Loading...

Loading...
کتب
۱۳۶ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بہتر ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها
ہم سے روح بن عبدالمؤمن نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چل سکتا ہے اور پھر بھی اس کو طے نہ کر سکے گا۔“
حدثنا روح بن عبد المومن، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها ماية سنة، واقرءوا ان شيتم {وظل ممدود}" «ولقاب قوس احدكم في الجنة خير مما طلعت عليه الشمس او تغرب»
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها ماية سنة، واقرءوا ان شيتم {وظل ممدود}" «ولقاب قوس احدكم في الجنة خير مما طلعت عليه الشمس او تغرب»
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیا، ان سے ہلال نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے، سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہو گا اور نہ حسد، ہر جنتی کی دو حورعین بیویاں ہوں گی، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جا سکے گا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، حدثنا ابي، عن هلال، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " اول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر، والذين على اثارهم كاحسن كوكب دري في السماء اضاءة، قلوبهم على قلب رجل واحد، لا تباغض بينهم ولا تحاسد، لكل امري زوجتان من الحور العين، يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( صاحبزادے ) ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں اسے ایک دودھ پلانے والی انا کے حوالہ کر دیا گیا ہے ( جو ان کو دودھ پلاتی ہے ) ۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال عدي بن ثابت اخبرني قال سمعت البراء رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما مات ابراهيم قال " ان له مرضعا في الجنة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنتی لوگ اپنے سے بلند کمرے والوں کو اوپر اسی طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ستارے کو جو صبح کے وقت رہ گیا ہو، آسمان کے کنارے پورب یا پچھم میں دیکھتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے سے افضل ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو انبیاء کے محل ہوں گے جنہیں ان کے سوار اور کوئی نہ پا سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انبیاء کی تصدیق کی۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني مالك بن انس، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اهل الجنة يتراءيون اهل الغرف من فوقهم كما يتراءيون الكوكب الدري الغابر في الافق من المشرق او المغرب، لتفاضل ما بينهم ". قالوا يا رسول الله، تلك منازل الانبياء لا يبلغها غيرهم قال " بلى والذي نفسي بيده، رجال امنوا بالله وصدقوا المرسلين
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ جس سے داخل ہونے والے صرف روزے دار ہوں گے۔“
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا محمد بن مطرف، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " في الجنة ثمانية ابواب، فيها باب يسمى الريان لا يدخله الا الصايمون
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مہاجر ابوالحسن نے بیان کیا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ( جب بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان دینے اٹھے تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت ذرا ٹھنڈا ہو لینے دو، پھر دوبارہ ( جب وہ اذان کے لیے اٹھے تو پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہی حکم دیا کہ وقت اور ٹھنڈا ہو لینے دو، یہاں تک کہ ٹیلوں کے نیچے سے سایہ ڈھل گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز ٹھنڈے وقت اوقات میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن مهاجر ابي الحسن، قال سمعت زيد بن وهب، يقول سمعت ابا ذر رضى الله عنه يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فقال " ابرد ". ثم قال " ابرد ". حتى فاء الفىء، يعني للتلول، ثم قال " ابردوا بالصلاة، فان شدة الحر من فيح جهنم
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ذكوان، عن ابي سعيد، رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ابردوا بالصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو، اس کا یہی سبب ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشتكت النار الى ربها، فقالت رب اكل بعضي بعضا، فاذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف، فاشد ما تجدون في الحر، واشد ما تجدون من الزمهرير
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک عقدی نے بیان کیا ان سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا کہ میں مکہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہاں مجھے بخار آنے لگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس بخار کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم کی بھاپ کے اثر سے آتا ہے، اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو یا یہ فرمایا کہ زمزم کے پانی سے۔ یہ شک ہمام راوی کو ہوا ہے۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا همام، عن ابي جمرة الضبعي، قال كنت اجالس ابن عباس بمكة، فاخذتني الحمى، فقال ابردها عنك بماء زمزم، فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء ". او قال " بماء زمزم ". شك همام
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بخار جہنم کے جوش مارنے کے اثر سے ہوتا ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔
حدثني عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن عباية بن رفاعة، قال اخبرني رافع بن خديج، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الحمى من فور جهنم، فابردوها عنكم بالماء
