Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ ( موت کے فرشتوں کو ) دیکھ لیتا ہے ۔
حدثنا روح بن الفرج، حدثنا نصر بن حماد، حدثنا موسى بن كردم، عن محمد بن قيس، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم متى تنقطع معرفة العبد من الناس قال " اذا عاين
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن قبيصة بن ذويب، عن ام سلمة، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابي سلمة وقد شق بصره فاغمضه ثم قال " ان الروح اذا قبض تبعه البصر
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں ۔
حدثنا ابو داود، سليمان بن توبة حدثنا عاصم بن علي، حدثنا قزعة بن سويد، عن حميد الاعرج، عن الزهري، عن محمود بن لبيد، عن شداد بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضرتم موتاكم فاغمضوا البصر فان البصر يتبع الروح وقولوا خيرا فان الملايكة تومن على ما قال اهل البيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان بن مظعون وهو ميت فكاني انظر الى دموعه تسيل على خديه
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ کی وفات ہو چکی تھی۔
حدثنا احمد بن سنان، والعباس بن عبد العظيم، وسهل بن ابي سهل، قالوا حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعايشة، ان ابا بكر، قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو ۱؎، اور اخیر بار کے غسل میں کافور یا کہا: تھوڑا سا کافور ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ، لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية، قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته ام كلثوم فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه . وقال " اشعرنها اياه
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ ہے کہ: ان کو طاق بار غسل دو ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو ۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کر دیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، حدثتني حفصة، عن ام عطية، بمثل حديث محمد وكان في حديث حفصة " اغسلنها وترا " . وكان فيه " اغسلنها ثلاثا او خمسا " . وكان فيه " ابدءوا بميامنها ومواضع الوضوء منها " . وكان فيه ان ام عطية قالت وامشطنها ثلاثة قرون
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو ۔
حدثنا بشر بن ادم، حدثنا روح بن عبادة، عن ابن جريج، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " لا تبرز فخذك ولا تنظر الى فخذ حى ولا ميت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن مبشر بن عبيد، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليغسل موتاكم المامونون
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، حدثنا عباد بن كثير، عن عمرو بن خالد، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غسل ميتا وكفنه وحنطه وحمله وصلى عليه ولم يفش عليه ما راى خرج من خطييته مثل يوم ولدته امه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غسل ميتا فليغتسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا احمد بن خالد الوهبي، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن عايشة، قالت لو كنت استقبلت من الامر ما استدبرت ما غسل النبي صلى الله عليه وسلم غير نسايه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ہائے سر! ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہو گا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عايشة، قالت رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من البقيع فوجدني وانا اجد صداعا في راسي وانا اقول واراساه فقال " بل انا يا عايشة واراساه " . ثم قال " ما ضرك لو مت قبلي فقمت عليك فغسلتك وكفنتك وصليت عليك ودفنتك
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن الازهر الواسطي، حدثنا ابو معاوية، حدثنا ابو بردة، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال لما اخذوا في غسل النبي صلى الله عليه وسلم ناداهم مناد من الداخل لا تنزعوا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎۔
حدثنا يحيى بن خذام، حدثنا صفوان بن عيسى، انبانا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن علي بن ابي طالب، قال لما غسل النبي صلى الله عليه وسلم ذهب يلتمس منه ما يلتمس من الميت فلم يجده . فقال بابي الطيب طبت حيا وطبت ميتا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں ( بئر غرس ) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا ۔
حدثنا عباد بن يعقوب، حدثنا الحسين بن زيد بن علي بن الحسين بن علي، عن اسماعيل بن عبد الله بن جعفر، عن ابيه، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انا مت فاغسلني بسبع قرب من بيري بير غرس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نہیں کفنایا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة اثواب بيض يمانية ليس فيها قميص ولا عمامة فقيل لعايشة انهم كانوا يزعمون انه قد كان كفن في حبرة . فقالت عايشة قد جاءوا ببرد حبرة فلم يكفنوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، قال هذا ما سمعت من ابي معيد، حفص بن غيلان عن سليمان بن موسى، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث رياط بيض سحولية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ۱؎ جوڑے میں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، قال كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب قميصه الذي قبض فيه وحلة نجرانية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد الله بن رجاء المكي، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير ثيابكم البياض فكفنوا فيها موتاكم والبسوها