Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا القاسم بن مالك المزني، حدثنا الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي هريرة، قال: ما صمنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تسعا وعشرين اكثر مما صمنا ثلاثين
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عمر بن ابي عمر المقري، حدثنا اسحاق بن عيسى، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الفطر يوم تفطرون والاضحى يوم تضحون
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال صام رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر وافطر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں روزہ رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت: سال حمزة الاسلمي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اني اصوم افاصوم في السفر؟ فقال صلى الله عليه وسلم " ان شيت فصم وان شيت فافطر
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، وهارون بن عبد الله الحمال، قالا: حدثنا ابن ابي فديك، جميعا عن هشام بن سعد، عن عثمان بن حيان الدمشقي، حدثتني ام الدرداء، عن ابي الدرداء، انه قال: لقد رايتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره في اليوم الحار.الشديد الحر. وان الرجل ليضع يده على راسه من شدة الحر. وما في القوم احد صايم الا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعبد الله بن رواحة
کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن صفوان بن عبد الله، عن ام الدرداء، عن كعب بن عاصم، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس من البر الصيام في السفر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا محمد بن حرب، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس من البر الصيام في السفر
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں روزہ نہ رکھنے والا ۔ ابواسحاق کہتے ہیں: یہ حدیث کچھ نہیں ہے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا عبد الله بن موسى التيمي، عن اسامة بن زيد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابيه عبد الرحمن بن عوف، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صايم رمضان في السفر كالمفطر في الحضر " .قال ابو اسحاق: هذاالحديث ليس بشيء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ ( دودھ پلانے والی ) سے روزہ معاف کر دیا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں، یا ایک بات فرمائی، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا: حدثنا وكيع، عن ابي هلال، عن عبد الله بن سوادة، عن انس بن مالك، - رجل من بني عبد الاشهل وقال: علي بن محمد من بني عبد الله بن كعب - قال: اغارت علينا خيل رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتغدى فقال: " ادن فكل " . قلت: اني صايم . قال: " اجلس احدثك عن الصوم او الصيام . ان الله عز وجل وضع عن المسافر شطر الصلاة وعن المسافر والحامل والمرضع الصوم او الصيام " . والله لقد قالهما النبي صلى الله عليه وسلم كلتاهما او احداهما فيا لهف نفسي فهلا كنت طعمت من طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔
حدثنا هشام بن عمار الدمشقي، حدثنا الربيع بن بدر، عن الجريري، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلى التي تخاف على نفسها ان تفطر وللمرضع التي تخاف على ولدها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا ۱؎۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، وعن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة، قال: سمعت عايشة تقول: ان كان ليكون على الصيام من شهر رمضان فما اقضيه حتى يجيء شعبان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيدة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت: كنا نحيض عند النبي صلى الله عليه وسلم فيامرنا بقضاء الصوم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو ، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اسے صدقہ کر دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال: اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال هلكت . قال: " وما اهلكك؟ " . قال: وقعت على امراتي في رمضان . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعتق رقبة " . قال: لا اجدها . قال: " صم شهرين متتابعين " . قال: لا اطيق . قال: " اطعم ستين مسكينا " . قال: لا اجد . قال: " اجلس " . فجلس فبينما هو كذلك اذ اتي بمكتل يدعى العرق فقال: " اذهب فتصدق به " قال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت احوج اليه منا . قال: " فانطلق فاطعمه عيالك " . حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا عبد الجبار بن عمر، حدثني يحيى بن سعيد، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك فقال: " وصم يوما مكانه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے ( بھی ) کافی نہ ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابن المطوس، عن ابيه المطوس، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افطر يوما من رمضان من غير رخصة لم يجزه صيام الدهر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے ( توڑے نہیں ) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن خلاس، ومحمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل ناسيا وهو صايم فليتم صومه فانما اطعمه الله وسقاه
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت: افطرنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم غيم ثم طلعت الشمس . قلت لهشام: امروا بالقضاء؟ قال: لا بد من ذلك
فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يعلى، ومحمد، ابنا عبيد الطنافسي قالا حدثنا محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي مرزوق، قال: سمعت فضالة بن عبيد الانصاري، يحدث ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج عليهم في يوم كان يصومه فدعا باناء فشرب فقلنا: يا رسول الله ان هذا يوم كنت تصومه . قال: " اجل. ولكني قيت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا الحكم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، ح وحدثنا عبيد الله، حدثنا علي بن الحسن بن سليمان ابو الشعثاء، حدثنا حفص بن غياث، جميعا عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " من ذرعه القىء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن محمد بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسماعيل المودب، عن مجالد، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خير خصال الصايم السواك