Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نكح وهو محرم
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن مالك بن انس، عن نافع، عن نبيه بن وهب، عن ابان بن عثمان بن عفان، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المحرم لا ينكح ولا ينكح ولا يخطب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہو گی ۱؎۔
حدثنا محمد بن سابور الرقي، حدثنا عبد الحميد بن سليمان الانصاري، اخو فليح عن محمد بن عجلان، عن ابن وثيمة المصري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه الا تفعلوا تكن فتنة في الارض وفساد عريض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا الحارث بن عمران الجعفري، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تخيروا لنطفكم وانكحوا الاكفاء وانكحوا اليهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له امراتان يميل مع احداهما على الاخرى جاء يوم القيامة واحد شقيه ساقط
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يمان، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سافر اقرع بين نسايه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے، اور باری میں انصاف کرتے، پھر فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ ( محبت کے معاملہ ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے، اور میں مالک نہیں ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم بين نسايه فيعدل ثم يقول " اللهم هذا فعلي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عقبة بن خالد، ح وحدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد العزيز بن محمد، جميعا عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لما ان كبرت، سودة بنت زمعة وهبت يومها لعايشة فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم لعايشة بيوم سودة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن سمية، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على صفية بنت حيى في شىء . فقالت صفية يا عايشة هل لك ان ترضي رسول الله صلى الله عليه وسلم عني ولك يومي قالت نعم . فاخذت خمارا لها مصبوغا بزعفران فرشته بالماء ليفوح ريحه ثم قعدت الى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا عايشة اليك عني انه ليس يومك " . فقالت ذلك فضل الله يوتيه من يشاء . فاخبرته بالامر فرضي عنها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ آیت: «والصلح خير» اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی، اس سے کئی بچے ہوئے، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے ( اور اسے طلاق دیدے ) چنانچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا۔
حدثنا حفص بن عمرو، حدثنا عمر بن علي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، . انها قالت نزلت هذه الاية {والصلح خير} في رجل كانت تحته امراة قد طالت صحبتها وولدت منه اولادا فاراد ان يستبدل بها فراضته على ان تقيم عنده ولا يقسم لها
ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا معاوية بن يحيى، حدثنا معاوية بن يزيد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن ابي رهم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افضل الشفاعة ان يشفع بين الاثنين في النكاح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان سے خون صاف کرو ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن العباس بن ذريح، عن البهي، عن عايشة، قالت عثر اسامة بعتبة الباب فشج في وجهه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اميطي عنه الاذى " . فتقذرته فجعل يمص عنه الدم ويمجه عن وجهه ثم قال " لو كان اسامة جارية لحليته وكسوته حتى انفقه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف ومحمد بن يحيى قالا حدثنا ابو عاصم، عن جعفر بن يحيى بن ثوبان، عن عمه، عمارة بن ثوبان عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خيركم خيركم لاهله وانا خيركم لاهلي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہوں ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد، عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خياركم خياركم لنسايهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت سابقني النبي صلى الله عليه وسلم فسبقته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خیبر سے واپس ) مدینہ آئے، اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آپ دولہا ہوئے، تو انصار کی عورتیں آئیں، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی، منہ پر نقاب ڈالا، اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے چلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا، اور پوچھا: تو نے کیسا دیکھا ؟ میں نے کہا: بس چھوڑ دیجئیے، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثنا حبان بن هلال، حدثنا مبارك بن فضالة، عن علي بن زيد، عن ام محمد، عن عايشة، قالت لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وهو عروس بصفية بنت ح��ى جين نساء الانصار فاخبرن عنها . قالت فتنكرت وتنقبت فذهبت فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عيني فعرفني . قالت فالتفت فاسرعت المشى فادركني فاحتضنني فقال " كيف رايت " . قالت قلت ارسل يهودية وسط يهوديات
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا میرے گھر میں بغیر اجازت کے آ گئیں، وہ غصہ میں تھیں، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں، میں نے ان سے منہ موڑ لیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا تو میں ان کی طرف پلٹی، اور میں نے ان کا جواب دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن زكريا، عن خالد بن سلمة، عن البهي، عن عروة بن الزبير، قال قالت عايشة ما علمت حتى دخلت على زينب بغير اذن وهي غضبى . ثم قالت يا رسول الله احسبك اذا قلبت لك بنية ابي بكر ذريعتيها . ثم اقبلت على فاعرضت عنها حتى قال النبي صلى الله عليه وسلم " دونك فانتصري " . فاقبلت عليها حتى رايتها وقد يبس ريقها في فيها ما ترد على شييا فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يتهلل وجهه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمرو، حدثنا عمر بن حبيب القاضي، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت العب بالبنات وانا عند، رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يسرب الى صواحباتي يلاعبنني
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہو سکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن زمعة، قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم ثم ذكر النساء فوعظهم فيهن ثم قال " الام يجلد احدكم امراته جلد الامة ولعله ان يضاجعها من اخر يومه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا، نہ کسی عورت کو، اور نہ کسی بھی چیز کو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم خادما له ولا امراة ولا ضرب بيده شييا