شهر " . قال زدني فان بي قوة . قال " صم يومين " . قال زدني . قال " صم ثلاثة ايام " . قال زدني . قال " صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك " . وقال باصابعه الثلاثة فضمها ثم ارسلها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے ۔
حدثنا مسدد، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصيام بعد شهر رمضان شهر الله المحرم وان افضل الصلاة بعد المفروضة صلاة من الليل " . لم يقل قتيبة " شهر " . قال " رمضان
ثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا عيسى، حدثنا عثمان، - يعني ابن حكيم - قال سالت سعيد بن جبير عن صيام رجب، فقال اخبرني ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، سمع عايشة، تقول كان احب الشهور الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصومه شعبان ثم يصله برمضان
مسلم قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد ( والے ماہ میں ) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا ۔
حدثنا محمد بن عثمان العجلي، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن موسى - عن هارون بن سلمان، عن عبيد الله بن مسلم القرشي، عن ابيه، قال سالت - او سيل النبي صلى الله عليه وسلم - عن صيام الدهر فقال " ان لاهلك عليك حقا صم رمضان والذي يليه وكل اربعاء وخميس فاذا انت قد صمت الدهر " . قال ابو داود وافقه زيد العكلي وخالفه ابو نعيم قال مسلم بن عبيد الله