Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے ( چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ) تو ان کو مار پڑی، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، تو تم انہیں ( زیادہ مارنے والے مردوں کو ) بہتر لوگ نہ پاؤ گے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن اياس بن عبد الله بن ابي ذباب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تضربوا اماء الله " . فجاء عمر الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله قد ذير النساء على ازواجهن فامر بضربهن . فضربن فطاف بال محمد صلى الله عليه وسلم طايف نساء كثير فلما اصبح قال " لقد طاف الليلة بال محمد سبعون امراة كل امراة تشتكي زوجها فلا تجدون اوليك خياركم
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہو گیا، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا: اشعث! وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تم اسے یاد کر لو: شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا۔
حدثنا محمد بن يحيى، والحسن بن مدرك الطحان، قالا حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا ابو عوانة، عن داود بن عبد الله الاودي، عن عبد الرحمن المسلي، عن الاشعث بن قيس، قال ضفت عمر ليلة فلما كان في جوف الليل قام الى امراته يضربها فحجزت بينهما فلما اوى الى فراشه قال لي يا اشعث احفظ عني شييا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يسال الرجل فيم يضرب امراته ولا تنم الا على وتر " . ونسيت الثالثة . حدثنا محمد بن خالد بن خداش، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا ابو عوانة، باسناده نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه لعن الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری بیٹی دلہن ہے، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن فاطمة، عن اسماء، قالت جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابنتي عريس وقد اصابتها الحصبة فتمرق شعرها . فاصل لها فيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعن الله الواصلة والمستوصلة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے، وہ کہنے لگی: میں پورا قرآن پڑھتی ہوں، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ اس عورت نے کہا: ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، وہ عورت بولی: میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہو گی، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ دیکھو، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی، تب کہنے لگی: میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ۱؎۔
حدثنا ابو عمر، حفص بن عمرو وعبد الرحمن بن عمر قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات لخلق الله . فبلغ ذلك امراة من بني اسد يقال لها ام يعقوب فجاءت اليه فقالت بلغني عنك انك قلت كيت وكيت . قال ومالي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله قالت اني لاقرا ما بين لوحيه فما وجدته . قال ان كنت قراته فقد وجدته اما قرات {وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا} قالت بلى . قال فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهى عنه . قالت فاني لاظن اهلك يفعلون . قال اذهبي فانظري . فذهبت فنظرت فلم تر من حاجتها شييا . قالت ما رايت شييا . قال عبد الله لو كانت كما تقولين ما جامعتنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں ( ان کے شوہروں کے پاس ) بھیجنا پسند کرتی تھیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، ح وحدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن سعيد، جميعا عن سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم في شوال وبنى بي في شوال . فاى نسايه كان احظى عنده مني . وكانت عايشة تستحب ان تدخل نساءها في شوال
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا زهير، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن عبد الملك بن الحارث بن هشام، عن ابيه رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ام سلمة في شوال وجمعها اليه في شوال
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن جميل، حدثنا شريك، عن منصور، - اظنه - عن طلحة، عن خيثمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرها ان تدخل على رجل امراته قبل ان يعطيها شييا
مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني سليمان بن سليم الكلبي، عن يحيى بن جابر، عن حكيم بن معاوية، عن عمه، مخمر بن معاوية قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا شوم وقد يكون اليمن في ثلاثة في المراة والفرس والدار
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ( یعنی نحوست ) ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔
حدثنا عبد السلام بن عاصم، حدثنا عبد الله بن نافع، حدثنا مالك بن انس، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان كان ففي الفرس والمراة والمسكن " . يعني الشوم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں ۱؎۔ زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔
حدثنا يحيى بن خلف ابو سلمة، حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة في الفرس والمراة والدار " . قال الزهري فحدثني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، ان جدته، زينب حدثته عن ام سلمة، انها كانت تعد هولاء الثلاثة وتزيد معهن السيف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا وكيع، عن شيبان ابي معاوية، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سهم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يكره الله فاما ما يحب فالغيرة في الريبة واما ما يكره فالغيرة في غير ريبة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے ۱؎۔
حدثنا هارون بن اسحاق، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما غرت على امراة قط ما غرت على خديجة مما رايت من ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم لها ولقد امره ربه ان يبشرها ببيت في الجنة من قصب . يعني من ذهب قاله ابن ماجه
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول " ان بني هشام بن المغيرة استاذنوني ان ينكحوا ابنتهم علي بن ابي طالب فلا اذن لهم ثم لا اذن لهم ثم لا اذن لهم الا ان يريد علي بن ابي طالب ان يطلق ابنتي وينكح ابنتهم فانما هي بضعة مني يريبني ما رابها ويوذيني ما اذاها
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا، اب علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: یہ خبر سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر پر ) کھڑے ہوئے، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: امابعد، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو، قسم اللہ کی، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آ گئے ۲؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو اليمان، انبانا شعيب، عن الزهري، اخبرني علي بن الحسين، ان المسور بن مخرمة، اخبره ان علي بن ابي طالب خطب بنت ابي جهل وعنده فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم فلما سمعت بذلك، فاطمة اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان قومك يتحدثون انك لا تغضب لبناتك وهذا علي ناكحا ابنة ابي جهل . قال المسور فقام النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته حين تشهد ثم قال " اما بعد فاني قد انكحت ابا العاص بن الربيع فحدثني فصدقني وان فاطمة بنت محمد بضعة مني وانا اكره ان تفتنوها وانها والله لا تجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله عند رجل واحد ابدا " . قال فنزل علي عن الخطبة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے؟! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے ( سورة الأحزاب: 51 ) تب میں نے کہا: آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها كانت تقول اما تستحي المراة ان تهب نفسها للنبي صلى الله عليه وسلم حتى انزل الله {ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء} . قالت فقلت ان ربك ليسارع في هواك
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف ومحمد بن بشار قالا حدثنا مرحوم بن عبد العزيز، حدثنا ثابت، قال كنا جلوسا مع انس بن مالك وعنده ابنة له فقال انس جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فعرضت نفسها عليه . فقالت يا رسول الله هل لك في حاجة فقالت ابنته ما اقل حياءها . فقال هي خير منك رغبت في رسول الله صلى الله عليه وسلم فعرضت نفسها عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ( تیرے لڑکے میں ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا ۱؎۔ یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال جاء رجل من بني فزارة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال يا رسول الله ان امراتي ولدت غلاما اسود . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " هل فيها من اورق " . قال ان فيها لورقا . قال " فانى اتاها ذلك " . قال عسى عرق نزعها . قال " وهذا لعل عرقا نزعه " . واللفظ لابن الصباح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی سیاہ بھی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عباءة بن كليب الليثي ابو غسان، عن جويرية بن اسماء، عن نافع، عن ابن عمر، . ان رجلا، من اهل البادية اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان امراتي ولدت على فراشي غلاما اسود وانا اهل بيت لم يكن فينا اسود قط . قال " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " هل فيها اسود " . قال لا . قال " فهل فيها اورق " . قال نعم . قال " فانى كان ذلك " . قال عسى ان يكون نزعه عرق . قال " فلعل ابنك هذا نزعه عرق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ان عبد بن زمعة وسعدا اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم في ابن امة زمعة . فقال سعد يا رسول الله اوصاني اخي اذا قدمت مكة ان انظر الى ابن امة زمعة فاقبضه . وقال عبد بن زمعة اخي وابن امة ابي ولد على فراش ابي . فراى النبي صلى الله عليه وسلم شبهه بعتبة فقال " هو لك يا عبد بن زمعة . الولد للفراش واحتجبي عنه يا سودة