Loading...

Loading...
کتب
۱۶۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن عبد الرحمن، - يعني ابن اسحاق - عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، انها قالت السنة على المعتكف ان لا يعود مريضا ولا يشهد جنازة ولا يمس امراة ولا يباشرها ولا يخرج لحاجة الا لما لا بد منه ولا اعتكاف الا بصوم ولا اعتكاف الا في مسجد جامع . قال ابو داود غير عبد الرحمن بن اسحاق لا يقول فيه قالت السنة . قال ابو داود جعله قول عايشة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا ابو داود، حدثنا عبد الله بن بديل، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، ان عمر، - رضى الله عنه - جعل عليه ان يعتكف في الجاهلية ليلة او يوما عند الكعبة فسال النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعتكف وصم
اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی ( تو انہیں میں سے ہے ) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا۔
حدثنا عبد الله بن عمر بن محمد، عن ابان بن صالح القرشي، حدثنا عمرو بن محمد، - يعني العنقزي - عن عبد الله بن بديل، باسناده نحوه قال فبينما هو معتكف اذ كبر الناس فقال ما هذا يا عبد الله قال سبى هوازن اعتقهم النبي صلى الله عليه وسلم قال وتلك الجارية . فارسلها معهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ ( خون میں ) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں ( یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا ) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے ( خون کے لیے ) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت نماز میں ہوتیں۔
حدثنا محمد بن عيسى، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا يزيد، عن خالد، عن عكرمة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت اعتكفت مع النبي صلى الله عليه وسلم امراة من ازواجه فكانت ترى الصفرة والحمرة فربما وضعنا الطست تحتها وهي تصلي