Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشوراء کا روزہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صيام يوم عاشوراء اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کا اہتمام کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ربيعة بن الغاز، انه سال عايشة عن صيام، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان يتحرى صيام الاثنين والخميس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا الضحاك بن مخلد، عن محمد بن رفاعة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصوم الاثنين والخميس . فقيل يا رسول الله انك تصوم يوم الاثنين والخميس فقال " ان يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل مسلم الا مهتجرين يقول دعهما حتى يصطلحا
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن الجريري، عن ابي السليل، عن ابي مجيبة الباهلي، عن ابيه، او عن عمه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله انا الرجل الذي اتيتك عام الاول . قال " فما لي ارى جسمك ناحلا " . قال يا رسول الله ما اكلت طعاما بالنهار ما اكلته الا بالليل . قال " من امرك ان تعذب نفسك " . قلت يا رسول الله اني اقوى . قال " صم شهر الصبر ويوما بعده . قلت اني اقوى . قال " صم شهر الصبر ويومين بعده " . قلت اني اقوى . قال " صم شهر الصبر وثلاثة ايام بعده وصم اشهر الحرم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن محمد بن المنتشر، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اى الصيام افضل بعد شهر رمضان قال " شهر الله الذي تدعونه المحرم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کے مہینے میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا داود بن عطاء، حدثني زيد بن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن سليمان، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام رجب
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شوال میں روزے رکھو ، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنا چھوڑ دیا، پھر برابر شوال میں روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز الدراوردي، عن يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، ان اسامة بن زيد، كان يصوم اشهر الحرم . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " صم شوالا " . فترك اشهر الحرم ثم لم يزل يصوم شوالا حتى مات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کی زکاۃ ہے، اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے محرز کی روایت میں اتنا اضافہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ آدھا صبر ہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن المبارك، ح وحدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، جميعا عن موسى بن عبيدة، عن جمهان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكل شىء زكاة وزكاة الجسد الصوم " . زاد محرز في حديثه وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصيام نصف الصبر
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ليلى، وخالي، يعلى عن عبد الملك، وابو معاوية عن حجاج، كلهم عن عطاء، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فطر صايما كان له مثل اجرهم من غير ان ينقص من اجورهم شييا
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سعيد بن يحيى اللخمي، حدثنا محمد بن عمرو، عن مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن الزبير، قال افطر رسول الله صلى الله عليه وسلم عند سعد بن معاذ فقال " افطر عندكم الصايمون واكل طعامكم الابرار وصلت عليكم الملايكة
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے ( اور وہ صبر کرے ) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، وسهل، قالوا حدثنا وكيع، عن شعبة، عن حبيب بن زيد الانصاري، عن امراة، يقال لها ليلى عن ام عمارة، قالت اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقربنا اليه طعاما فكان بعض من عنده صايما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصايم اذا اكل عنده الطعام صلت عليه الملايكة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية، حدثنا محمد بن عبد الرحمن، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبلال " الغداء يا بلال " . فقال اني صايم . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناكل ارزاقنا وفضل رزق بلال في الجنة اشعرت يا بلال ان الصايم تسبح عظامه وتستغفر له الملايكة ما اكل عنده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى طعام وهو صايم فليقل اني صايم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے ۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا ابو عاصم، انبانا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دعي الى طعام وهو صايم فليجب فان شاء طعم وان شاء ترك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سعدان الجهني، عن سعد ابي مجاهد الطايي، - وكان ثقة - عن ابي مدلة، - وكان ثقة - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا ترد دعوتهم الامام العادل والصايم حتى يفطر ودعوة المظلوم يرفعها الله دون الغمام يوم القيامة وتفتح لها ابواب السماء ويقول بعزتي لانصرنك ولو بعد حين
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي» اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا اسحاق بن عبيد الله المدني، قال سمعت عبد الله بن ابي مليكة، يقول سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للصايم عند فطره لدعوة ما ترد " . قال ابن ابي مليكة سمعت عبد الله بن عمرو يقول اذا افطر اللهم اني اسالك برحمتك التي وسعت كل شىء ان تغفر لي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا هشيم، عن عبيد الله بن ابي بكر، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم تمرات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے ( مساکین ) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے ( جو آپ کے پاس جمع ہوتا ) ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا مندل بن علي، حدثنا عمر بن صهبان، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يغدي اصحابه من صدقة الفطر
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ثواب بن عتبة المهري، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يخرج يوم الفطر حتى ياكل وكان لا ياكل يوم النحر حتى يرجع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا قتيبة، حدثنا عبثر، عن اشعث، عن محمد بن سيرين، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مات وعليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكين