Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: ۱۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ۲۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ۳۔ جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے، ۴۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرے، ۵۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ۶۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للمسلم على المسلم ستة بالمعروف يسلم عليه اذا لقيه ويجيبه اذا دعاه ويشمته اذا عطس ويعوده اذا مرض ويتبع جنازته اذا مات ويحب له ما يحب لنفسه
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف ومحمد بن بشار قالا حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن ابيه، عن حكيم بن افلح، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " للمسلم على المسلم اربع خلال يشمته اذا عطس ويجيبه اذا دعاه ويشهده اذا مات ويعوده اذا مرض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا«الحمد لله»کہے، تو اس کے جواب میں«يرحمك الله»کہنا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من حق المسلم على المسلم رد التحية واجابة الدعوة وشهود الجنازة وعيادة المريض وتشميت العاطس اذا حمد الله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں ( مدینہ سے دور ) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا سفيان، قال سمعت محمد بن المنكدر، يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم ماشيا وابو بكر وانا في بني سلمة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلمة بن على، حدثنا ابن جريج، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يعود مريضا الا بعد ثلاث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عقبة بن خالد السكوني، عن موسى بن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخلتم على المريض فنفسوا له في الاجل فان ذلك لا يرد شييا وهو يطيب بنفس المريض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا صفوان بن هبيرة، حدثنا ابو مكين، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا فقال " ما تشتهي " . قال اشتهي خبز بر . قال النبي صلى الله عليه وسلم " من كان عنده خبز بر فليبعث الى اخيه " ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اشتهى مريض احدكم شييا فليطعمه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابو يحيى الحماني، عن الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم على مريض يعوده فقال " اتشتهي شييا اتشتهي كعكا " . قال نعم . فطلبوا له
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثني كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن برقان، عن ميمون بن مهران، عن عمر بن الخطاب، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اذا دخلت على مريض فمره ان يدعو لك فان دعاءه كدعاء الملايكة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اتى اخاه المسلم عايدا مشى في خرافة الجنة حتى يجلس فاذا جلس غمرته الرحمة فان كان غدوة صلى عليه سبعون الف ملك حتى يمسي وان كان مساء صلى عليه سبعون الف ملك حتى يصبح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی ( آواز لگانے والا ) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا ابو سنان القسملي، عن عثمان بن ابي سودة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عاد مريضا نادى مناد من السماء طبت وطاب ممشاك وتبوات من الجنة منزلا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔ صحیح مسلم/الجنائز ۱ ( ۹۱۷ ) ، ( تحفة الأشراف:)
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا موتاكم لا اله الا الله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو ( جو مرنے کے قریب ہوں ) «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سليمان بن بلال، عن عمارة بن غزية، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا موتاكم لا اله الا الله
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں ( جو لوگ مرنے کے قریب ہوں ) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين»کی تلقین کرو ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا كثير بن زيد، عن اسحاق بن عبد الله بن جعفر، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا موتاكم لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين " . قالوا يا رسول الله كيف للاحياء قال " اجود واجود
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں ، چنانچہ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کلمات کہو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضرتم المريض او الميت فقولوا خيرا فان الملايكة يومنون على ما تقولون " . فلما مات ابو سلمة اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان ابا سلمة قد مات . قال " قولي اللهم اغفر لي وله واعقبني منه عقبى حسنة " . قالت ففعلت فاعقبني الله من هو خير منه . محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کے پاس اسے یعنی سورۃ يس پڑھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، عن ابن المبارك، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، - وليس بالنهدي - عن ابيه، عن معقل بن يسار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرءوها عند موتاكم " . يعني {يس}
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی ، کعب رضی اللہ عنہ کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، ح وحدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا المحاربي، جميعا عن محمد بن اسحاق، عن الحارث بن فضيل، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال لما حضرت كعبا الوفاة اتته ام بشر بنت البراء بن معرور فقالت يا ابا عبد الرحمن ان لقيت فلانا فاقرا عليه مني السلام . قال غفر الله لك يا ام بشر نحن اشغل من ذلك . قالت يا ابا عبد الرحمن اما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان ارواح المومنين في طير خضر تعلق في شجر الجنة " . قال بلى . قالت فهو ذاك
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہئے گا۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا يوسف بن الماجشون، حدثنا محمد بن المنكدر، قال دخلت على جابر بن عبد الله وهو يموت فقلت اقرا على رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن عطاء، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها حميم لها يخنقه الموت فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم ما بها قال لها " لا تبتيسي على حميمك فان ذلك من حسناته
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن يموت بعرق الجبين