Loading...

Loading...
کتب
۱۳۶ احادیث
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے ہمیں اپنے والد عروہ سے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین کو شکست ہو گئی تو ابلیس نے چلا کر کہا کہ اے اللہ کے بندو! ( یعنی مسلمانو ) اپنے پیچھے والوں سے بچو، چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والوں کو ( جو مسلمان ہی تھے ) انہوں نے مارنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے تھے۔ انہوں نے بہتیرا کہا کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ لوگوں نے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا نہ چھوڑا۔ بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ خیر۔ اللہ تمہیں معاف کرے ( کہ تم نے غلط فہمی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ) عروہ نے بیان کیا کہ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ تاآنکہ اللہ سے جا ملے۔
حدثنا زكرياء بن يحيى، حدثنا ابو اسامة، قال هشام اخبرنا عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لما كان يوم احد هزم المشركون فصاح ابليس اى عباد الله اخراكم. فرجعت اولاهم فاجتلدت هي واخراهم، فنظر حذيفة فاذا هو بابيه اليمان فقال اى عباد الله ابي ابي. فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه، فقال حذيفة غفر الله لكم. قال عروة فما زالت في حذيفة منه بقية خير حتى لحق بالله
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے، ان سے اشعث نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی ایک اچک ہے جو وہ تم میں سے ایک کی نماز سے کچھ اچک لیتا ہے۔
حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن اشعث، عن ابيه، عن مسروق، قال قالت عايشة رضى الله عنها سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن التفات الرجل في الصلاة. فقال " هو اختلاس يختلس الشيطان من صلاة احدكم
(دوسری سند) ہم سے ابوالمغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مثل روایت سابقہ کی حدیث بیان کی) مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس لیے اگر کوئی برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اس عمل سے شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“
حدثنا ابو المغيرة، حدثنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثني سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الرويا الصالحة من الله، والحلم من الشيطان فاذا حلم احدكم حلما يخافه فليبصق عن يساره، وليتعوذ بالله من شرها، فانها لا تضره
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر کے غلام سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير.» ”نہیں ہے کوئی معبود، سوا اللہ تعالیٰ کے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا دی جائیں گی۔ اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی۔ تاآنکہ شام ہو جائے اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہ آئے گا، مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. في يوم ماية مرة، كانت له عدل عشر رقاب، وكتبت له ماية حسنة، ومحيت عنه ماية سيية، وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي، ولم يات احد بافضل مما جاء به، الا احد عمل اكثر من ذلك
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید نے خبر دی، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں ( خود آپ کی بیویاں ) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے ( خرچ میں ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں۔ خوب آواز بلند کر کے۔ لیکن جونہی عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا رکھے۔ یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، لیکن آپ یا رسول اللہ! زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں، پھر انہوں نے کہا: اے اپنی جانوں کے دشمنو! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعہ یہی ہے کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے، تو جھٹ وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، ان محمد بن سعد بن ابي وقاص، اخبره ان اباه سعد بن ابي وقاص قال استاذن عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نساء من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية اصواتهن، فلما استاذن عمر، قمن يبتدرن الحجاب، فاذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر اضحك الله سنك يا رسول الله. قال " عجبت من هولاء اللاتي كن عندي، فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ". قال عمر فانت يا رسول الله كنت احق ان يهبن. ثم قال اى عدوات انفسهن، اتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم قلن نعم، انت افظ واغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان قط سالكا فجا الا سلك فجا غير فجك
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی شخص سو کر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے ( جس سے آدمی پر سستی غالب آ جاتی ہے۔ پس ناک جھاڑنے سے وہ سستی دور ہو جائے گی ) ۔“
