Loading...

Loading...
کتب
۱۳۶ احادیث
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں جامع بن شداد نے، انہیں صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو! تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا، اب تم اسے قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک ( نامعلوم ) شخص آیا اور کہا کہ عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ ( عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) کاش، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن جامع بن شداد، عن صفوان بن محرز، عن عمران بن حصين رضى الله عنهما قال جاء نفر من بني تميم الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا بني تميم، ابشروا ". قالوا بشرتنا فاعطنا. فتغير وجهه، فجاءه اهل اليمن، فقال " يا اهل اليمن، اقبلوا البشرى اذ لم يقبلها بنو تميم ". قالوا قبلنا. فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم يحدث بدء الخلق والعرش، فجاء رجل فقال يا عمران، راحلتك تفلتت، ليتني لم اقم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے دوبار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو اب مال بھی دیجئیے۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوشخبری قبول کر لو اے یمن والو! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! خوشخبری ہم نے قبول کی۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس ( عالم کی پیدائش ) کا حال پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“ ( ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑا۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے ( میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے ) اللہ تعالیٰ کی قسم، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوتی ) ۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا جامع بن شداد، عن صفوان بن محرز، انه حدثه عن عمران بن حصين رضى الله عنهما قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وعقلت ناقتي بالباب، فاتاه ناس من بني تميم فقال " اقبلوا البشرى يا بني تميم ". قالوا قد بشرتنا فاعطنا. مرتين، ثم دخل عليه ناس من اهل اليمن فقال " اقبلوا البشرى يا اهل اليمن، اذ لم يقبلها بنو تميم ". قالوا قد قبلنا يا رسول الله، قالوا جيناك نسالك عن هذا الامر قال " كان الله ولم يكن شىء غيره، وكان عرشه على الماء، وكتب في الذكر كل شىء، وخلق السموات والارض ". فنادى مناد ذهبت ناقتك يا ابن الحصين. فانطلقت فاذا هي يقطع دونها السراب، فوالله لوددت اني كنت تركتها
اور عیسیٰ نے رقبہ سے روایت کیا، انہوں نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے ( وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا ) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔
وروى عيسى، عن رقبة، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال سمعت عمر رضى الله عنه يقول قام فينا النبي صلى الله عليه وسلم مقاما، فاخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل اهل الجنة منازلهم، واهل النار منازلهم، حفظ ذلك من حفظه، ونسيه من نسيه
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابواحمد نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا۔ اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کی گالی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا ہے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلی بار پیدا کیا، دوبارہ ( موت کے بعد ) وہ مجھے زندہ نہیں کر سکے گا۔
حدثني عبد الله بن ابي شيبة، عن ابي احمد، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم اراه " يقول الله شتمني ابن ادم وما ينبغي له ان يشتمني، وتكذبني وما ينبغي له، اما شتمه فقوله ان لي ولدا. واما تكذيبه فقوله ليس يعيدني كما بداني
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن قرشی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں ، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے ، اس نے لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے ۔ “
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن القرشي، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما قضى الله الخلق كتب في كتابه، فهو عنده فوق العرش ان رحمتي غلبت غضبي
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں علی بن مبارک نے کہا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کا ایک دوسرے صاحب سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے ( جواب میں ) فرمایا: ابوسلمہ! کسی کی زمین ( کے ناحق لینے ) سے بچو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر ایک بالشت کے برابر بھی کسی نے ( زمین کے بارے میں ) ظلم کیا تو ( قیامت کے دن ) ساتھ زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، اخبرنا ابن علية، عن علي بن المبارك، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، كانت بينه وبين اناس خصومة في ارض، فدخل على عايشة فذكر لها ذلك، فقالت يا ابا سلمة اجتنب الارض، فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ظلم قيد شبر طوقه من سبع ارضين
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔“
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اخذ شييا من الارض بغير حقه خسف به يوم القيامة الى سبع ارضين
