Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدني الى راسه وهو مجاور فاغسله وارجله وانا في حجرتي وانا حايض وهو في المسجد
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا عمر بن عثمان بن عمر بن موسى بن عبيد الله بن معمر، عن ابيه، عن ابن شهاب، اخبرني علي بن الحسين، عن صفية بنت حيى، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره وهو معتكف في المسجد في العشر الاواخر من شهر رمضان فتحدثت عنده ساعة من العشاء ثم قامت تنقلب فقام معها رسول الله صلى الله عليه وسلم يقلبها حتى اذا بلغت باب المسجد الذي كان عند مسكن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم مر بهما رجلان من الانصار فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نفذا فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم " على رسلكما انها صفية بنت حيى " . قالا سبحان الله يا رسول الله وكبر عليهما ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشيطان يجري من ابن ادم مجرى الدم واني خشيت ان يقذف في قلوبكما شييا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎۔
حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا عفان، حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، قال قالت عايشة اعتكفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم امراة من نسايه فكانت ترى الحمرة والصفرة فربما وضعت تحتها الطست
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا ۔
حدثنا عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا محمد بن امية، حدثنا عيسى بن موسى البخاري، عن عبيدة العمي، عن فرقد السبخي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المعتكف " هو يعكف الذنوب ويجرى له من الحسنات كعامل الحسنات كلها
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے ۔
حدثنا ابو احمد المرار بن حمويه، حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية بن الوليد، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قام ليلتى العيدين لله محتسبا لم يمت قلبه يوم تموت القلوب