Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير» اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رفا قال " بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا:«بالرفاء والبنين» میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم بارك لهم وبارك عليهم» اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا اشعث، عن الحسن، عن عقيل بن ابي طالب، انه تزوج امراة من بني جشم فقالوا بالرفاء والبنين فقال لا تقولوا هكذا ولكن قولوا كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك لهم وبارك عليهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے جسم ) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«بارك الله لك أولم ولو بشاة» اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال " ما هذا او مه " . فقال يا رسول الله اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب . فقال " بارك الله لك اولم ولو بشاة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اولم على شىء من نسايه ما اولم على زينب فانه ذبح شاة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، وغياث بن جعفر الرحبي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا وايل بن داود، عن ابنه، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اولم على صفية بسويق وتمر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔
حدثنا زهير بن حرب ابو خيثمة، حدثنا سفيان، عن علي بن زيد بن جدعان، عن انس بن مالك، قال شهدت للنبي صلى الله عليه وسلم وليمة ما فيها لحم ولا خبز . قال ابن ماجه لم يحدث به الا ابن عيينة
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا المفضل بن عبد الله، عن جابر، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، وام سلمة قالتا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نجهز فاطمة حتى ندخلها على علي فعمدنا الى البيت ففرشناه ترابا لينا من اعراض البطحاء ثم حشونا مرفقتين ليفا فنفشناه بايدينا ثم اطعمنا تمرا وزبيبا وسقينا ماء عذبا وعمدنا الى عود فعرضناه في جانب البيت ليلقى عليه الثوب ويعلق عليه السقاء فما راينا عرسا احسن من عرس فاطمة
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن سهل بن سعد الساعدي، قال دعا ابو اسيد الساعدي رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عرسه فكانت خادمهم العروس . قالت تدري ما سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت انقعت تمرات من الليل فلما اصبحت صفيتهن فاسقيتهن اياه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الاغنياء ويترك الفقراء ومن لم يجب فقد عصى الله ورسوله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى وليمة عرس فليجب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے ۔
حدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عبد الملك بن حسين ابو مالك النخعي، عن منصور، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوليمة اول يوم حق والثاني معروف والثالث رياء وسمعة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری ( شوہر دیدہ ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، ( پھر باری تقسیم کر دیں ) ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للثيب ثلاثا وللبكر سبعا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان، عن محمد بن ابي بكر، عن عبد الملك، - يعني ابن ابي بكر بن الحارث بن هشام - عن ابيه، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما تزوج ام سلمة اقام عندها ثلاثا وقال " ليس بك على اهلك هوان ان شيت سبعت لك وان سبعت لك سبعت لنسايي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، وصالح بن محمد بن يحيى القطان، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا سفيان، عن محمد بن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا افاد احدكم امراة او خادما او دابة فلياخذ بناصيتها وليقل اللهم اني اسالك من خيرها وخير ما جبلت عليه واعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے «اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني» اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا جرير، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو ان احدكم اذا اتى امراته قال اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني ثم كان بينهما ولد لم يسلط الله عليه الشيطان - او لم يضره
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، وابو اسامة قالا حدثنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قلت يا رسول الله عوراتنا ما ناتي منها وما نذر قال " احفظ عورتك الا من زوجتك او ما ملكت يمينك " . قلت يا رسول الله ارايت ان كان القوم بعضهم في بعض قال " ان استطعت ان لا تريها احدا فلا ترينها " . قلت يا رسول الله فان كان احدنا خاليا قال " فالله احق ان يستحيى منه من الناس
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہو جائے ۔
حدثنا اسحاق بن وهب الواسطي، حدثنا الوليد بن القاسم الهمداني، حدثنا الاحوص بن حكيم، عن ابيه، وراشد بن سعد، وعبد الاعلى بن عدي، عن عتبة بن عبد السلمي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتى احدكم اهله فليستتر ولا يتجرد تجرد العيرين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں«عن مولیٰ لعائشۃ» کے بجائے «عن مولاۃ لعائشۃ» ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن موسى بن عبد الله بن يزيد، عن مولى، لعايشة عن عايشة، قالت ما نظرت - او ما رايت - فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قط . قال ابو بكر قال ابو نعيم عن مولاة لعايشة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر ( پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن الحارث بن مخلد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينظر الله الى رجل جامع امراته في دبرها
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا عبد الواحد بن زياد، عن حجاج بن ارطاة، عن عمرو بن شعيب، عن عبد الله بن هرمي، عن خزيمة بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله لا يستحيي من الحق " . ثلاث مرات لا تاتوا النساء في ادبارهن