Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے ۔
حدثنا الحسين بن مهدي، انبانا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا شغار في الاسلام
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد العزيز الدراوردي، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة كم كان صداق نساء النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان صداقه في ازواجه اثنتى عشرة اوقية ونشا هل تدري ما النش هو نصف اوقية وذلك خمسماية درهم
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ«علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابن عون، ح وحدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين، عن ابي العجفاء السلمي، قال قال عمر بن الخطاب لا تغالوا صداق النساء فانها لو كانت مكرمة في الدنيا او تقوى عند الله كان اولاكم واحقكم بها محمد صلى الله عليه وسلم ما اصدق امراة من نسايه ولا اصدقت امراة من بناته اكثر من اثنتى عشرة اوقية وان الرجل ليثقل صدقة امراته حتى يكون لها عداوة في نفسه ويقول قد كلفت اليك علق القربة او عرق القربة . وكنت رجلا عربيا مولدا ما ادري ما علق القربة او عرق القربة
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے ( مہر میں ) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا۔
حدثنا ابو عمر الضرير، وهناد بن السري، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، ان رجلا، من بني فزارة تزوج على نعلين فاجاز النبي صلى الله عليه وسلم نكاحه
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: اس سے کون نکاح کرے گا ؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمرو، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " من يتزوجها " . فقال رجل انا . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اعطها ولو خاتما من حديد " . فقال ليس معي . قال " قد زوجتكها على ما معك من القران
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، محمد بن يزيد حدثنا يحيى بن يمان، حدثنا الاغر الرقاشي، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج عايشة على متاع بيت قيمته خمسون درهما
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن فراس، عن الشعبي، عن مسروق، عن عبد الله، انه سيل عن رجل، تزوج امراة فمات عنها ولم يدخل بها ولم يفرض لها . قال فقال عبد الله لها الصداق ولها الميراث وعليها العدة . فقال معقل بن سنان الاشجعي شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في بروع بنت واشق بمثل ذلك . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، مثله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے ۱؎ خواہ وہ اخیر کے ہوں، یا کہا: شروع کے، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بند ے اور رسول ہیں اور حاجت کا خطبہ یہ ہے:«إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور مسلمان ہی رہ کر مرو اخیر آیت تک «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے اخیر آیت تک «اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی اخیر آیت تک ۲؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثني ابي، عن جدي ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، قال اوتي رسول الله صلى الله عليه وسلم جوامع الخير وخواتمه - او قال فواتح الخير - فعلمنا خطبة الصلاة وخطبة الحاجة خطبة الصلاة التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله . وخطبة الحاجة ان الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سييات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله . ثم تصل خطبتك بثلاث ايات من كتاب الله {يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته} الى اخر الاية { واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام } الى اخر الاية {اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم اعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم} الى اخر الاية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ میں ) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا داود بن ابي هند، حدثني عمرو بن سعيد، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سييات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله . اما بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن يحيى، ومحمد بن خلف العسقلاني، قالوا حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الاوزاعي، عن قرة، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل امر ذي بال لا يبدا فيه بالحمد اقطع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، والخليل بن عمرو، قالا حدثنا عيسى بن يونس، عن خالد بن الياس، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن القاسم، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اعلنوا هذا النكاح واضربوا عليه بالغربال
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، عن ابي بلج، عن محمد بن حاطب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فصل ما بين الحلال والحرام الدف والصوت في النكاح
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد» ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي الحسين، - اسمه خالد المدني - قال كنا بالمدينة يوم عاشوراء والجواري يضربن بالدف ويتغنين فدخلنا على الربيع بنت معوذ فذكرنا ذلك لها . فقالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيحة عرسي وعندي جاريتان تغنيان وتندبان ابايي الذين قتلوا يوم بدر وتقولان فيما تقولان وفينا نبي يعلم ما في غد . فقال " اما هذا فلا تقولوه ما يعلم ما في غد الا الله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے، اور یہ عید الفطر کا دن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت دخل على ابو بكر وعندي جاريتان من جواري الانصار تغنيان بما تقاولت به الانصار في يوم بعاث . قالت وليستا بمغنيتين . فقال ابو بكر ابمزمور الشيطان في بيت النبي صلى الله عليه وسلم وذلك في يوم عيد الفطر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا بكر ان لكل قوم عيدا وهذا عيدنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عوف، عن ثمامة بن عبد الله، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر ببعض المدينة فاذا هو بجوار يضربن بدفهن ويتغنين ويقلن نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يعلم الله اني لاحبكن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کر دیا ؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: «أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم» ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا جعفر بن عون، انبانا الاجلح، عن ابي الزبير، عن ابن عباس، قال انكحت عايشة ذات قرابة لها من الانصار فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اهديتم الفتاة " . قالوا نعم . قال " ارسلتم معها من يغني قالت لا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الانصار قوم فيهم غزل فلو بعثتم معها من يقول اتيناكم اتيناكم فحيانا وحياكم
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الفريابي، عن ثعلبة بن ابي مالك التميمي، عن ليث، عن مجاهد، قال كنت مع ابن عمر فسمع صوت، طبل فادخل اصبعيه في اذنيه ثم تنحى حتى فعل ذلك ثلاث مرات . ثم قال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فسمع مخنثا وهو يقول لعبد الله بن ابي امية ان يفتح الله الطايف غدا دللتك على امراة تقبل باربع وتدبر بثمان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخرجوه من بيوتكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن المراة تتشبه بالرجال والرجل يتشبه بالنساء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لعن المتشبهين من الرجال بالنساء ولعن المتشبهات من النساء بالرجال