Loading...

Loading...
کتب
۱۷۱ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالولد للفراش
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الولد للفراش . وللعاهر الحجر
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا شرحبيل بن مسلم، قال سمعت ابا امامة الباهلي، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الولد للفراش وللعاهر الحجر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حفص بن جميع، حدثنا سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان امراة، جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فاسلمت . فتزوجها رجل . قال فجاء زوجها الاول فقال يا رسول الله اني قد كنت اسلمت معها وعلمت باسلامي . قال فانتزعها رسول الله صلى الله عليه وسلم من زوجها الاخر وردها الى زوجها الاول
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد، ويحيى بن حكيم، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن اسحاق، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رد ابنته على ابي العاص بن الربيع بعد سنتين بنكاحها الاول
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رد ابنته زينب على ابي العاص بن الربيع بنكاح جديد
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل»کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن اسحاق، حدثنا يحيى بن ايوب، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل القرشي، عن عروة، عن عايشة، عن جدامة بنت وهب الاسدية، انها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قد اردت ان انهى عن الغيال فاذا فارس والروم يغيلون فلا يقتلون اولادهم " . وسمعته يقول وسيل عن العزل فقال " هو الواد الخفي
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، عن عمرو بن مهاجر، انه سمع اباه المهاجر بن ابي مسلم، يحدث عن اسماء بنت يزيد بن السكن، وكانت، مولاته انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقتلوا اولادكم سرا فوالذي نفسي بيده ان الغيل ليدرك الفارس على ظهر فرسه حتى يصرعه
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مومل، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي امامة، قال اتت النبي صلى الله عليه وسلم امراة معها صبيان لها قد حملت احدهما وهي تقود الاخر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حاملات والدات رحيمات لولا ما ياتين الى ازواجهن دخل مصلياتهن الجنة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔
حدثنا عبد الوهاب بن الضحاك، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا توذي امراة زوجها الا قالت زوجته من الحور العين لا توذيه قاتلك الله فانما هو عندك دخيل اوشك ان يفارقك الينا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا ۔
حدثنا يحيى بن معلى بن منصور، حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، حدثنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحرم الحرام الحلال