Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل عمل ابن ادم يضاعف الحسنة بعشر امثالها الى سبعماية ضعف الى ما شاء الله. يقول الله: الا الصوم فانه لي وانا اجزي به. يدع شهوته وطعامه من اجلي. للصايم فرحتان: فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه. ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعيد بن ابي هند، ان مطرفا، من بني عامر بن صعصعة حدثه ان عثمان بن ابي العاص الثقفي دعا له بلبن يسقيه فقال مطرف: اني صايم . فقال عثمان: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الصيام جنة من النار كجنة احدكم من القتال
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني هشام بن سعد، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ان في الجنة بابا يقال له الريان يدعى يوم القيامة يقال: اين الصايمون؟ فمن كان من الصايمين دخله ومن دخله لم يظما ابدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " اذا كانت اول ليلة من رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت ابواب النار فلم يفتح منها باب. وفتحت ابواب الجنة فلم يغلق منها باب. ونادى مناد: يا باغي الخير اقبل. ويا باغي الشر اقصر. ولله عتقاء من النار. وذلك في كل ليلة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله عند كل فطر عتقاء وذلك في كل ليلة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رمضان آیا تو رسول کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر ( بھلائی ) سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو ( واقعی ) محروم ہو ۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثنا محمد بن بلال، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال: دخل رمضان. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا الشهر قد حضركم وفيه ليلة خير من الف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله ولا يحرم خيرها الا محروم
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم شک والے دن میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہو گئے، ( کیونکہ وہ روزے سے تھے ) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، قال كنا عند عمار في اليوم الذي يشك فيه فاتي بشاة فتنحى بعض القوم فقال عمار من صام هذا اليوم فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن عبد الله بن سعيد، عن جده، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تعجيل صوم يوم قبل الروية
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے: روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا الهيثم بن حميد، حدثنا العلاء بن الحارث، عن القاسم ابي عبد الرحمن، انه سمع معاوية بن ابي سفيان، على المنبر يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر قبل شهر رمضان " الصيام يوم كذا وكذا ونحن متقدمون فمن شاء فليتقدم ومن شاء فليتاخر
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن شعبة، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصل شعبان برمضان
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ربيعة بن الغاز، انه سال عايشة عن صيام، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: كان يصوم شعبان كله حتى يصله برمضان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب، والوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا صيام رمضان بيوم ولا بيومين الا رجل كان يصوم صوما فيصومه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلم بن خالد، قال: حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان النصف من شعبان فلا صوم حتى يجيء رمضان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال اٹھو، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں ۔ ابوعلی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں ( یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں ) اور روزہ رکھیں۔
حدثنا عمرو بن عبد الله الاودي، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا ابو اسامة، حدثنا زايدة بن قدامة، حدثنا سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابصرت الهلال الليلة . فقال: " اتشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله " . قال نعم . قال: " قم يا بلال فاذن في الناس ان يصوموا غدا
ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن ابي عمير بن انس بن مالك، قال حدثني عمومتي، من الانصار من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: اغمي علينا هلال شوال. فاصبحنا صياما. فجاء ركب من اخر النهار فشهدوا عند النبي صلى الله عليه وسلم انهم راوا الهلال بالامس. فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يفطروا وان يخرجوا الى عيدهم من الغد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو ۱؎۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا . فان غم عليكم فاقدروا له " . وكان ابن عمر يصوم قبل الهلال بيوم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب چاند دیکھو تو روزہ توڑ دو، اگر بادل آ جائے تو تیس روزے پورے کرو ۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فصوموا ثلاثين يوما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كم مضى من الشهر؟ " . قال: قلنا: اثنان وعشرون وبقيت ثمان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر هكذا والشهر هكذا والشهر هكذا " . ثلاث مرات وامسك واحدة
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر هكذا وهكذا وهكذا " . وعقد تسعا وعشرين في الثالثة