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ کے صاحبزادے ( عبدالرحمٰن ) نے بیان کیا اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ گھوم پھر کر اسی حالت پر آ گیا جیسے اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کی تھی۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، چار مہینے اس میں سے حرمت کے ہیں۔ تین تو پے در پے۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ( چوتھا ) رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔“
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الزمان قد استدار كهييته يوم خلق السموات والارض، السنة اثنا عشر شهرا، منها اربعة حرم، ثلاثة متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم، ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے کہ ارویٰ بنت ابی اوس سے ان کا ایک ( زمین کے ) بارے میں جھگڑا ہوا۔ جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلہ کے لیے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ ابن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے ( تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان فرمائی تھی ) ۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، انه خاصمته اروى في حق زعمت انه انتقصه لها الى مروان، فقال سعيد انا انتقص من حقها شييا، اشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اخذ شبرا من الارض ظلما، فانه يطوقه يوم القيامة من سبع ارضين ". قال ابن ابي الزناد عن هشام عن ابيه قال قال لي سعيد بن زيد دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» ( یٰسٓ: 38 ) میں اسی طرف اشارہ ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لابي ذر حين غربت الشمس " تدري اين تذهب ". قلت الله ورسوله اعلم. قال " فانها تذهب حتى تسجد تحت العرش، فتستاذن فيوذن لها، ويوشك ان تسجد فلا يقبل منها، وتستاذن فلا يوذن لها، يقال لها ارجعي من حيث جيت. فتطلع من مغربها، فذلك قوله تعالى {والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم}
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن فیروز داناج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک ( بے نور ) ہو جائیں گے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا عبد الله الداناج، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشمس والقمر مكوران يوم القيامة
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اس لیے جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما انه كان يخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الشمس والقمر لا يخسفان لموت احد ولا لحياته، ولكنهما ايتان من ايات الله، فاذا رايتموهما فصلوا
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی یاد میں لگ جایا کرو۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله، لا يخسفان لموت احد ولا لحياته، فاذا رايتم ذلك فاذكروا الله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ جس دن سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مصلے پر ) کھڑے ہوئے۔ «الله اكبر» کہا اور بڑی دیر تک قرآت کرتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، ایک بہت لمبا رکوع، پھر سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا اور پہلے کی طرح کھڑے ہو گئے۔ اس قیام میں بھی لمبی قرآت کی۔ اگرچہ پہلی قرآت سے کم تھی اور پھر رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، اگرچہ پہلے رکوع سے یہ کم تھا۔ اس کے بعد سجدہ کیا، ایک لمبا سجدہ، دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا اور اس کے بعد سلام پھیرا تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا اور سورج اور چاند گرہن کے متعلق بتلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اور ان میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپک جاؤ۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خسفت الشمس قام فكبر وقرا قراءة طويلة، ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده " وقام كما هو، فقرا قراءة طويلة وهى ادنى من القراءة الاولى، ثم ركع ركوعا طويلا وهى ادنى من الركعة الاولى، ثم سجد سجودا طويلا، ثم فعل في الركعة الاخرة مثل ذلك، ثم سلم وقد تجلت الشمس، فخطب الناس، فقال في كسوف الشمس والقمر " انهما ايتان من ايات الله، لا يخسفان لموت احد، ولا لحياته، فاذا رايتموهما فافزعوا الى الصلاة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔“
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابي مسعود رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته، ولكنهما ايتان من ايات الله، فاذا رايتموهما فصلوا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «بالصبا» باد صبا ( مشرقی ہوا ) کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد «دبور » ( مغربی ہوا ) سے ہلاک کر دی گئی تھی۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نصرت بالصبا، واهلكت عاد بالدبور
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابر کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپ کبھی آگے آتے، کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر تشریف لاتے، کبھی باہر آ جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ ایک مرتبہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق آپ سے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نہیں جانتا ممکن ہے یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا، جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تھا۔ آخر آیت تک ( کہ ان کے لیے رحمت کا بادل آیا ہے، حالانکہ وہ عذاب کا بادل تھا ) ۔
