Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن يزيد الرشك، عن معاذة، قالت قلت لعايشة اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر ثلاثة ايام قالت نعم . قلت من اى شهر كان يصوم قالت ما كان يبالي من اى ايام الشهر كان يصوم
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني ابن لهيعة، ويحيى بن ايوب، عن عبد الله بن ابي بكر بن حزم، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له " . قال ابو داود رواه الليث واسحاق بن حازم ايضا جميعا عن عبد الله بن ابي بكر مثله ووقفه على حفصة معمر والزبيدي وابن عيينة ويونس الايلي كلهم عن الزهري
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں ( کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا ) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، جميعا عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل على قال " هل عندكم طعام " . فاذا قلنا لا قال " اني صايم " . زاد وكيع فدخل علينا يوما اخر فقلنا يا رسول الله اهدي لنا حيس فحبسناه لك . فقال " ادنيه " . قال طلحة فاصبح صايما وافطر
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن ام هاني، قالت لما كان يوم الفتح فتح مكة جاءت فاطمة فجلست عن يسار رسول الله صلى الله عليه وسلم وام هاني عن يمينه قالت فجاءت الوليدة باناء فيه شراب فناولته فشرب منه ثم ناوله ام هاني فشربت منه فقالت يا رسول الله لقد افطرت وكنت صايمة . فقال لها " اكنت تقضين شييا " . قالت لا . قال " فلا يضرك ان كان تطوعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني حيوة بن شريح، عن ابن الهاد، عن زميل، مولى عروة عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت اهدي لي ولحفصة طعام وكنا صايمتين فافطرنا ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا له يا رسول الله انا اهديت لنا هدية فاشتهيناها فافطرنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عليكما صوما مكانه يوما اخر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن همام بن منبه، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصوم المراة وبعلها شاهد الا باذنه غير رمضان ولا تاذن في بيته وهو شاهد الا باذنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے ( دو دو سورتیں پڑھنے سے ) منع کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل روزہ ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم ونحن عنده فقالت يا رسول الله ان زوجي صفوان بن المعطل يضربني اذا صليت ويفطرني اذا صمت ولا يصلي صلاة الفجر حتى تطلع الشمس . قال وصفوان عنده . قال فساله عما قالت فقال يا رسول الله اما قولها يضربني اذا صليت فانها تقرا بسورتين وقد نهيتها . قال فقال " لو كانت سورة واحدة لكفت الناس " . واما قولها يفطرني فانها تنطلق فتصوم وانا رجل شاب فلا اصبر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ " لا تصوم امراة الا باذن زوجها " . واما قولها اني لا اصلي حتى تطلع الشمس فانا اهل بيت قد عرف لنا ذاك لا نكاد نستيقظ حتى تطلع الشمس . قال " فاذا استيقظت فصل " . قال ابو داود رواه حماد - يعني ابن سلمة - عن حميد او ثابت عن ابي المتوكل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد، عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دعي احدكم فليجب فان كان مفطرا فليطعم وان كان صايما فليصل " . قال هشام والصلاة الدعاء . قال ابو داود رواه حفص بن غياث ايضا عن هشام
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دعي احدكم الى طعام وهو صايم فليقل اني صايم
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دعي احدكم الى طعام وهو صايم فليقل اني صايم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان حتى قبضه الله ثم اعتكف ازواجه من بعده
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال ( کسی وجہ سے ) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن ابي رافع، عن ابى بن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان فلم يعتكف عاما فلما كان العام المقبل اعتكف عشرين ليلة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ويعلى بن عبيد، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يعتكف صلى الفجر ثم دخل معتكفه . قالت وانه اراد مرة ان يعتكف في العشر الاواخر من رمضان . قالت فامر ببنايه فضرب فلما رايت ذلك امرت ببنايي فضرب . قالت وامر غيري من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ببنايه فضرب فلما صلى الفجر نظر الى الابنية فقال " ما هذه البر تردن " . قالت فامر ببنايه فقوض وامر ازواجه بابنيتهن فقوضت ثم اخر الاعتكاف الى العشر الاول يعني من شوال . قال ابو داود رواه ابن اسحاق والاوزاعي عن يحيى بن سعيد نحوه ورواه مالك عن يحيى بن سعيد قال اعتكف عشرين من شوال
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، عن يونس، ان نافعا، اخبره عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان . قال نافع وقد اراني عبد الله المكان الذي يعتكف فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم من المسجد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حدثنا هناد، عن ابي بكر، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف كل رمضان عشرة ايام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو ( مسجد ہی سے ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعتكف يدني الى راسه فارجله وكان لا يدخل البيت الا لحاجة الانسان
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وعبد الله بن مسلمة، قالا حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو داود وكذلك رواه يونس عن الزهري ولم يتابع احد مالكا على عروة عن عمرة ورواه معمر وزياد بن سعد وغيرهما عن الزهري عن عروة عن عايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون معتكفا في المسجد فيناولني راسه من خلل الحجرة فاغسل راسه . وقال مسدد فارجله وانا حايض
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا: کوئی شر ) نہ ڈال دے ۔
حدثنا احمد بن محمد بن شبوية المروزي، حدثني عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن صفية، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم معتكفا فاتيته ازوره ليلا فحدثته ثم قمت فانقلبت فقام معي ليقلبني - وكان مسكنها في دار اسامة بن زيد - فمر رجلان من الانصار فلما رايا النبي صلى الله عليه وسلم اسرعا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على رسلكما انها صفية بنت حيى " . قالا سبحان الله يا رسول الله . قال " ان الشيطان يجري من الانسان مجرى الدم فخشيت ان يقذف في قلوبكما شييا " . او قال " شرا
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، باسناده بهذا قالت حتى اذا كان عند باب المسجد الذي عند باب ام سلمة مر بهما رجلان . وساق معناه
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، باسناده بهذا قالت حتى اذا كان عند باب المسجد الذي عند باب ام سلمة مر بهما رجلان . وساق معناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، ومحمد بن عيسى، قالا حدثنا عبد السلام بن حرب، اخبرنا الليث بن ابي سليم، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، - قال النفيلي - قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يمر بالمريض وهو معتكف فيمر كما هو ولا يعرج يسال عنه . وقال ابن عيسى قالت ان كان النبي صلى الله عليه وسلم يعود المريض وهو معتكف