Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر. عجلوا الفطر، فان اليهود يوخرون
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، ومحمد بن فضيل، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب ام الرايح بنت صليع، عن عمها، سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا افطر احدكم، فليفطر على تمرة. فان لم يجد، فليفطر على الماء. فانه طهور
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد القطواني، عن اسحاق بن حازم، عن عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، عن سالم، عن ابن عمر، عن حفصة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صيام لمن لم يفرضه من الليل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے: میں روزے سے ہوں ، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن طلحة بن يحيى، عن مجاهد، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " هل عندكم شىء؟ " . فنقول: لا . فيقول: " اني صايم " . فيقيم على صومه ثم يهدى لنا شىء فيفطر . قالت: وربما صام وافطر . قلت: كيف ذا؟ قالت: انما مثل هذا مثل الذي يخرج بصدقة فيعطي بعضها ويمسك بعضا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رب کعبہ کی قسم! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن يحيى بن جعدة، عن عبد الله بن عمرو القاري، قال: سمعت ابا هريرة، يقول لا ورب الكعبة ما انا قلت: " من اصبح وهو جنب فليفطر " . محمد صلى الله عليه وسلم قاله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی۔ مطرف کہتے ہیں: میں نے عامر سے پوچھا: کیا ایسا رمضان میں ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن مطرف، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يبيت جنبا. فياتيه بلال، فيوذنه بالصلاة فيقوم فيغتسل. فانظر الى تحدر الماء من راسه. ثم يخرج فاسمع صوته في صلاة الفجر . قال مطرف: فقلت لعامرافي رمضان؟ قال رمضان وغيره سواء
نافع کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، قال سالت ام سلمة عن الرجل، يصبح، وهو جنب، يريد الصوم؟ قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا من الوقاع، لا من احتلام، ثم يغتسل ويتم صومه
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے نہ تو روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد بن سعيد، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، وابو داود قالوا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم " من صام الابد، فلا صام ولا افطر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس کا روزہ ہی نہیں ہوا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس المكي، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صام من صام الابد
منہال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا، اور فرماتے: یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شعبة، عن انس بن سيرين، عن عبد الملك بن المنهال، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يامر بصيام البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة ويقول: " هو كصوم الدهر او كهيية صوم الدهر " . حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا حبان بن هلال، حدثنا همام، عن انس بن سيرين، حدثني عبد الملك بن قتادة بن ملحان القيسي، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال: ابن ماجه اخطا شعبة واصاب همام
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر مہینہ تین دن روزہ رکھا تو گویا اس نے ہمیشہ روزہ رکھا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق نازل فرمائی: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ( جو کوئی ایک نیکی کرے اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی ) تو ایک روزے کے دس روزے ہوئے۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن ابي ذر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام ثلاثة ايام من كل شهر فذلك صوم الدهر " . فانزل الله عز وجل تصديق ذلك في كتابه {من جاء بالحسنة فله عشر امثالها} فاليوم بعشرة ايام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن يزيد الرشك، عن معاذة العدوية، عن عايشة، انها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ثلاثة ايام من كل شهر . قلت من ايه؟ قالت: لم يكن يبالي من ايه كان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي لبيد، عن ابي سلمة، قال: سالت عايشة عن صيام النبي، صلى الله عليه وسلم فقالت: كان يصوم حتى نقول قد صام . ويفطر حتى نقول: قد افطر. ولم اره صام من شهر قط اكثر من صيامه من شعبان. كان يصوم شعبان كله. كان يصوم شعبان الا قليلا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے چھوڑیں گے ہی نہیں، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور جب سے آپ مدینہ آئے آپ نے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کا روزہ لگاتار نہیں رکھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول: لا يفطر. ويفطر حتى نقول: لا يصوم . وما صام شهرا متتابعا الا رمضان، منذ قدم المدينة
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے ۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، قال: سمعت عمرو بن اوس قال: سمعت عبد الله بن عمرو يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الصيام الى الله صيام داود. كان يصوم يوما ويفطر يوما. واحب الصلاة الى الله صلاة داود. كان ينام نصف الليل ويصلي ثلثه وينام سدسه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، قال: قال عمر بن الخطاب: يا رسول الله! كيف بمن يصوم يومين ويفطر يوما؟ قال: " ويطيق ذلك احد " . قال: يا رسول الله! كيف بمن يصوم يوما ويفطر يوما؟ قال: " ذلك صوم داود " . قال: كيف بمن يصوم يوما ويفطر يومين؟ قال: " وددت اني طوقت ذلك
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھا ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سعيد بن ابي مريم، عن ابن لهيعة، عن جعفر بن ربيعة، عن ابي فراس، انه سمع عبد الله بن عمرو يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " صام نوح الدهر الا يوم الفطر ويوم الاضحى
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا بقية، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا يحيى بن الحارث الذماري، قال سمعت ابا اسماء الرحبي، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال: " من صام ستة ايام بعد الفطر كان تمام السنة {من جاء بالحسنة فله عشر امثالها}
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کا روزہ رکھا، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن سعد بن سعيد، عن عمر بن ثابت، عن ابي ايوب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ثم اتبعه بست من شوال، كان كصوم الدهر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی روزہ رکھا، تو اللہ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح بن المهاجر، انبانا الليث بن سعد، عن ابن الهاد، عن سهيل بن ابي صالح، عن النعمان بن ابي عياش، عن ابي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام يوما في سبيل الله، باعد الله، بذلك اليوم، النار عن وجهه سبعين خريفا