حدثنا مكي بن ابراهيم، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى مخيلة في السماء اقبل وادبر ودخل وخرج وتغير وجهه، فاذا امطرت السماء سري عنه، فعرفته عايشة ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما ادري لعله كما قال قوم {فلما راوه عارضا مستقبل اوديتهم} ". الاية
ہم سے ہدبۃ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان لیٹے ہوئے ایک تیسرے آدمی کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔ پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی۔ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی یعنی براق، میں اس پر سوار ہو کر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا۔ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو پوچھا گیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر جواب آیا کہ اچھی کشادہ جگہ آنے والے کیا ہی مبارک ہیں، پھر میں آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، آؤ پیارے بیٹے اور اچھے نبی۔ اس کے بعد ہم دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی آئے ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں۔ اب ادھر سے جواب آیا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ اس کے بعد میں عیسیٰ اور یحییٰ علیہ السلام سے ملا، ان حضرات نے بھی خوش آمدید، مرحبا کہا اپنے بھائی اور نبی کو۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ جواب ملا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ بھی کوئی ہے؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں، اب آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے آنے والے کیا ہی صالح ہیں، یہاں یوسف علیہ السلام سے میں ملا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو میرے بھائی اور نبی، یہاں سے ہم چوتھے آسمان پر آئے اس پر بھی یہی سوال ہوا، کون صاحب، جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ اور کون صاحب ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، جواب دیا کہ ہاں، پھر آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے کیا ہی اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں ادریس علیہ السلام سے ملا اور سلام کیا، انہوں نے فرمایا، مرحبا، بھائی اور نبی۔ یہاں سے ہم پانچویں آسمان پر آئے۔ یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، پوچھا گیا، انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں، آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں۔ آنے والے کیا ہی اچھے ہیں۔ یہاں ہم ہارون علیہ السلام سے ملے اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، مبارک میرے بھائی اور نبی، تم اچھی کشادہ جگہ آئے، یہاں سے ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی سوال ہوا، کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ اور بھی کوئی ہیں؟ کہا کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلایا گیا تھا کہا ہاں، کہا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرے بھائی اور نبی اچھی کشادہ جگہ آئے، جب میں وہاں سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا بزرگوار آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ نوجوان جسے میرے بعد نبوت دی گئی، اس کی امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے، میری امت کے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا کہ کوئی صاحب آپ کے ساتھ بھی ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ مرحبا، اچھے آنے والے۔ یہاں میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا میرے بیٹے اور نبی، مبارک، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو، اس کے بعد مجھے بیت المعمور دکھایا گیا۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتلایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ستر ہزار فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور ایک مرتبہ پڑھ کر جو اس سے نکل جاتا ہے تو پھر کبھی داخل نہیں ہوتا۔ اور مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں، اس کے بعد مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں۔ میں جب واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا کر کے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انسانوں کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، بنی اسرائیل کا مجھے برا تجربہ ہو چکا ہے۔ تمہاری امت بھی اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی، اس لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دو، اور کچھ تخفیف کی درخواست کرو، میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نمازیں چالیس وقت کی کر دیں۔ پھر بھی موسیٰ علیہ السلام اپنی بات ( یعنی تخفیف کرانے ) پر مصر رہے۔ اس مرتبہ تیس وقت کی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے وہی فرمایا اور اس مرتبہ بارگاہ رب العزت میں میری درخواست کی پیشی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس کر دیا۔ میں جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اب بھی انہوں نے کم کرانے کے لیے اپنا اصرار جاری رکھا۔ اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی کر دیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام سے ملا، تو انہوں نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دی ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے کم کرانے کا اصرار کیا۔ میں نے کہا کہ اب تو میں اللہ کے سپرد کر چکا۔ پھر آواز آئی۔ میں نے اپنا فریضہ ( پانچ نمازوں کا ) جاری کر دیا۔ اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں۔ اور ہمام نے کہا، ان سے قتادہ نے کہا، ان سے حسن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المعمور کے بارے میں الگ روایت کی ہے۔
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے صادق المصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور فرمایا کہ تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک ( نطفہ کی صورت ) میں کی جاتی ہے اتنی ہی دنوں تک پھر ایک بستہ خون کے صورت میں اختیار کئے رہتا ہے اور پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ایک مضغہ گوشت رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں ( کے لکھنے ) کا حکم دیتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کا رزق، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک، لکھ لے۔ اب اس نطفہ میں روح ڈالی جاتی ہے ( یاد رکھ ) ایک شخص ( زندگی بھر نیک ) عمل کرتا رہتا ہے اور جب جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آ جاتی ہے اور دوزخ والوں کے عمل شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص ( زندگی بھر برے ) کام کرتا رہتا ہے اور جب دوزخ اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آ جاتی ہے اور جنت والوں کے کام شروع کر دیتا ہے۔
حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، قال عبد الله حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال " ان احدكم يجمع خلقه في بطن امه اربعين يوما، ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله ملكا، فيومر باربع كلمات، ويقال له اكتب عمله ورزقه واجله وشقي او سعيد. ثم ينفخ فيه الروح، فان الرجل منكم ليعمل حتى ما يكون بينه وبين الجنة الا ذراع، فيسبق عليه كتابه، فيعمل بعمل اهل النار، ويعمل حتى ما يكون بينه وبين النار الا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل اهل الجنة
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اس روایت کی متابعت ابوعاصم نے ابن جریج سے کی ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہیں نافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین والے بھی اس کو مقبول سمجھتے ہیں۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا مخلد، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. وتابعه ابو عاصم عن ابن جريج، قال اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا احب الله العبد نادى جبريل ان الله يحب فلانا فاحببه. فيحبه جبريل، فينادي جبريل في اهل السماء ان الله يحب فلانا فاحبوه. فيحبه اهل السماء، ثم يوضع له القبول في الارض
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، عن قتادة،. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، وهشام، قالا حدثنا قتادة، حدثنا انس بن مالك، عن مالك بن صعصعة رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " بينا انا عند البيت بين النايم واليقظان وذكر بين الرجلين فاتيت بطست من ذهب ملي حكمة وايمانا، فشق من النحر الى مراق البطن، ثم غسل البطن بماء زمزم، ثم ملي حكمة وايمانا، واتيت بدابة ابيض دون البغل وفوق الحمار البراق، فانطلقت مع جبريل حتى اتينا السماء الدنيا قيل من هذا قال جبريل. قيل من معك قيل محمد. قيل وقد ارسل اليه قال نعم. قيل مرحبا به، ولنعم المجيء جاء. فاتيت على ادم، فسلمت عليه، فقال مرحبا بك من ابن ونبي. فاتينا السماء الثانية، قيل من هذا قال جبريل. قيل من معك قال محمد صلى الله عليه وسلم. قيل ارسل اليه قال نعم. قيل مرحبا به، ولنعم المجيء جاء. فاتيت على عيسى ويحيى فقالا مرحبا بك من اخ ونبي. فاتينا السماء الثالثة، قيل من هذا قيل جبريل. قيل من معك قيل محمد. قيل وقد ارسل اليه قال نعم. قيل مرحبا به ولنعم المجيء جاء. فاتيت يوسف فسلمت عليه، قال مرحبا بك من اخ ونبي فاتينا السماء الرابعة، قيل من هذا قيل جبريل. قيل من معك قيل محمد صلى الله عليه وسلم. قيل وقد ارسل اليه قيل نعم. قيل مرحبا به، ولنعم المجيء جاء. فاتيت على ادريس فسلمت عليه، فقال مرحبا من اخ ونبي. فاتينا السماء الخامسة، قيل من هذا قال جبريل. قيل ومن معك قيل محمد. قيل وقد ارسل اليه قال نعم. قيل مرحبا به، ولنعم المجيء جاء. فاتينا على هارون، فسلمت عليه فقال مرحبا بك من اخ ونبي. فاتينا على السماء السادسة، قيل من هذا قيل جبريل. قيل من معك قال محمد صلى الله عليه وسلم. قيل وقد ارسل اليه مرحبا به، ولنعم المجيء جاء. فاتيت على موسى، فسلمت {عليه} فقال مرحبا بك من اخ ونبي. فلما جاوزت بكى. فقيل ما ابكاك قال يا رب، هذا الغلام الذي بعث بعدي يدخل الجنة من امته افضل مما يدخل من امتي. فاتينا السماء السابعة، قيل من هذا قيل جبريل. قيل من معك قيل محمد. قيل وقد ارسل اليه مرحبا به، ونعم المجيء جاء. فاتيت على ابراهيم، فسلمت عليه فقال مرحبا بك من ابن ونبي، فرفع لي البيت المعمور، فسالت جبريل فقال هذا البيت المعمور يصلي فيه كل يوم سبعون الف ملك، اذا خرجوا لم يعودوا اليه اخر ما عليهم، ورفعت لي سدرة المنتهى فاذا نبقها كانه قلال هجر، وورقها كانه اذان الفيول، في اصلها اربعة انهار نهران باطنان ونهران ظاهران، فسالت جبريل فقال اما الباطنان ففي الجنة، واما الظاهران النيل والفرات، ثم فرضت على خمسون صلاة، فاقبلت حتى جيت موسى، فقال ما صنعت قلت فرضت على خمسون صلاة. قال انا اعلم بالناس منك، عالجت بني اسراييل اشد المعالجة، وان امتك لا تطيق، فارجع الى ربك فسله. فرجعت فسالته، فجعلها اربعين، ثم مثله ثم ثلاثين، ثم مثله فجعل عشرين، ثم مثله فجعل عشرا، فاتيت موسى فقال مثله، فجعلها خمسا، فاتيت موسى فقال ما صنعت قلت جعلها خمسا، فقال مثله، قلت سلمت بخير، فنودي اني قد امضيت فريضتي وخففت عن عبادي، واجزي الحسنة عشرا ". وقال همام عن قتادة عن الحسن عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " في البيت المعمور