Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو ، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وزهير بن محمد، ومحمد بن عبد الملك، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان المغيرة بن شعبة، اراد ان يتزوج، امراة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اذهب فانظر اليها فانه احرى ان يودم بينكما " . ففعل فتزوجها فذكر من موافقتها
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کر لی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔
حدثنا الحسن بن ابي الربيع، انبانا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت البناني، عن بكر بن عبد الله المزني، عن المغيرة بن شعبة، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له امراة اخطبها فقال " اذهب فانظر اليها فانه اجدر ان يودم بينكما " . فاتيت امراة من الانصار فخطبتها الى ابويها واخبرتهما بقول النبي صلى الله عليه وسلم . فكانهما كرها ذلك . قال فسمعت ذلك المراة وهي في خدرها فقالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرك ان تنظر فانظر . والا فاني انشدك كانها اعظمت ذلك . قال فنظرت اليها فتزوجتها . فذكر من موافقتها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا ، آخر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، تو انہیں معاویہ ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں، لیکن اسامہ بہتر ہیں یہ سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ سے اشارہ کیا: اور کہا: اسامہ اسامہ ( یعنی اپنی بے رغبتی ظاہر کی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آخر میں نے اسامہ سے شادی کر لی، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي بكر بن ابي الجهم بن صخير العدوي، قال سمعت فاطمة بنت قيس، تقول قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حللت فاذنيني " . فاذنته فخطبها معاوية وابو الجهم بن صخير واسامة بن زيد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما معاوية فرجل ترب لا مال له واما ابو الجهم فرجل ضراب للنساء ولكن اسامة " . فقالت بيدها هكذا اسامة اسامة . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " طاعة الله وطاعة رسوله خير لك " . قالت فتزوجته فاغتبطت به
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى السدي، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن الفضل الهاشمي، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايم اولى بنفسها من وليها والبكر تستامر في نفسها " . قيل يا رسول الله ان البكر تستحيي ان تتكلم . قال " اذنها سكوتها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح الثيب حتى تستامر ولا البكر حتى تستاذن واذنها الصموت
عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ۱؎۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين، عن عدي بن عدي الكندي، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الثيب تعرب عن نفسها والبكر رضاها صمتها
عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی ( خنساء ) کا نکاح کر دیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ ( غیر کنواری ) تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن يحيى بن سعيد، ان القاسم بن محمد، اخبره ان عبد الرحمن بن يزيد ومجمع بن يزيد الانصاريين اخبراه ان رجلا منهم يدعى خذاما انكح ابنة له فكرهت نكاح ابيها فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له فرد عليها نكاح ابيها فنكحت ابا لبابة بن عبد المنذر . وذكر يحيى انها كانت ثيبا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر ( جبراً نکاح کر دینے کا ) اختیار نہیں پہنچتا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا وكيع، عن كهمس بن الحسن، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال جاءت فتاة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابي زوجني ابن اخيه ليرفع بي خسيسته . قال فجعل الامر اليها . فقالت قد اجزت ما صنع ابي ولكن اردت ان تعلم النساء ان ليس الى الاباء من الامر شىء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا۔
حدثنا ابو السقر، يحيى بن يزداد العسكري حدثنا الحسين بن محمد المروذي، حدثني جرير بن حازم، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، . ان جارية، بكرا اتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له ان اباها زوجها وهي كارهة . فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا محمد بن الصباح، انبانا معمر بن سليمان الرقي، عن زيد بن حبان، عن ايوب السختياني، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہو گئی، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا، پھر مجھے گھر میں لے گئیں، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا: تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو ، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے مجھے آراستہ کیا، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا بنت ست سنين فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن الخزرج فوعكت فتمرق شعري حتى وفى له جميمة فاتتني امي ام رومان واني لفي ارجوحة ومعي صواحبات لي فصرخت بي فاتيتها وما ادري ما تريد فاخذت بيدي فاوقفتني على باب الدار واني لانهج حتى سكن بعض نفسي ثم اخذت شييا من ماء فمسحت به على وجهي وراسي ثم ادخلتني الدار فاذا نسوة من الانصار في بيت فقلن على الخير والبركة وعلى خير طاير . فاسلمتني اليهن فاصلحن من شاني فلم يرعني الا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى . فاسلمتني اليه وانا يوميذ بنت تسع سنين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا ابو احمد، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال تزوج النبي صلى الله عليه وسلم عايشة وهي بنت سبع وبنى بها وهي بنت تسع وتوفي عنها وهي بنت ثماني عشرة سنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ رضی اللہ عنہ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے، اور اس سے مشورہ نہیں لیا، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا جائے، آخر قدامہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کر دیا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ، حدثني عبد الله بن نافع، عن ابيه، عن ابن عمر، . انه حين هلك عثمان بن مظعون ترك ابنة له . قال ابن عمر فزوجنيها خالي قدامة وهو عمها ولم يشاورها وذلك بعد ما هلك ابوها فكرهت نكاحه واحبت الجارية ان يزوجها المغيرة بن شعبة فزوجها اياه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاذ بن معاذ، حدثنا ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة لم ينكحها الولي فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فان اصابها فلها مهرها بما اصاب منها فان اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حجاج، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم وعن عكرمة، عن ابن عباس، . قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . وفي حديث عايشة " والسلطان ولي من لا ولي له
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، حدثنا ابو اسحاق الهمداني، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے ۔
حدثنا جميل بن الحسن العتكي، حدثنا محمد بن مروان العقيلي، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزوج المراة المراة ولا تزوج المراة نفسها فان الزانية هي التي تزوج نفسها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشغار والشغار ان يقول الرجل للرجل زوجني ابنتك او اختك على ان ازوجك ابنتي او اختي . وليس بينهما صداق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، وابو اسامة عن عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشغار