Loading...

Loading...
کتب
۱۳۶ احادیث
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا، جو رات بھر دن چڑھے تک پڑا سوتا رہا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسا شخص ہے جس کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم رجل نام ليله حتى اصبح، قال " ذاك رجل بال الشيطان في اذنيه او قال في اذنه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے منصور نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے اور یہ دعا پڑتا ہے «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! ہم سے شیطان کو دور رکھ اور جو کچھ ہمیں تو دے ( اولاد ) اس سے بھی شیطان کو دور رکھ۔“ پھر اگر ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اما ان احدكم اذا اتى اهله وقال بسم الله اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا. فرزقا ولدا، لم يضره الشيطان
حدثنا محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا طلع حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تبرز، واذا غاب حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تغيب ". " ولا تحينوا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فانها تطلع بين قرنى شيطان ". او الشيطان. لا ادري اى ذلك قال هشام
حدثنا محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا طلع حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تبرز، واذا غاب حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تغيب ". " ولا تحينوا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فانها تطلع بين قرنى شيطان ". او الشيطان. لا ادري اى ذلك قال هشام
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے حمید بن بلال نے، ان سے ابوصالح نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔“
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا يونس، عن حميد بن هلال، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا مر بين يدى احدكم شىء وهو يصلي فليمنعه، فان ابى فليمنعه، فان ابى فليقاتله، فانما هو شيطان
اور عثمان بن ہیشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت پر مجھے مقرر کیا، ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ لپ بھربھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔ پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی، اس ( چور ) نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب صبح تک نہ آ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات تو اس نے سچی کہی ہے اگرچہ وہ خود جھوٹا ہے، وہ شیطان تھا۔
وقال عثمان بن الهيثم حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان، فاتاني ات، فجعل يحثو من الطعام، فاخذته فقلت لارفعنك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فذكر الحديث فقال اذا اويت الى فراشك فاقرا اية الكرسي لن يزال عليك من الله حافظ، ولا يقربك شيطان حتى تصبح. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدقك وهو كذوب، ذاك شيطان
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی، فلاں چیز کس نے پیدا کی؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے، شیطانی خیال کو چھوڑ دے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، قال ابو هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياتي الشيطان احدكم فيقول من خلق كذا من خلق كذا حتى يقول من خلق ربك فاذا بلغه فليستعذ بالله، ولينته
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے تیمیین کے مولیٰ ابن ابی انس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں کس دیا جاتا ہے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني ابن ابي انس، مولى التيميين ان اباه، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل رمضان فتحت ابواب الجنة، وغلقت ابواب جهنم، وسلسلت الشياطين
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ( نوف بکالی کہتا ہے کہ خضر کے پاس جو موسیٰ گئے تھے وہ دوسرے موسیٰ تھے ) تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر ( یوشع بن نون ) سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لا، اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے جب ہم نے چٹان پر پڑاؤ ڈالا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ( اور اپنے ساتھ نہ لا سکا ) اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان نے غافل رکھا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکن معلوم نہیں کی جب تک اس حد سے نہ گزر لیے، جہاں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، قال اخبرني سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس فقال حدثنا ابى بن كعب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان موسى قال لفتاه اتنا غداءنا، قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة، فاني نسيت الحوت، وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره، ولم يجد موسى النصب حتى جاوز المكان الذي امر الله به
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ ہاں! فتنہ اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير الى المشرق فقال " ها ان الفتنة ها هنا ان الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس ( گھر میں ) روک لو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو ( چلیں پھریں ) پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو ( اور اگر ڈھکن نہ ہو ) تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو۔“
حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن جابر رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استجنح {الليل} او كان جنح الليل فكفوا صبيانكم، فان الشياطين تنتشر حينيذ، فاذا ذهب ساعة من العشاء فحلوهم واغلق بابك، واذكر اسم الله، واطفي مصباحك، واذكر اسم الله، واوك سقاءك، واذكر اسم الله، وخمر اناءك، واذكر اسم الله، ولو تعرض عليه شييا