حدثني ابراهيم بن حمزة، قال حدثني ابن ابي حازم، عن يزيد، عن محمد بن ابراهيم، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ اراه احدكم من منامه فتوضا فليستنثر ثلاثا، فان الشيطان يبيت على خيشومه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری نے اور انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور ( وقت ہونے پر ) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیونکہ مؤذن کی آواز اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة الانصاري، عن ابيه، انه اخبره ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال له " اني اراك تحب الغنم والبادية، فاذا كنت في غنمك وباديتك فاذنت بالصلاة، فارفع صوتك بالنداء، فانه لا يسمع مدى صوت الموذن جن ولا انس ولا شىء الا شهد له يوم القيامة ". قال ابو سعيد سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر يقول " اقتلوا الحيات، واقتلوا ذا الطفيتين والابتر، فانهما يطمسان البصر، ويستسقطان الحبل ". قال عبد الله فبينا انا اطارد، حية لاقتلها فناداني ابو لبابة لا تقتلها. فقلت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر بقتل الحيات. قال انه نهى بعد ذلك عن ذوات البيوت، وهى العوامر
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر يقول " اقتلوا الحيات، واقتلوا ذا الطفيتين والابتر، فانهما يطمسان البصر، ويستسقطان الحبل ". قال عبد الله فبينا انا اطارد، حية لاقتلها فناداني ابو لبابة لا تقتلها. فقلت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر بقتل الحيات. قال انه نهى بعد ذلك عن ذوات البيوت، وهى العوامر
اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب ( دونوں ) نے دیکھا۔
وقال عبد الرزاق عن معمر، فراني ابو لبابة او زيد بن الخطاب. وتابعه يونس وابن عيينة واسحاق الكلبي والزبيدي. وقال صالح وابن ابي حفصة وابن مجمع عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، راني ابو لبابة وزيد بن الخطاب
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك ان يكون خير مال الرجل غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے خبر دی، انہیں اعرج نے خبر دی، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو ( عموماً ) گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " راس الكفر نحو المشرق، والفخر والخيلاء في اهل الخيل والابل، والفدادين اهل الوبر، والسكينة في اهل الغنم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں! ہاں، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، عن عقبة بن عمرو ابي مسعود، قال اشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده نحو اليمن فقال " الايمان يمان ها هنا، الا ان القسوة وغلظ القلوب في الفدادين عند اصول اذناب الابل، حيث يطلع قرنا الشيطان في ربيعة ومضر
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم صياح الديكة فاسالوا الله من فضله، فانها رات ملكا، واذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان، فانه راى شيطانا
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو، کیوں کے شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ”اللہ کا نام لو۔“
حدثنا اسحاق، اخبرنا روح، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان جنح الليل او امسيتم فكفوا صبيانكم، فان الشياطين تنتشر حينيذ، فاذا ذهب ساعة من الليل فحلوهم، واغلقوا الابواب، واذكروا اسم الله، فان الشيطان لا يفتح بابا مغلقا ".��� قال واخبرني عمرو بن دينار سمع جابر بن عبد الله نحو ما اخبرني عطاء ولم يذكر " واذكروا اسم الله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے، ان سے خالد نے ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ ( ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں ) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے ( کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا ) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے ( حیرت سے ) پوچھا، کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سنی ہے؟ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے ) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟ ( کہ اس سے نقل کر کے بیان کرتا ہوں ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، عن محمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فقدت امة من بني اسراييل لا يدرى ما فعلت، واني لا اراها الا الفار اذا وضع لها البان الابل لم تشرب، واذا وضع لها البان الشاء شربت ". فحدثت كعبا فقال انت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقوله قلت نعم. قال لي مرارا. فقلت افاقرا التوراة
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ ( چھپکلی ) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، عن ابن وهب، قال حدثني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، يحدث عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال للوزغ الفويسق. ولم اسمعه امر بقتله. وزعم سعد بن ابي وقاص ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بقتله
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔
حدثنا صدقة، اخبرنا ابن عيينة، حدثنا عبد الحميد بن جبير بن شيبة، عن سعيد بن المسيب، ان ام شريك، اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها بقتل الاوزاغ
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں، انہیں مار ڈالا کرو، کیونکہ وہ اندھا بنا دیتے ہیں اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔“ ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اقتلوا ذا الطفيتين، فانه يلتمس البصر، ويصيب الحبل ". تابعه حماد بن سلمة ابا اسامة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة،، قالت امر النبي صلى الله عليه وسلم بقتل الابتر وقال " انه يصيب البصر، ويذهب الحبل