Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ہے ۱؎۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا ابن وهب، انبانا هشام بن سعد، عن حاتم بن ابي نصر، عن عبادة بن نسى، عن ابيه، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خير الكفن الحلة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولي احدكم اخاه فليحسن كفنه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا محمد بن الحسن، حدثنا ابو شيبة، عن انس بن مالك، قال لما قبض ابراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " لا تدرجوه في اكفانه حتى انظر اليه " . فاتاه فانكب عليه وبكى
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حبيب بن سليم، عن بلال بن يحيى، قال كان حذيفة اذا مات له الميت قال لا توذنوا به احدا اني اخاف ان يكون نعيا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم باذنى هاتين ينهى عن النعى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسرعوا بالجنازة فان تكن صالحة فخير تقدمونها اليه وان تكن غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو ( باری باری ) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا حماد بن زيد، عن منصور، عن عبيد بن نسطاس، عن ابي عبيدة، قال قال عبد الله بن مسعود من اتبع جنازة فليحمل بجوانب السرير كلها فانه من السنة ثم ان شاء فليتطوع وان شاء فليدع
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان سے چلو ۔
حدثنا محمد بن عبيد بن عقيل، حدثنا بشر بن ثابت، حدثنا شعبة، عن ليث، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه راى جنازة يسرعون بها قال " لتكن عليكم السكينة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو ۔
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن راشد بن سعد، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسا ركبانا على دوابهم في جنازة فقال " الا تستحيون ان ملايكة الله يمشون على اقدامهم وانتم ركبان
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص ( آگے پیچھے، دائیں، بائیں ) جہاں چاہے چلے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد بن عبيد الله بن جبير بن حية، حدثني زياد بن جبير بن حية، سمع المغيرة بن شعبة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الراكب خلف الجنازة والماشي منها حيث شاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، وهشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر يمشون امام الجنازة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، وهارون بن عبد الله الحمال، قالا حدثنا محمد بن بكر البرساني، انبانا يونس بن يزيد الايلي، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر و عمر وعثمان يمشون امام الجنازة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا عبد الواحد بن زياد، عن يحيى بن عبد الله التيمي، عن ابي ماجدة الحنفي، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الجنازة متبوعة وليست بتابعة ليس منها من تقدمها
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔
حدثنا احمد بن عبدة، اخبرني عمرو بن النعمان، حدثنا علي بن الحزور، عن نفيع، عن عمران بن الحصين، وابي، برزة قالا خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فراى قوما قد طرحوا ارديتهم يمشون في قمص فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابفعل الجاهلية تاخذون - او بصنع الجاهلية تشبهون - لقد هممت ان ادعو عليكم دعوة ترجعون في غير صوركم " . قال فاخذوا ارديتهم ولم يعودوا لذلك
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو تو اس ( کے دفنانے ) میں دیر نہ کرو
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني سعيد بن عبد الله الجهني، ان محمد بن عمر بن علي بن ابي طالب، حدثه عن ابيه، عن جده، علي بن ابي طالب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا توخروا الجنازة اذا حضرت
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، انبانا معتمر بن سليمان، قال قرات على الفضيل بن ميسرة عن ابي حريز، ان ابا بردة، حدثه قال اوصى ابو موسى الاشعري حين حضره الموت فقال لا تتبعوني بمجمر . قالوا له او سمعت فيه شييا قال نعم من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، انبانا شيبان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى عليه ماية من المسلمين غفر له
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا بكر بن سليم، حدثني حميد بن زياد الخراط، عن كريب، مولى عبد الله بن عباس قال هلك ابن لعبد الله بن عباس فقال لي يا كريب قم فانظر هل اجتمع لابني احد فقلت نعم . فقال ويحك كم تراهم؟ اربعين؟ قلت: لا. بل هم اكثر . قال: فاخرجوا بابني فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من اربعين من مومن يشفعون لمومن الا شفعهم الله
مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني، عن مالك بن هبيرة الشامي، - وكانت له صحبة - قال كان اذا اتي بجنازة فتقال من تبعها جزاهم ثلاثة صفوف ثم صلى عليها وقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما صف صفوف ثلاثة من المسلمين على ميت الا اوجب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی ، اور اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة فاثني عليها خيرا فقال " وجبت " . ثم مر عليه بجنازة فاثني عليها شرا فقال " وجبت " . فقيل يا رسول الله قلت لهذه وجبت ولهذه وجبت فقال " شهادة القوم والمومنون شهود الله في الارض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة - فاثني عليها خيرا في مناقب الخير فقال " وجبت " . ثم مروا عليه باخرى فاثني عليها شرا في مناقب الشر فقال " وجبت انكم شهداء الله في الارض