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے ( مسجد میں ) آئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا مکان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان ہی میں تھا۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ ( اسید بن حضیر، عبادہ بن بشیر ) گزرے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، ذرا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا، سبحان اللہ: یا رسول اللہ! ( کیا ہم بھی آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ نہ ڈال دے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لفظ «سوء» کی جگہ ) لفظ «شيئا» فرمایا، معنی ایک ہی ہیں۔
حدثني محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن صفية ابنة حيى، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم معتكفا، فاتيته ازوره ليلا فحدثته ثم قمت، فانقلبت فقام معي ليقلبني. وكان مسكنها في دار اسامة بن زيد، فمر رجلان من الانصار، فلما رايا النبي صلى الله عليه وسلم اسرعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على رسلكما انها صفية بنت حيى ". فقالا سبحان الله يا رسول الله. قال " ان الشيطان يجري من الانسان مجرى الدم، واني خشيت ان يقذف في قلوبكما سوءا او قال شييا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور ( قریب ہی ) دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ فرمایا «أعوذ بالله من الشيطان.» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان سے۔“ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے، اس نے کہا، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن عدي بن ثابت، عن سليمان بن صرد، قال كنت جالسا مع النبي صلى الله عليه وسلم ورجلان يستبان، فاحدهما احمر وجهه وانتفخت اوداجه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم كلمة لو قالها ذهب عنه ما يجد، لو قال اعوذ بالله من الشيطان. ذهب عنه ما يجد ". فقالوا له ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعوذ بالله من الشيطان ". فقال وهل بي جنون
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور یہ دعا پڑھ لے۔ «اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتني.» ”اے اللہ! مجھے شیطان سے دور رکھ اور جو میری اولاد پیدا ہو، اسے بھی شیطان سے دو رکھ۔“ پھر اس صحبت سے اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ اس پر تسلط قائم کر سکے گا۔ شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی ہی روایت کی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان احدكم اذا اتى اهله قال {اللهم} جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتني. فان كان بينهما ولد لم يضره الشيطان، ولم يسلط عليه ". قال وحدثنا الاعمش عن سالم عن كريب عن ابن عباس مثله
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آ گیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا۔
حدثنا محمود، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى صلاة فقال " ان الشيطان عرض لي، فشد على يقطع الصلاة على، فامكنني الله منه ". فذكره
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان اپنی پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے۔ پھر جب تکبیر ہونے لگتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وساوس ڈالنے لگتا ہے کہ فلاں بات یاد کر اور فلاں بات یاد کر، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ تین رکعت نماز پڑھی تھی یا چار رکعت، جب یہ یاد نہ رہے تو سہو کے دو سجدے کرے۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا نودي بالصلاة ادبر الشيطان وله ضراط، فاذا قضي اقبل، فاذا ثوب بها ادبر، فاذا قضي اقبل، حتى يخطر بين الانسان وقلبه، فيقول اذكر كذا وكذا. حتى لا يدري اثلاثا صلى ام اربعا فاذا لم يدر ثلاثا صلى او اربعا سجد سجدتى السهو
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شیطان ہر انسان کی پیدائش کے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے جب انہیں وہ کچوکے لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا تھا ( جس کے اندر بچہ رہتا ہے۔ اس کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی، اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی اس حرکت سے محفوظ رکھا ) ۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " كل بني ادم يطعن الشيطان في جنبيه باصبعه حين يولد، غير عيسى بن مريم، ذهب يطعن فطعن في الحجاب
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں شام پہنچا تو لوگوں نے کہا، ابودرداء آئے انہوں نے کہا، کیا تم لوگوں میں وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ( یعنی آپ کے زمانے سے ) شیطان سے بچا رکھا ہے۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے یہی حدیث، اس میں یہ ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا، آپ کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن المغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قدمت الشام {فقلت من ها هنا} قالوا ابو الدرداء قال افيكم الذي اجاره الله من الشيطان على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم حدثنا سليمان بن حرب حدثنا شعبة عن مغيرة وقال الذي اجاره الله على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم يعني عمارا
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے ابوالاسود نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے بادل میں آپس میں کسی امر میں جو زمین میں ہونے والا ہوتا ہے باتیں کرتے ہیں۔ «عنان» سے مراد بادل ہے۔ تو شیاطین اس میں سے کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور وہی کاہنوں کے کان میں اس طرح لا کر ڈالتے ہیں جیسے شیشے کا منہ ملا کر اس میں کچھ چھوڑتے ہیں اور وہ کاہن اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتے ہیں۔
قال وقال الليث حدثني خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، ان ابا الاسود، اخبره عروة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الملايكة تتحدث في العنان والعنان الغمام بالامر يكون في الارض، فتسمع الشياطين الكلمة، فتقرها في اذن الكاهن، كما تقر القارورة، فيزيدون معها ماية كذبة
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ کیونکہ جب کوئی ( جمائی لیتے ہوئے ) ”ہاہا“ کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التثاوب من الشيطان، فاذا تثاءب احدكم فليرده ما استطاع، فان احدكم اذا قال ها. ضحك الشيطان