Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، قال الحسين بن ذكوان اخبرني عن عبد الله بن بريدة الاسلمي، عن سمرة بن جندب الفزاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على امراة ماتت في نفاسها فقام وسطها
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سعيد بن عامر، عن همام، عن ابي غالب، قال رايت انس بن مالك صلى على جنازة رجل فقام حيال راسه فجيء بجنازة اخرى بامراة فقالوا يا ابا حمزة صل عليها . فقام حيال وسط السرير فقال له العلاء بن زياد يا ابا حمزة هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قام من الجنازة مقامك من الرجل وقام من المراة مقامك من المراة قال نعم . فاقبل علينا فقال احفظوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھی ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا ابراهيم بن عثمان، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا على الجنازة بفاتحة الكتاب
ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھیں۔
حدثنا عمرو بن ابي عاصم النبيل، وابراهيم بن المستمر، قالا حدثنا ابو عاصم، حدثنا حماد بن جعفر العبدي، حدثني شهر بن حوشب، حدثتني ام شريك الانصارية، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نقرا على الجنازة بفاتحة الكتاب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو ۔
حدثنا ابو عبيد، محمد بن عبيد بن ميمون المديني حدثنا محمد بن سلمة الحراني، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا صليتم على الميت فاخلصوا له الدعاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى على جنازة يقول " اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغايبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وانثانا اللهم من احييته منا فاحيه على الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان اللهم لا تحرمنا اجره ولا تضلنا بعده
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور ( بہت بخشنے والا ) اور رحیم ( رحم کرنے والا ) ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مروان بن جناح، حدثني يونس بن ميسرة بن حلبس، عن واثلة بن الاسقع، قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين فاسمعه يقول " اللهم ان فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وانت اهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه انك انت الغفور الرحيم
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، میں حاضر تھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: «اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر وعذاب النار» اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما، اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے اپنی عافیت میں رکھ، اسے معاف کر دے، اور اس کے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا فرج بن الفضالة، حدثني عصمة بن راشد، عن حبيب بن عبيد، عن عوف بن مالك، قال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على رجل من الانصار فسمعته يقول " اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس وابدله بداره دارا خيرا من داره واهلا خيرا من اهله وقه فتنة القبر وعذاب النار " . قال عوف فلقد رايتني في مقامي ذلك اتمنى ان اكون مكان ذلك الرجل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا حفص بن غياث، عن حجاج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال ما اباح لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا ابو بكر ولا عمر في شىء ما اباحوا في الصلاة على الميت . يعني لم يوقت
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، حدثنا خالد بن الياس، عن اسماعيل بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن عثمان بن عبد الله بن الحكم بن الحارث، عن عثمان بن عفان، . ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على عثمان بن مظعون وكبر عليه اربعا
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، ( اور سلام پھیرنے میں توقف کیا ) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله»کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، حدثنا الهجري، قال صليت مع عبد الله بن ابي اوفى الاسلمي صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة ابنة له فكبر عليها اربعا فمكث بعد الرابعة شييا . قال فسمعت القوم يسبحون به من نواحي الصفوف فسلم ثم قال اكنتم ترون اني مكبر خمسا قالوا تخوفنا ذلك . قال لم اكن لافعل . ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكبر اربعا ثم يمكث ساعة فيقول ما شاء الله ان يقول ثم يسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں
حدثنا ابو هشام الرفاعي، ومحمد بن الصباح، وابو بكر بن خلاد قالوا حدثنا يحيى بن اليمان، عن المنهال بن خليفة، عن حجاج، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كبر اربعا
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات ۱؎ ( بھی ) کہتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابن ابي عدي، وابو داود عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال كان زيد بن ارقم يكبر على جنايزنا اربعا وانه كبر على جنازة خمسا فسالته فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبرها
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا ابراهيم بن علي الرافعي، عن كثير بن عبد الله، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر خمسا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، قال حدثنا سعيد بن عبيد الله بن جبير بن حية، حدثني عمي، زياد بن جبير حدثني ابي جبير بن حية، انه سمع المغيرة بن شعبة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الطفل يصلى عليه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ ( پیدائش کے وقت ) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الربيع بن بدر، حدثنا ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استهل الصبي صلي عليه وورث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا البختري بن عبيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " صلوا على اطفالكم فانهم من افراطكم
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، قال قلت لعبد الله بن ابي اوفى رايت ابراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مات وهو صغير ولو قضي ان يكون بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبي لعاش ابنه ولكن لا نبي بعده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا ۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد، حدثنا داود بن شبيب الباهلي، حدثنا ابراهيم بن عثمان، حدثنا الحكم بن عتيبة، عن مقسم، عن ابن عباس، قال لما مات ابراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " ان له مرضعا في الجنة ولو عاش لكان صديقا نبيا . ولو عاش لعتقت اخواله القبط وما استرق قبطي
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: ( نہیں ) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔
حدثنا عبد الله بن عمران، حدثنا ابو داود، حدثنا هشام بن ابي الوليد، عن امه، عن فاطمة بنت الحسين، عن ابيها الحسين بن علي، قال لما توفي القاسم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت خديجة يا رسول الله درت لبينة القاسم فلو كان الله ابقاه حتى يستكمل رضاعه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان تمام رضاعه في الجنة " . قالت لو اعلم ذلك يا رسول الله لهون على امره . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شيت دعوت الله تعالى فاسمعك صوته " . قالت يا رسول الله بل اصدق الله ورسوله