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا زهير، حدثنا هشام، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمى من فيح جهنم، فابردوها بالماء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہاری ( دنیا کی ) آگ جہنم کی آگ کے مقابلے میں ( اپنی گرمی اور ہلاکت خیزی میں ) سترواں حصہ ہے۔“ کسی نے پوچھا، یا رسول اللہ! ( کفار اور گنہگاروں کے عذاب کے لیے ) یہ ہماری دنیا کی آگ بھی بہت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا کی آگ کے مقابلے میں جہنم کی آگ انہتر گنا بڑھ کر ہے۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ناركم جزء من سبعين جزءا من نار جهنم ". قيل يا رسول الله، ان كانت لكافية. قال " فضلت عليهن بتسعة وستين جزءا، كلهن مثل حرها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے عطاء سے سنا، انہوں نے صفوان بن یعلیٰ سے خبر دی۔ انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر اس طرح آیت پڑھتے سنا «ونادوا يا مالك» ( اور وہ دوزخی پکاریں گے، اے مالک! ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع عطاء، يخبر عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرا على المنبر {ونادوا يا مالك}
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے یہاں جا کر ان سے گفتگو کرو تو اچھا ہے ( تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں ) انہوں نے کہا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر ( تمہارے سامنے ہی ) بات کرتا ہوں، میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح پر کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے سنا تھا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے، اے فلاں! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا۔ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل،، قال قيل لاسامة لو اتيت فلانا فكلمته. قال انكم لترون اني لا اكلمه الا اسمعكم، اني اكلمه في السر دون ان افتح بابا لا اكون اول من فتحه، ولا اقول لرجل ان كان على اميرا انه خير الناس بعد شىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالوا وما سمعته يقول قال سمعته يقول " يجاء بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار، فتندلق اقتابه في النار، فيدور كما يدور الحمار برحاه، فيجتمع اهل النار عليه، فيقولون اى فلان، ما شانك اليس كنت تامرنا بالمعروف وتنهى عن المنكر قال كنت امركم بالمعروف ولا اتيه، وانهاكم عن المنكر واتيه ". رواه غندر عن شعبة عن الاعمش
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹے تھے ) جادو ہوا تھا۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے ہشام نے لکھا تھا، انہوں نے اپنے والد سے سنا تھا اور یاد رکھا تھا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ آپ کے ذہن میں بات ہوتی تھی کہ فلاں کام میں کر رہا ہوں حالانکہ آپ اسے نہ کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے دعا کی پھر دعا کی کہ اللہ پاک اس جادو کا اثر دفع کرے۔ اس کے بعد آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفا مقدر ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک تو میرے سر کی طرف بیٹھ گئے اور دوسرا پاؤں کی طرف۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا، انہیں بیماری کیا ہے؟ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا، جادو ان پر کس نے کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کہ وہ جادو ( ٹونا ) رکھا کس چیز میں ہے؟ کہا کہ کنگھے میں، کتان میں اور کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا، اور یہ چیزیں ہیں کہاں؟ کہا بئر دوران میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطان کی کھوپڑی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، وہ ٹونا آپ نے نکلوایا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا دی اور میں نے اسے اس خیال سے نہیں نکلوایا کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں کوئی جھگڑا کھڑا کر دوں۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم. وقال الليث كتب الى هشام انه سمعه ووعاه عن ابيه عن عايشة قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى كان يخيل اليه انه يفعل الشىء وما يفعله، حتى كان ذات يوم دعا ودعا، ثم قال " اشعرت ان الله افتاني فيما فيه شفايي اتاني رجلان، فقعد احدهما عند راسي والاخر عند رجلى، فقال احدهما للاخر ما وجع الرجل قال مطبوب. قال ومن طبه قال لبيد بن الاعصم. قال في ماذا قال في مشط ومشاقة وجف طلعة ذكر. قال فاين هو قال في بير ذروان ". فخرج اليها النبي صلى الله عليه وسلم ثم رجع فقال لعايشة حين رجع " نخلها كانها رءوس الشياطين ". فقلت استخرجته فقال " لا اما انا فقد شفاني الله، وخشيت ان يثير ذلك على الناس شرا، ثم دفنت البير
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی تم میں سے سویا ہوا ہوتا ہے، تو شیطان اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے خوب اچھی طرح سے اور ہر گرہ پر یہ افسون پھونک دیتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ لیکن اگر وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر شروع کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز فجر پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور صبح کو خوش مزاج خوش دل رہتا ہے۔ ورنہ بدمزاج سست رہ کر وہ دن گزارتا ہے۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني اخي، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يعقد الشيطان على قافية راس احدكم اذا هو نام ثلاث عقد، يضرب كل عقدة مكانها عليك ليل طويل فارقد. فان استيقظ فذكر الله انحلت عقدة، فان توضا انحلت عقدة، فان صلى انحلت عقده كلها، فاصبح نشيطا طيب النفس، والا اصبح خبيث النفس كسلان