Loading...

Loading...
کتب
۱۳۶ احادیث
حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابي يونس القشيري، عن ابن ابي مليكة، ان ابن عمر، كان يقتل الحيات ثم نهى قال ان النبي صلى الله عليه وسلم هدم حايطا له، فوجد فيه سلخ حية فقال " انظروا اين هو ". فنظروا فقال " اقتلوه ". فكنت اقتلها لذلك. فلقيت ابا لبابة فاخبرني ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقتلوا الجنان، الا كل ابتر ذي طفيتين، فانه يسقط الولد، ويذهب البصر، فاقتلوه
حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابي يونس القشيري، عن ابن ابي مليكة، ان ابن عمر، كان يقتل الحيات ثم نهى قال ان النبي صلى الله عليه وسلم هدم حايطا له، فوجد فيه سلخ حية فقال " انظروا اين هو ". فنظروا فقال " اقتلوه ". فكنت اقتلها لذلك. فلقيت ابا لبابة فاخبرني ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقتلوا الجنان، الا كل ابتر ذي طفيتين، فانه يسقط الولد، ويذهب البصر، فاقتلوه
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يقتل الحيات. فحدثه ابو لبابة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل جنان البيوت، فامسك عنها
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يقتل الحيات. فحدثه ابو لبابة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل جنان البيوت، فامسك عنها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ جانور موذی ہیں، انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹ لینے والا کتا۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خمس فواسق يقتلن في الحرم الفارة، والعقرب، والحديا، والغراب، والكلب العقور
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، چوہا، کاٹ لینے والا کتا، کوا اور چیل۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس من الدواب من قتلهن وهو محرم فلا جناح عليه العقرب، والفارة، والكلب العقور، والغراب، والحداة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے کثیر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں ( کے منہ ) کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کر لیا کرو، کیونکہ شام ہوتے ہی جنات ( روئے زمین پر ) پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیونکہ موذی جانور ( چوہا ) بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے۔“ ابن جریج اور حبیب نے بھی اس کو عطاء سے روایت کیا، اس میں جنات کے بدل شیاطین مذکور ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن كثير، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما رفعه قال " خمروا الانية، واوكوا الاسقية، واجيفوا الابواب، واكفتوا صبيانكم عند العشاء، فان للجن انتشارا وخطفة، واطفيوا المصابيح عند الرقاد، فان الفويسقة ربما اجترت الفتيلة فاحرقت اهل البيت ". قال ابن جريج وحبيب عن عطاء فان للشياطين
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورۃ کو تازہ بتازہ سن رہے تھے اور اسرائیل کے ساتھ اس حدیث کو ابوعوانہ نے مغیرہ سے روایت کیا اور حفص بن غیاث اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قرم نے بھی اعمش سے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، اخبرنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غار فنزلت {والمرسلات عرفا} فانا لنتلقاها من فيه، اذ خرجت حية من جحرها فابتدرناها لنقتلها، فسبقتنا فدخلت جحرها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وقيت شركم، كما وقيتم شرها ". وعن اسراييل عن الاعمش عن ابراهيم عن علقمة عن عبد الله مثله قال وانا لنتلقاها من فيه رطبة. وتابعه ابو عوانة عن مغيرة. وقال حفص وابو معاوية وسليمان بن قرم عن الاعمش عن ابراهيم عن الاسود عن عبد الله
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ”ایک عورت ایک بلی کے سبب سے دوزخ میں گئی، اس نے بلی کو باندھ کر رکھا نہ تو اسے کھانا دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی۔“ عبدالاعلیٰ نے کہا اور ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " دخلت امراة النار في هرة ربطتها، فلم تطعمها، ولم تدعها تاكل من خشاش الارض ". قال وحدثنا عبيد الله عن سعيد المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گروہ انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے سائے میں اترے، وہاں انہیں کسی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ تو انہوں نے حکم دیا، ان کا سارا سامان درخت کے تلے سے اٹھا لیا گیا۔ پھر چیونٹیوں کا سارا چھتہ جلوا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم کو تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا، فقط اسی کو جلانا تھا۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نزل نبي من الانبياء تحت شجرة فلدغته نملة، فامر بجهازه فاخرج من تحتها، ثم امر ببيتها فاحرق بالنار، فاوحى الله اليه فهلا نملة واحدة
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عتبہ بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبید بن حنین نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مکھی کسی کے پینے ( یا کھانے کی چیز ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے ( پر ) میں شفاء ہوتی ہے۔“
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثني عتبة بن مسلم، قال اخبرني عبيد بن حنين، قال سمعت ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا وقع الذباب في شراب احدكم فليغمسه، ثم لينزعه، فان في احدى جناحيه داء والاخرى شفاء
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے حسن اور ابن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک فاحشہ عورت صرف اس وجہ سے بخشی گئی کہ وہ ایک کتے کے قریب سے گزر رہی تھی، جو ایک کنویں کے قریب کھڑا پیاسا ہانپ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پیاس کی شدت سے ابھی مر جائے گا۔ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس میں اپنا دوپٹہ باندھ کر پانی نکالا اور اس کتے کو پلا دیا، تو اس کی بخشش اسی ( نیکی ) کی وجہ سے ہو گئی۔“
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا اسحاق الازرق، حدثنا عوف، عن الحسن، وابن، سيرين عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غفر لامراة مومسة مرت بكلب على راس ركي يلهث، قال كاد يقتله العطش، فنزعت خفها، فاوثقته بخمارها، فنزعت له من الماء، فغفر لها بذلك
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے اس حدیث کو اس طرح یاد رکھا کہ مجھ کو کوئی شک ہی نہیں، جیسے اس میں شک نہیں کہ تو اس جگہ موجود ہے۔ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور انہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( رحمت کے ) فرشتے ان گھروں میں نہیں داخل ہوتے جن میں کتا یا ( جاندار کی ) تصویر ہو۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظته من الزهري كما انك ها هنا اخبرني عبيد الله عن ابن عباس عن ابي طلحة رضى الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا صورة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کتا پالے، اس کے عمل نیک میں سے روزانہ ایک قیراط ( ثواب ) کم کر دیا جاتا ہے، کھیت کے لیے یا مویشی کے لیے جو کتے پالے جائیں وہ اس سے الگ ہیں۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن يحيى، قال حدثني ابو سلمة، ان ابا هريرة رضى الله عنه حدثه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من امسك كلبا ينقص من عمله كل يوم قيراط، الا كلب حرث او كلب ماشية
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یزید بن خصیفہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے سائب بن یزید نے خبر دی، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر شنوی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی کتا پالا، نہ تو پالنے والے کا مقصد کھیت کی حفاظت ہے اور نہ مویشیوں کی، تو روزانہ اس کے نیک عمل میں سے ایک قیراط ( ثواب ) کی کمی ہو جاتی ہے۔“ سائب نے پوچھا، کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا، ہاں! اس قبلہ کے رب کی قسم ( میں نے خود اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، قال اخبرني يزيد بن خصيفة، قال اخبرني السايب بن يزيد، سمع سفيان بن ابي زهير الشنيي، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا، نقص من عمله كل يوم قيراط ". فقال السايب انت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اي ورب هذه القبلة