Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہو گیا، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں ؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الاعمش، عن مسلم البطين، والحكم، وسلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، وعطاء، ومجاهد، عن ابن عباس، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان اختي ماتت وعليها صيام شهرين متتابعين قال " ارايت لو كان على اختك دين اكنت تقضينه " . قالت بلى . قال " فحق الله احق
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎۔
حدثنا زهير بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، عن سفيان، عن عبد الله بن عطاء، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان امي ماتت وعليها صوم افاصوم عنها قال " نعم
عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے، ان میں انہوں نے روزے رکھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا احمد بن خالد الوهبي، حدثنا محمد بن اسحاق، عن عيسى بن عبد الله بن مالك، عن عطية بن سفيان بن عبد الله بن ربيعة، قال حدثنا وفدنا الذين، قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم باسلام ثقيف . قال وقدموا عليه في رمضان وضرب عليهم قبة في المسجد فلما اسلموا صاموا ما بقي عليهم من الشهر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر عورت رمضان کے علاوہ کسی دن ( نفلی روزہ ) نہ رکھے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصوم المراة وزوجها شاهد يوما من غير شهر رمضان الا باذنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ رکھیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا ابو عوانة، عن سليمان، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم النساء ان يصمن الا باذن ازواجهن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی قوم کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے ۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي، حدثنا موسى بن داود، وخالد بن ابي يزيد، قالا حدثنا ابو بكر المدني، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نزل الرجل بقوم فلا يصوم الا باذنهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا محمد بن معن، عن ابيه، وعن عبد الله بن عبد الله الاموي، عن معن بن محمد، عن حنظلة بن علي الاسلمي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " الطاعم الشاكر بمنزلة الصايم الصابر
صحابی رسول سنان بن سنۃ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والے کو صبر کرنے والے صائم کے برابر ثواب ملتا ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله الرقي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عبد الله بن ابي حرة، عن عمه، حكيم بن ابي حرة عن سنان بن سنة الاسلمي، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الطاعم الشاكر له مثل اجر الصايم الصابر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی، لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ ( دہے ) کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، قال اعتكفنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشر الاوسط من رمضان فقال " اني اريت ليلة القدر فانسيتها فالتمسوها في العشر الاواخر في الوتر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں ( عبادت ) میں ایسی محنت کرتے تھے کہ ویسی آپ اور دنوں میں نہیں کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، وابو اسحاق الهروي ابراهيم بن عبد الله بن حاتم قالا حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم النخعي، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الاواخر ما لا يجتهد في غيره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ ( دہا ) آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان، عن ابن عبيد بن نسطاس، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخلت العشر احيا الليل وشد الميزر وايقظ اهله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے تھے، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۱؎ اور ہر سال ایک بار قرآن کا دور آپ سے کرایا جاتا تھا، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال دو بار آپ سے دور کرایا گیا ۲؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف كل عام عشرة ايام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما وكان يعرض عليه القران في كل عام مرة فلما كان العام الذي قبض فيه عرض عليه مرتين
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے ( دہے ) میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال آپ نے سفر کیا ( تو اعتکاف نہ کر سکے ) جب دوسرا سال ہوا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابى بن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان فسافر عاما فلما كان من العام المقبل اعتكف عشرين يوما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے ( بھی ) ایک خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کا خیمہ دیکھا تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: کیا ثواب کے لیے تم سب نے ایسا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے مہینہ میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يعتكف صلى الصبح ثم دخل المكان الذي يريد ان يعتكف فيه فاراد ان يعتكف العشر الاواخر من رمضان فامر فضرب له خباء فامرت عايشة بخباء فضرب لها وامرت حفصة بخباء فضرب لها فلما رات زينب خباءهما امرت بخباء فضرب لها فلما راى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " البر تردن " . فلم يعتكف في رمضان واعتكف عشرا من شوال
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا اسحاق بن موسى الخطمي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، انه كان عليه نذر ليلة في الجاهلية يعتكفها فسال النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يعتكف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، ان نافعا، حدثه عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان . قال نافع وقد اراني عبد الله بن عمر المكان الذي كان يعتكف فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو آپ کا بستر بچھا دیا جاتا تھا یا چارپائی توبہ کے ستون کے پیچھے ڈال دی جاتی تھی۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا ابن المبارك، عن عيسى بن عمر بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان اذا اعتكف طرح له فراشه - او يوضع له سريره وراء اصطوانة التوبة
ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثني عمارة بن غزية، قال سمعت محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتكف في قبة تركية على سدتها قطعة حصير . قال فاخذ الحصير بيده فنحاها في ناحية القبة ثم اطلع راسه فكلم الناس
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ( اعتکاف کی حالت میں ) گھر میں ضرورت ( قضائے حاجت ) کے لیے جاتی تھی، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة، قالت ان كنت لادخل البيت للحاجة والمريض فيه فما اسال عنه الا وانا مارة . قالت وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل البيت الا لحاجة اذا كانوا معتكفين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معتکف جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے، اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے ۔
حدثنا احمد بن منصور ابو بكر، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا الهياج الخراساني، حدثنا عنبسة بن عبد الرحمن، عن عبد الخالق، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المعتكف يتبع الجنازة ويعود المريض