Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورة البقرة: 223 ) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، وجميل بن الحسن، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن المنكدر، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول كانت يهود تقول من اتى امراة في قبلها من دبرها كان الولد احول فانزل الله سبحانه {نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم}
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی ۔ ۱؎
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العزل فقال " اوتفعلون لا عليكم ان لا تفعلوا فانه ليس من نسمة قضى الله لها ان تكون الا هي كاينة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن جابر، قال كنا نعزل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم والقران ينزل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن سليمان بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن نكاحين ان يجمع الرجل بين المراة وعمتها وبين المراة وخالتها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا ابو بكر النهشلي، حدثني ابو بكر بن ابي موسى، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنكح المراة على عمتها ولا على خالتها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، اخبرني عروة، عن عايشة، ان امراة، رفاعة القرظي جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وان ما معه مثل هدبة الثوب . فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، قال سمعت سالم بن رزين، يحدث عن سالم بن عبد الله، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل تكون له المراة فيطلقها فيتزوجها رجل فيطلقها قبل ان يدخل بها اترجع الى الاول قال " لا . حتى يذوق العسيلة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، عن زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل له
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن البختري الواسطي، حدثنا ابو اسامة، عن ابن عون، ومجالد، عن الشعبي، عن الحارث، عن علي، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل له
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو «مستعار» ( مانگے ہوئے ) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري، حدثنا ابي قال، سمعت الليث بن سعد، يقول قال لي ابو مصعب مشرح بن هاعان قال عقبة بن عامر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بالتيس المستعار " . قالوا بلى يا رسول الله قال " هو المحلل لعن الله المحلل والمحلل له
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الحجاج، عن الحكم، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، وابو بكر بن خلاد قالا حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اريد على بنت حمزة بن عبد المطلب فقال " انها ابنة اخي من الرضاعة وانه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو پسند کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں ( کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں ) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھ کو اور اس کے والد ( ابوسلمہ ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، ان زينب بنت ابي سلمة، حدثته ان ام حبيبة حدثتها انها، قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم انكح اختي عزة . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتحبين ذلك " . قالت نعم يا رسول الله فلست لك بمخلية واحق من شركني في خير اختي . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فان ذلك لا يحل لي " . قالت فانا نتحدث انك تريد ان تنكح درة بنت ابي سلمة . فقال " بنت ام سلمة " . قالت نعم . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانها لو لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي انها ابنة اخي من الرضاعة ارضعتني واباها ثويبة فلا تعرضن على اخواتكن ولا بناتكن " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام حبيبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، ان ام الفضل، حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان او المصة والمصتان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
حدثنا محمد بن خالد بن خداش، حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحرم المصة والمصتان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پہلے قرآن میں یہ آیت تھی، پھر وہ ساقط و منسوخ ہو گئی، وہ آیت یہ ہے «لا يحرم إلا عشر رضعات أو خمس معلومات» دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا ابي، حدثنا حماد بن سلمة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عمرة، عن عايشة، انها قالت كان فيما انزل الله من القران ثم سقط لا يحرم الا عشر رضعات او خمس معلومات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم کے ہمارے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر ناگواری محسوس کرتی ہوں، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سالم کو دودھ پلا دو ، انہوں نے کہا: میں انہیں دودھ کیسے پلاؤں گی وہ بڑی عمر کے ہیں؟! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں ، آخر سہلہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جسے میں ناپسند کروں، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت سهلة بنت سهيل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني ارى في وجه ابي حذيفة الكراهية من دخول سالم على . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارضعيه " . قالت كيف ارضعه وهو رجل كبير فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " قد علمت انه رجل كبير " . ففعلت فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ما رايت في وجه ابي حذيفة شييا اكرهه بعد . وكان شهد بدرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، . وعن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت لقد نزلت اية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ولقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وتشاغلنا بموته دخل داجن فاكلها