Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا انس بن عياض، حدثنا عبد الله بن عبد العزيز الليثي، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام يوما في سبيل الله، زحزح الله وجهه عن النار سبعين خريفا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايام منى، ايام اكل وشرب
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ ( ایام تشریق ) کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن بشر بن سحيم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب ايام التشريق فقال: " لا يدخل الجنة الا نفس مسلمة. وان هذه الايام ايام اكل وشرب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يعلى التيمي، عن عبد الملك بن عمير، عن قزعة، عن ابي سعيد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن صوم يوم الفطر ويوم الاضحى
ابوعبید (سعد بن عبید الزہری) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي عبيد، قال شهدت العيد مع عمر بن الخطاب فبدا بالصلاة قبل الخطبة فقال: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام هذين اليومين، يوم الفطر ويوم الاضحى. اما يوم الفطر، فيوم فطركم من صيامكم. ويوم الاضحى تاكلون فيه من لحم نسككم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، وحفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الجمعة الا بيوم قبله، او يوم بعده
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الحميد بن جبير بن شيبة، عن محمد بن عباد بن جعفر، قال: سالت جابر بن عبد الله وانا اطوف، بالبيت: انهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صيام يوم الجمعة؟ قال: نعم ورب هذا البيت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ ( جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے ) ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا ابو داود، حدثنا شيبان، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال: قلما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر يوم الجمعة
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے ( لیکن روزہ نہ رکھے ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عيسى بن يونس، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن بسر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصوموا يوم السبت الا فيما افترض عليكم. فان لم يجد احدكم الا عود عنب، او لحاء شجرة، فليمصه " . حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا سفيان بن حبيب، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن بسر، عن اخته، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ايام العمل الصالح فيها احب الى الله من هذه الايام " . يعني العشر . قالوا: يا رسول الله! ولا الجهاد في سبيل الله قال: " ولا الجهاد في سبيل الله. الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشىء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر ( قدر کی رات ) کے برابر ہے ۔
حدثنا عمر بن شبة بن عبيدة، حدثنا مسعود بن واصل، عن النهاس بن قهم، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ايام الدنيا ايام، احب الى الله سبحانه ان يتعبد له فيها، من ايام العشر. وان صيام يوم فيها ليعدل صيام سنة، وليلة فيها بليلة القدر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت: ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صام العشر قط
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ ۱؎ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب اللہ تعالیٰ یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا ۲؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صيام يوم عرفة، اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله والتي بعده
قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، عن اسحاق بن عبد الله، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، عن قتادة بن النعمان، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من صام يوم عرفة، غفر له سنة امامه وسنة بعده
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثني حوشب بن عقيل، حدثني مهدي العبدي، عن عكرمة، قال: دخلت على ابي هريرة في بيته فسالته عن صوم يوم عرفة بعرفات؟ فقال: ابو هريرة نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم عرفة بعرفات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء ( محرم کی دسویں تاریخ ) کا روزہ رکھتے، اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم عاشوراء، ويامر بصيامه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن شکریہ میں روزہ رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۱؎، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فوجد اليهود صياما. فقال: " ما هذا؟ " . قالوا: هذا يوم انجى الله فيه موسى، واغرق فيه فرعون، فصامه موسى شكرا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن احق بموسى منكم " . فصامه، وامر بصيامه
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا: آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے ؟ ہم نے عرض کیا: بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں، اور«عروض» ۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں ۲؎۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن الشعبي، عن محمد بن صيفي، قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء: " منكم احد طعم اليوم؟ " . قلنا: منا طعم ومنا من لم يطعم . قال: " فاتموا بقية يومكم. من كان طعم ومن لم يطعم. فارسلوا الى اهل العروض فليتموا بقية يومهم " . قال يعني اهل العروض حول المدينة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا ۔ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن القاسم بن عباس، عن عبد الله بن عمير، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لين بقيت الى قابل لاصومن اليوم التاسع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء ( محرم کی دسویں تاریخ ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم " كان يوما يصومه اهل الجاهلية. فمن احب منكم ان يصومه فليصمه، ومن كرهه فليدعه