Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن صفوان بن سليم، وسعد بن سعيد، عن عمر بن ثابت الانصاري، عن ابي ايوب، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام رمضان ثم اتبعه بست من شوال فكانما صام الدهر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم وما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر قط الا رمضان وما رايته في شهر اكثر صياما منه في شعبان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . زاد كان يصومه الا قليلا بل كان يصومه كله
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال ( اونٹ ) کی تلاش میں گئے ( اسامہ کا معمول یہ تھا کہ ) دوشنبہ ( سوموار، پیر ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا: آپ دوشنبہ ( سوموار، پیر ) اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں؟ کہنے لگے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو ( بارگاہ الٰہی میں ) پیش کئے جاتے ہیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن عمر بن ابي الحكم بن ثوبان، عن مولى، قدامة بن مظعون عن مولى، اسامة بن زيد انه انطلق مع اسامة الى وادي القرى في طلب مال له فكان يصوم يوم الاثنين ويوم الخميس فقال له مولاه لم تصوم يوم الاثنين ويوم الخميس وانت شيخ كبير فقال ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم يوم الاثنين ويوم الخميس وسيل عن ذلك فقال " ان اعمال العباد تعرض يوم الاثنين ويوم الخميس " . قال ابو داود كذا قال هشام الدستوايي عن يحيى عن عمر بن ابي الحكم
ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے ( شروع ) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ ( دسویں محرم ) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر ( سوموار، دوشنبہ ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن الحر بن الصباح، عن هنيدة بن خالد، عن امراته، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة ويوم عاشوراء وثلاثة ايام من كل شهر اول اثنين من الشهر والخميس
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، ومجاهد، ومسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ايام العمل الصالح فيها احب الى الله من هذه الايام " . يعني ايام العشر . قالوا يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله قال " ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشىء
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، ومجاهد، ومسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ايام العمل الصالح فيها احب الى الله من هذه الايام " . يعني ايام العشر . قالوا يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله قال " ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشىء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صايما العشر قط
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کے روزے سے منع فرمایا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حوشب بن عقيل، عن مهدي الهجري، حدثنا عكرمة، قال كنا عند ابي هريرة في بيته فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صوم يو�� عرفة بعرفة
ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چنانچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي النضر، عن عمير، مولى عبد الله بن عباس عن ام الفضل بنت الحارث، ان ناسا، تماروا عندها يوم عرفة في صوم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم هو صايم . وقال بعضهم ليس بصايم . فارسلت اليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشرب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان يوم عاشوراء يوما تصومه قريش في الجاهلية وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه في الجاهلية فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة صامه وامر بصيامه فلما فرض رمضان كان هو الفريضة وترك عاشوراء فمن شاء صامه ومن شاء تركه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( یوم عاشوراء ) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال كان عاشوراء يوما نصومه في الجاهلية فلما نزل رمضان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا يوم من ايام الله فمن شاء صامه ومن شاء تركه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( وضاحت ) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چنانچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، حدثنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وجد اليهود يصومون عاشوراء فسيلوا عن ذلك فقالوا هذا اليوم الذي اظهر الله فيه موسى على فرعون ونحن نصومه تعظيما له . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن اولى بموسى منكم " . وامر بصيامه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، ان اسماعيل بن امية القرشي، حدثه انه، سمع ابا غطفان، يقول سمعت عبد الله بن عباس، يقول حين صام النبي صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وامرنا بصيامه قالوا يا رسول الله انه يوم تعظمه اليهود والنصارى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاذا كان العام المقبل صمنا يوم التاسع " . فلم يات العام المقبل حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم
حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ( ہاں ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - يعني ابن سعيد - عن معاوية بن غلاب، ح وحدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرني حاجب بن عمر، - جميعا المعنى - عن الحكم بن الاعرج، قال اتيت ابن عباس وهو متوسد رداءه في المسجد الحرام فسالته عن صوم يوم عاشوراء فقال اذا رايت هلال المحرم فاعدد فاذا كان يوم التاسع فاصبح صايما . فقلت كذا كان محمد صلى الله عليه وسلم يصوم فقال كذلك كان محمد صلى الله عليه وسلم يصوم
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے؟ جواب دیا: نہیں، فرمایا: دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔
حدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن مسلمة، عن عمه، ان اسلم، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " صمتم يومكم هذا " . قالوا لا . قال " فاتموا بقية يومكم واقضوه " . قال ابو داود يعني يوم عاشوراء
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے ( تہجد پڑھتے ) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومحمد بن عيسى، ومسدد، - والاخبار في حديث احمد - قالوا حدثنا سفيان قال سمعت عمرا قال اخبرني عمرو بن اوس سمعه من عبد الله بن عمرو قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الصيام الى الله تعالى صيام داود واحب الصلاة الى الله صلاة داود كان ينام نصفه ويقوم ثلثه وينام سدسه وكان يفطر يوما ويصوم يوما
قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے: یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن انس، اخي محمد عن ابن ملحان القيسي، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا ان نصوم البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة . قال وقال " هن كهيية الدهر
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو داود، حدثنا شيبان، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم - يعني من غرة كل شهر - ثلاثة ايام
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو داود، حدثنا شيبان، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم - يعني من غرة كل شهر - ثلاثة ايام
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی ( پہلے ہفتہ کے ) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عاصم بن بهدلة، عن سواء الخزاعي، عن حفصة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ثلاثة ايام من الشهر الاثنين والخميس والاثنين من الجمعة الاخرى
ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ۱؎۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الحسن بن عبيد الله، عن هنيدة الخزاعي، عن امه، قالت دخلت على ام سلمة فسالتها عن الصيام فقالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرني ان اصوم ثلاثة ايام من كل شهر اولها الاثنين والخميس