Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو ( کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں ) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها رجل فقال " من هذا " . قالت هذا اخي . قال " انظروا من تدخلن عليكن فان الرضاعة من المجاعة
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن ابي الاسود، عن عروة، عن عبد الله بن الزبير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا رضاع الا ما فتق الامعاء
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مخالفت کی، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے، اور انہوں نے کہا: ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، حدثنا عبد الله بن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، وعقيل، عن ابن شهاب، اخبرني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن امه، زينب بنت ابي سلمة انها اخبرته ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم كلهن خالفن عايشة وابين ان يدخل عليهن احد بمثل رضاعة سالم مولى ابي حذيفة وقلن وما يدرينا لعل ذلك كانت رخصة لسالم وحده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب ( پردے ) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور فرمایا: یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اتاني عمي من الرضاعة افلح بن ابي قعيس يستاذن على بعد ما ضرب الحجاب فابيت ان اذن له حتى دخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انه عمك فاذني له " . فقلت انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل قال " تربت يداك او يمينك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں!، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاء عمي من الرضاعة يستاذن على فابيت ان اذن له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فليلج عليك عمك " . فقلت انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل . قال " انه عمك فليلج عليك
دیلمی (فیروز دیلمی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي فروة، عن ابي وهب الجيشاني، عن ابي خراش الرعيني، عن الديلمي، قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي اختان تزوجتهما في الجاهلية . فقال " اذا رجعت فطلق احداهما
فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۱؎۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن ابي وهب الجيشاني، حدثه انه، سمع الضحاك بن فيروز الديلمي، يحدث عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني اسلمت وتحتي اختان . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لي " طلق ايتهما شيت
قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ۱؎۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، حدثنا هشيم، عن ابن ابي ليلى، عن حميضة بنت الشمردل، عن قيس بن الحارث، قال اسلمت وعندي ثمان نسوة فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت ذلك له فقال " اختر منهن اربعا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ۱؎۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال اسلم غيلان بن سلمة وتحته عشر نسوة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " خذ منهن اربعا
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله، عن عقبة بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان احق الشرط ان يوفى به ما استحللتم به الفروج
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی طرح ادب سکھائے، اور اچھی طرح تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اہل کتاب میں سے جو شخص اپنے نبی پر ایمان لایا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا، اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرے، اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرے، تو اس کو دوہرا اجر ہے ۱؎۔ شعبی نے صالح سے کہا: ہم نے یہ حدیث تم کو مفت سنا دی، اس سے معمولی حدیث کے لیے آدمی مدینہ تک سوار ہو کر جایا کرتا تھا ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد ابو سعيد الاشج، حدثنا عبدة بن سليمان، عن صالح بن صالح بن حى، عن الشعبي، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له جارية فادبها فاحسن ادبها وعلمها فاحسن تعليمها ثم اعتقها وتزوجها فله اجران وايما رجل من اهل الكتاب امن بنبيه وامن بمحمد فله اجران وايما عبد مملوك ادى حق الله عليه وحق مواليه فله اجران " . قال صالح قال الشعبي قد اعطيتكها بغير شىء . ان كان الراكب ليركب فيما دونها الى المدينة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۱؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صفیہ ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ثابت، وعبد العزيز، عن انس، قال صارت صفية لدحية الكلبي ثم صارت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بعد فتزوجها وجعل عتقها صداقها . قال حماد فقال عبد العزيز لثابت يا ابا محمد انت سالت انسا ما امهرها قال امهرها نفسها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر کر کے ان سے شادی کر لی
حدثنا حبيش بن مبشر، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن عايشة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتق صفية وجعل عتقها صداقها وتزوجها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو وہ زانی ہے ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تزوج العبد بغير اذن سيده كان عاهرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، وصالح بن محمد بن يحيى بن سعيد، قالا حدثنا ابو غسان، مالك بن اسماعيل حدثنا مندل، عن ابن جريج، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما عبد تزوج بغير اذن مواليه فهو زان
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عبد الله، والحسن، ابنى محمد بن علي عن ابيهما، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن لحوم الحمر الانسية
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کر لو ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا: چادر تو چادر کی ہی طرح ہے ( پھر وہ میری طرف مائل ہو گئی ) چنانچہ میں نے اس سے نکاح ( متعہ ) کر لیا، اور اس رات اسی کے پاس رہا، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ( حجر اسود ) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد العزيز بن عمر، عن الربيع بن سبرة، عن ابيه، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فقالوا يا رسول الله ان العزبة قد اشتدت علينا . قال " فاستمتعوا من هذه النساء " . فاتيناهن فابين ان ينكحننا الا ان نجعل بيننا وبينهن اجلا فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اجعلوا بينكم وبينهن اجلا " . فخرجت انا وابن عم لي معه برد ومعي برد وبرده اجود من بردي وانا اشب منه فاتينا على امراة فقالت برد كبرد . فتزوجتها فمكثت عندها تلك الليلة ثم غدوت ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم بين الركن والباب وهو يقول " ايها الناس اني قد كنت اذنت لكم في الاستمتاع الا وان الله قد حرمها الى يوم القيامة فمن كان عنده منهن شىء فليخل سبيلها ولا تاخذوا مما اتيتموهن شييا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا الفريابي، عن ابان بن ابي حازم، عن ابي بكر بن حفص، عن ابن عمر، قال لما ولي عمر بن الخطاب خطب الناس فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذن لنا في المتعة ثلاثا ثم حرمها والله لا اعلم احدا تمتع وهو محصن الا رجمته بالحجارة الا ان ياتيني باربعة يشهدون ان رسول الله احلها بعد اذ حرمها
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا ابو فزارة، عن يزيد بن الاصم، حدثتني ميمونة بنت الحارث، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهو حلال . قال وكانت خالتي وخالة ابن عباس