Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة بن قيس، قال كنت مع عبد الله بن مسعود بمنى فخلا به عثمان فجلست قريبا منه فقال له عثمان هل لك ان ازوجك جارية بكرا تذكرك من نفسك بعض ما قد مضى فلما راى عبد الله انه ليس له حاجة سوى هذا اشار الى بيده فجيت وهو يقول لين قلت ذلك لقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر ( قیامت کے دن ) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا ادم، حدثنا عيسى بن ميمون، عن القاسم، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النكاح من سنتي فمن لم يعمل بسنتي فليس مني وتزوجوا فاني مكاثر بكم الامم ومن كان ذا طول فلينكح ومن لم يجد فعليه بالصيام فان الصوم له وجاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا محمد بن مسلم، حدثنا ابراهيم بن ميسرة، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لم نر للمتحابين مثل النكاح
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن سعد، قال لقد رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو اذن له لاختصينا
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد والی زندگی ( بے شادی شدہ رہنے ) سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ( سورة الرعد: 38 ) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں ۱؎
حدثنا بشر بن ادم، وزيد بن اخزم، قالا حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن التبتل . زاد زيد بن اخزم وقرا قتادة {ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية}
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن شعبة، عن ابي قزعة، عن حكيم بن معاوية، عن ابيه، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم ما حق المراة على الزوج قال " ان يطعمها اذا طعم وان يكسوها اذا اكتسى ولا يضرب الوجه ولا يقبح ولا يهجر الا في البيت
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس ( جماع ) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن زايدة، عن شبيب بن غرقدة البارقي، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، حدثني ابي انه، شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه وذكر ووعظ ثم قال " استوصوا بالنساء خيرا فانما هن عندكم عوان . ليس تملكون منهن شييا غير ذلك الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا ان لكم من نسايكم حقا ولنسايكم عليكم حقا فاما حقكم على نسايكم فلا يوطين فرشكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم لمن تكرهون الا وحقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد بن جدعان، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو امرت احدا ان يسجد لاحد لامرت المراة ان تسجد لزوجها ولو ان رجلا امر امراة ان تنقل من جبل احمر الى جبل اسود ومن جبل اسود الى جبل احمر - لكان نولها ان تفعل
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ ( سجدہ تحیہ ) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے معاذ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن القاسم الشيباني، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال لما قدم معاذ من الشام سجد للنبي صلى الله عليه وسلم قال " ما هذا يا معاذ " . قال اتيت الشام فوافقتهم يسجدون لاساقفتهم وبطارقتهم فوددت في نفسي ان نفعل ذلك بك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا تفعلوا فاني لو كنت امرا احدا ان يسجد لغير الله لامرت المراة ان تسجد لزوجها والذي نفس محمد بيده لا تودي المراة حق ربها حتى تودي حق زوجها ولو سالها نفسها وهي على قتب لم تمنعه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي نصر عبد الله بن عبد الرحمن، عن مساور الحميري، عن امه، قالت سمعت ام سلمة، تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما امراة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا متاع ( سامان ) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما الدنيا متاع وليس من متاع الدنيا شىء افضل من المراة الصالحة
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا وكيع، عن عبد الله بن عمرو بن مرة، عن ابيه، عن سالم بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال لما نزل في الفضة والذهب ما نزل قالوا فاى المال نتخذ قال عمر فانا اعلم لكم ذلك . فاوضع على بعيره فادرك النبي صلى الله عليه وسلم وانا في اثره فقال يا رسول الله اى المال نتخذ فقال " ليتخذ احدكم قلبا شاكرا ولسانا ذاكرا وزوجة مومنة تعين احدكم على امر الاخرة
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس ( کے بھروسے ) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عثمان بن ابي العاتكة، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " ما استفاد المومن بعد تقوى الله خيرا له من زوجة صالحة ان امرها اطاعته وان نظر اليها سرته وان اقسم عليها ابرته وان غاب عنها نصحته في نفسها وماله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ان کے مال و دولت کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، اور ان کی دین داری کی وجہ سے، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تنكح النساء لاربع لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها . فاظفر بذات الدين تربت يداك
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، وجعفر بن عون، عن الافريقي، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزوجوا النساء لحسنهن فعسى حسنهن ان يرديهن ولا تزوجوهن لاموالهن فعسى اموالهن ان تطغيهن ولكن تزوجوهن على الدين ولامة خرماء سوداء ذات دين افضل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، تو آپ نے فرمایا: جابر! کیا تم نے شادی کر لی ؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ میں نے کہا: غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے ؟ میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد الملك، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال تزوجت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اتزوجت يا جابر " . قلت نعم . قال " ابكرا او ثيبا " . قلت ثيبا . قال " فهلا بكرا تلاعبها " . قلت كن لي اخوات فخشيت ان تدخل بيني وبينهن . قال " فذاك اذا
عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن طلحة التيمي، حدثني عبد الرحمن بن سالم بن عتبة بن عويم بن ساعدة الانصاري، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالابكار فانهن اعذب افواها وانتق ارحاما وارضى باليسير
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہئیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سلام بن سوار، حدثنا كثير بن سليم، عن الضحاك بن مزاحم، قال سمعت انس بن مالك، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اراد ان يلقى الله طاهرا مطهرا فليتزوج الحراير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد الله بن الحارث المخزومي، عن طلحة، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكحوا فاني مكاثر بكم
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن حجاج، عن محمد بن سليمان، عن عمه، سهل بن ابي حثمة عن محمد بن مسلمة، قال خطبت امراة فجعلت اتخبا لها حتى نظرت اليها في نخل لها فقيل له اتفعل هذا وانت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا القى الله في قلب امري خطبة امراة فلا باس ان ينظر اليها