Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے ۔
حدثنا ابو التقي، هشام بن عبد الملك الحمصي حدثنا بقية، حدثنا الزبيدي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت: اكتحل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صايم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۱؎۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، وداود بن رشيد، قالا حدثنا معمر بن سليمان، حدثنا عبد الله بن بشر، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افطر الحاجم والمحجوم
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا عبيد الله، انبانا شيبان، عن يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو قلابة، ان ابا اسماء، حدثه عن ثوبان، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " افطر الحاجم والمحجوم
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، قال حدثنا عبيد الله، قال انبانا شيبان، عن يحيى، عن ابي قلابة، انه اخبره ان شداد بن اوس بينما هو يمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبقيع. فمر على رجل يحتجم بعد ما مضى من الشهر ثماني عشرة ليلة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افطر الحاجم والمحجوم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ روزے سے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن فضيل، عن يزيد بن ابي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس، قال: احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صايم محرم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن الجراح، قالا: حدثنا ابو الاحوص، عن زياد بن علاقة، عن عمرو بن ميمون، عن عايشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل في شهر الصوم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن عبيد الله، عن القاسم، عن عايشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل وهو صايم. وايكم يملك اربه كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يملك اربه؟
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن شتير بن شكل، عن حفصة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل وهو صايم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، عن اسراييل، عن زيد بن جبير، عن ابي يزيد الضني، عن ميمونة، مولاة النبي صلى الله عليه وسلم قالت: سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن رجل قبل امراته وهما صايمان قال: " قد افطرا
اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے ( ساتھ سوتے ) تھے؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن عون، عن ابراهيم، قال دخل الاسود ومسروق على عايشة فقالا اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يباشر وهو صايم قالت كان يفعل وكان املككم لاربه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن خالد بن عبد الله الواسطي، حدثنا ابي، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: رخص للكبير الصايم في المباشرة وكره للشاب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يدع قول الزور، والجهل، والعمل به، فلا حاجة لله في ان يدع طعامه وشرابه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن اسامة بن زيد، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رب صايم ليس له من صيامه الا الجوع. ورب قايم ليس له من قيامه الا السهر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان يوم صوم احدكم فلا يرفث ولا يجهل. فان جهل عليه احد، فليقل: اني امرو صايم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، سحری میں برکت ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن کے روزے میں سحری کھانے سے مدد لو، اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " استعينوا بطعام السحر على صيام النهار وبالقيلولة على قيام الليل
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن زيد بن ثابت، قال: تسحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قمنا الى الصلاة . قلت كم بينهما؟ قال: قدر قراءة خمسين اية
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن حذيفة، قال: تسحرت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هو النهار الا ان الشمس لم تطلع .[ قال ابو اسحاق: حديث حذيفة منسوخ ليس بشيء]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا ( سحری کھانے کے لیے ) جاگ جائے، اور قیام ( یعنی تہجد پڑھنے ) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض ( چوڑان ) میں ظاہر ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يحيى بن سعيد، وابن ابي عدي، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يمنعن احدكم اذان بلال من سحوره. فانه يوذن لينتبه نايمكم، وليرجع قايمكم. وليس الفجر ان يقول هكذا. ولكن هكذا، يعترض في افق السماء
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، ہمیشہ خیر میں رہیں گے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا يزال الناس بخير ما عجلوا الافطار